You are currently viewing سیرت النبی ،شام کا سفر
Sirat al-Nabi Journey to Syria

سیرت النبی ،شام کا سفر

اب سب لو گ ابو طا لب کے گھر کی طرف چلے وہا ں پہنچ کر انہو ں نے دروا زے پر دستک دی تو ایک خو بصور ت آدمی با ہر آیا اس نے تہمد لپیٹ رکھا تھا ، سب لو گ اس کی طرف بڑ ھے اور بو لے اے ابو طا لب وادی میں قحط پڑا ہے ، بچے بھو کے مر رہے ہیں اس لیے آؤ اور ہما رے لیے با رش کی دعا کرو ۔

چا نچہ ابو طالب با ہر آئے ، ان کے سا تھ رسو ل اللہ ﷺ بھی تھے ، آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے اند ھیرے میں سو رج نکل آیا ہو ابو طا لب کے ساتھ اور بھی بچے تھے لیکن انہو ں نے آپ ہی کا با زو پکڑا ہو ا تھا اس کے بعد ابو طا لب نے  آپ کی انگلی پکڑ ر کر کعبے کا طوا ف کیا ۔ یہ طوا ف کر رہے تھے  اور دوسرے لو آسما ن پر نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے ، جہا ں با دل کا ایک ٹکرا بھی نہیں تھا لیکن پھر اچا نک ہر طرف سے با دل گھر گھر کر آنے لگے ، اس قدر ذور دار با رش ہو ئی کی شہر اور جنگل سیرا ب ہو گئے ۔

ابو طا لب ایک با ر ذی الحجا ز  کے میلے میں گئے یہ جگہ تقر یبا 8 کلو میٹر دور ہے ۔ ان کے سا تھ رسو ل اللہ ﷺ بھی تھے ایسے میں ابو طا لب کو پیا س محسو س ہو ئی ۔انہو ں نے آپ سے کہا بھتیجے مجھے پیا س لگی ہے یہ با ت انہو ں نے اس لیے نہیں کہی تھی کہ آپ کے پا س پا نی تھا اپنی بے چینی ظا ہر کر نے کے لیے کہی تھی ۔ چچا کی با ت سن کر آپ فورا سوا ری سے اتر آئے اور بو لے چچا جا ن آپ کو پیا س لگی ہے   انہو ں نے کہا ہا ں بھتیجے پیا س لگی ہے یہ سنتے ہی آپ نے ایک پتھر پر اپنا پا ؤ ں ما را ۔ جو نہی آپ نے پتھر پر پا ؤ ں ما را اس کے نیچے سے صا ف اور عمدہ پا نی پھو ٹ نکلا ، انہو ں نے ایسا پا نی پہلے کبھی نہیں پیا تھا خو ب سیر ہو کر پیا ۔ پھر انہو ں نے پو چھا :

بھتیجے کیا آپ سیر ہو چکے ہیں ؟

نبی کر یم ﷺ نے فر ما یا :

ہاں !

آپ نے اسی جگہ اپنی ایڑ ی پھر ما ری اور وہ جگہ دوبا رہ ایسی خو شک ہو گئی جیسے پہلے تھی ۔ آپﷺ چند سال دوسرے چچا زبیر بن عبد المطلب کے سا تب  بھی رہے ۔ اس ز مانے میں ایک مر تبہ حضو ر ﷺ اپنے ان چچا کے سا تھ ایک قا فلے میں یمن تشر یف لے گئے ۔ را ستے میں ایک وادی سے گذر ہو ا ۔ اس وا دیمیں ایک سر کش اونٹ رہتا تھا ۔ گز رنے والو ں کا راستہ روک لیتا تھا مگر جو نہی اس نے نبی کر یم ﷺ کو دیکھا تو بیٹھ گیا اور زمین سے اپنی چھا تی رگڑنے لگا ۔ آپ اپنے اونٹ سے اوتر کر اس پر سوار ہو گئے اب وہ اونٹ آُ کو لے کر چلا اور وا دی کے پا ر تک لے گیا ۔ اس کے بعد آپ نے اس اونٹ کو چھو ڑ دیا ۔ یہ قا فلہ جب سفر سے وا پس لو ٹا تو ایک ایسی وادی سے اس کا گزر ہو ا جو طو فا نی پا نی سے بھر ی ہو ی تھی ، پا نی مو جیں ما ر رہا تھا ۔ یہ دیکھ کرآپ نے قا فلے والو ن سے فر ما یا :

” میر ے پیچھے پیچھے آؤ ۔” پھر آپ اطمینا ن سے وادی میں دا کل ہو گئے با قی لو گ بھی آپ کے پیچھے تھے ۔ اللہ تعا لیٰ نے اپنی قدرت سے پا نی خو شک کر دیا اور آپ پو رے قا فلے کو لیے پا ر ہو گئے ۔  قا فلہ مکہ پہنچا تو لو گو ں نے یہ حیر ت نا ک وا قعا ت بیان کئے ۔لو گ سن کر بو ل اٹھے :

اس لڑ کے کی تو شا ن ہی نرا  لی ہے ۔

ابن ہشام لکھتے ہیں ، بنو لہب کا ایک شخص  بہت بڑا قیا فہ شنا س تھا یعنی لو گو ں کی شکل و صورت دیکھ کر ان کے حا لا ت اور مستقبل کے با رے میں اندا زہ لگا یا کر تا تھا ۔ مکہ آتا تو لو گ اپنے بچو ں کو اس کے پا س لو تے وہ انہیں دیکھ دیکھ کر  ان کے با رے میں بتا تا تھا ۔ ایک با ر یہ آیا تو ابو طا لب آپ کو بھی اس کے پا س لے گئے اور اس وقت آپ ابھی نو عمر لڑ کے ہی تھے ۔ قیا فیہ شنا س نے آپ کو ایک نظر دیکھا ، پھر دوسروے بچوں کو دیکھنے لگا ۔ فا رغ ہو نے کے بعد اس نے کہا :

“اس لڑ کے کو میر ے پا س لا و “

ابو طا لب نے یہ با ت محسو س کر لی تھی کہ قیا فہ شنا س نے ان کے بھتیجے کو عجیب نظرو ں سے دیکھا ہے لہذا وہ آپ کو لے کر وہا ں سے  نکل آئے تھے ۔ جب قیا فہ شنا س کو معلو م ہو اکہ آپ وہا ں مو جو د نہیں ہیں تو وہ چیخنے لگا

” تمہا را برا ہو اس لڑ کے کو میر ے پا س لا ؤ جسے میں نے ابھی دیکھا ہے اللہ کی قسم وہ بڑ ی شا ن وا لا ہے ۔

ابو طا لب نے نکلتے ہو ئے اس کے یہ الفا ظ سن لیے تھے

ابو طا لب نے تجا رت کی غر ض سے شا م جا نے کا ارادہ کیا ۔ نبی کر یم ﷺ نے بھی سا تھ جا نے کا شو ق ظا ہر فر ما یا بعض روا یا ت میں آیا ہے کہ آپ نے جا نے کے لئے خا ص طو ر پر فر ما ئش کی ۔

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply