سیرت النبی ،نرالی شان کا مالک

اب سیف نے ان سے کہا ۔

میں نے    تمہں جو کچھ بتا یا ہے وہ واقعہ اسی طرح ہے ۔ اب تم اپنے پو تے کی حفا ظت کر و اوے یہو دیو ں سے بچا ئی رکھو اس لیے کہ وہ اس کے دشمن ہیں یہ اور با ت ہے کہ اللہ تعا لیٰ ہر گز  ان لو گو ں کو ان پر قا بو نہیں پا نے دے گا اور میں نے جو کچھ  آپ کو بتا یا ہے اس کا پنے قبیلے والو ں سے ذکر نہ کر نا نجھے ڈر ہے کہ ان با تو ں کی وجہ سے ان لو ھو ں میں حسد اور جلن نہ پیدا ہو جا ئے ۔یہ لو گ سو چ سکتے ہیں یہ عزت اور بلند ی آخر انہیں کیو ں ملنے والی ہے یہ لو گ ان کے راستے میں رکا و ٹیں کھڑ ی کر یں گے اگر یہ لو اس وقت تک  زندہ یہ رہے تو ان کی اولا دیں یہ کا م کر یں گی اگر مجھے یہ معلو م نہ ہو تا کہ اس نبی کے ظہو ر سے پہلے ہی مو ت مجھے   آلے گی تو میں اپنے اونٹو ں اور قا فلے کے ساتھ روانہ ہو تا اور ان کی سلطنت کے مر کز یچرب پہنچتا ، کیو نکہ میں اس کتا ب میں یہ با ت پا تا ہو ں کہ شہر یچر ب ان کی سلطنت کا مر کز ہو گا ، ان کی طا قت کا سر چشمہ ہو گا ، ان کی مدد  اور نصرت کا ٹھکا نہ ہو گا اور ان کی وفا ت کی جگہ ہو گی اور انہیں وفن بھی یہیں کیا جا ئے گا اور ہما ری کتا ب پچھلے علو م سے بھر ی پڑ ی ہے ۔ مجھے پتا ہے کہ اگر میں اسی وقت ان کی عظمت کا اعلا ن کر وں تو خو د ان کے لیے  اور میرے لیے خطرا ت پیدا ہو جا ئیں گے ۔ یہ ڈر نہ  ہو تا تو میں اسی وقت ان کے با رے میں یہ تما م  با تیں سب کو بتا دیتا ۔ عر بو ں کے سا منے ان کی سر بلند ی اور اونچے رتبے کی داستا نیں سنا دیتا ، لیکن میں نے یہ راز تمہیں   بتا یا ہے تمہا رے سا تھیو ں میں سے بھی کسی کو نہیں بتا یا ۔

اس کے بعد اس نے عبد المطلب  کے سا تھیو ں کو بلا یا ، ان میں سے ہر ایک  کو دس حبشی با ند یو ں اور دھا ری دار یمنی چا دریں بڑ ی مقدا ر میں سو نا چا ند ی ، سوسو اونٹ اورع عنبر کے بھر ے ڈبے دییے ۔ پھر عبد المطلب کو اس سے دس گنا زیا دہ دیا اور بو لا ۔

سا ل گز رنے پر میر ے پا س ان کی خبر لے کر آنا اور ان کے حا لا ت بتا نا ۔

سا ل گز ر نے سے پہلے ہی اس با دشا ہ کا انتقا ل ہو گیا ۔

عبد المطلب اکثر اس با دشا ہ کا ذکر کیا کر تے تھے ، اپ کی عمر آٹھ سال کی ہو ئی تو عبد المطلب کا انتقا ل ہو گیا ۔ اس طرح ایک عظیم سر ہر ست کا سا تھ چھو ٹ گیا ۔ اس وقت عبد المطلب کی عمر 95 سال تھی ۔  تا ریخ کی بعض کتا بو ں میں ان کی عمر اس سے بھی زیا دہ لکھی ہے ۔

جس وقت عبد المطلب کا انتقا ل ہو ا ۔ آپ ان کی چا ر پا ئی کے پا س مو جو د تھے ، آپ رونے لگے عبد المطلب کو وجو ن کے مقا م پر ان کے دادا قصی کے پا س دفن کیا گیا ۔

مر نے سے پہلے انہو ں نے نبی کر یم ﷺ کو اپنے بیٹے ابو طا لب کے حو الے کیا ۔ اب ابو طا لب آپ کے نگرا ن  ہو ئے ۔

انہیں بھی آپ ﷺ سے بے تحا شا محبت ہو گئی ۔

ان کے بھا ئی عبا س اور زبیر بھی آپ کا بہت خیا ل رکھتے تھے ۔ پھر زبیر بھی انتقا ل کر گئے تو آپ کی نگرا نی آپ کے چچا ابو طا لب ہی کر تے  رہے ۔

انہیں بھی نبی کر یمﷺ سے بہت محبت تھی ۔ جب انہو ں نے اپ کی بر کا ت دیکھیں ، معجزے دیکھے تو ان کی محبت میں اور اضا فہ ہو گیا یہ ما لی اعتبا ر سے کمزور تھے ۔ دو  وقت سا رے گھرا نے کو پیٹ بھر کر کھا نا نہیں ملتا تھا ۔ لیکن جب نبی کر یم ﷺ ان کے سا تھ  کھا نا کھا تے تو تھوڑا کھا نا بھی ان سب کے لئے کا فی ہو جا تا سب کے پیٹ بھر جا تے اسی لیے  جب دوپہر یا رات کے کھا نے کا وقت ہو تا  تو اور سب دستر خوا ن پر بیٹھتے تو ابو طا لب ان سے کہتے ابھی کھا نا شروع نہ کرو میرا بیٹا آ جا ئے پھر شروع کر نا پھر آپ تشر یف لے آتے اور ان کے سا تھ بیٹھ جا تے ۔ آپ کی بر کت اس طرح ظا ہر ہو تی کہ سب کے سیر ہو نے کے بعد بھی کھا نا بچ جا تا ، اگر دودھ ہو تا تو پہلے نبی کر یمﷺ کو پینے کے  لیے دیا جا تا پھر ابو طا لب کے بیٹے پیتے یہا ں تک کہ ایک ہی پیا لے سے سب کے سب دودھ پی لیتے خو ب سیر ہو جا تے اور دودھ پھر بھی بچ جا تا ابو طا لب کے لیے ایک      تکیہ رکھا رہتا تھا  وہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے  رسو ل اللہ ﷺ تشر یف لا تے تو آکر سید ھے اس تکیے کے ساتھ بیٹھ جا تے یہ دیکھ کر ابو طا لب کہتے میر ے بیٹے کو بلند مر تبے کا احسا س ہے ۔ ایک با ر مکہ میں قحط پڑ گیا ، با رش با لکل نہ ہو ئی لو گ ایک دوسرے سے کہتے تھے لا ت اور عزی سے با رش کی دعا کرو کچھ کہتے تھے تیسرے بڑ ے بت منا ت پر بھرو  سہ کر و اسی دوران ایک بو ڑ ھے نے کہا ۔ تم حق اور سچا ئی سے بھا گ رہے ہو تم میں ابرا ہیم اور اسما عیل کی نشا نیا ں مو جو د ہیں تم اسے چھو ڑ کر غلط راستے کیو ں جا رہے ہو اس پر لو گو ں نے اس سے کہا ۔

کیا آپ کی مراد ابو طالب سے ہے ؟

اس نے کہا ۔ ہا ں میں یہی کہنا چا پتا ہو ں ۔

Leave a Reply