سیرت النبی ، حضرت محمد غالب آئے

عبد المطلب نے پو چھا لڑکے تم کو ن ہو حضور چونکہ اس وقت تک قد نکا ل چکے تھے جس وجہ سے عبدالمطلب پہچان نہ سکے آپ ﷺ کا قد تیزی سے بڑھ رہاتھا جو اب میں آپ ﷺ نے فر ما یا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہو ں یہ سن کر عبد المطلب بو لے تم پر میری جا ن قربا ن میں ہی تمھا را دادا عبد المطلب ہو ں پھر انہو ں نے آپﷺ کو آٹھا کر سینے سے لگا یا اور رونے لگ گئے

آپ ﷺ کو گھو ڑے پر اپنے آگے بیٹھا یا اور مکہ کہ طر ف چل پڑے گھر آکر انہو ں نے بکریا ں اور گا ئے ذبح کی اور مکہ والو ں کو دعوت دی آپ ﷺ کے مل جا نے پر حلیمہ سعدیہ حضرت آمنہ کے پا س آئیں تو انہو ں نے پو چھا حلیمہ آپ بچے کو کیو ں لے آئیں آپ کی تو خو اہش تھی کہ آپ کے پا س اور رہیں ؟

انہو ں نے جو اب دیا یہ اب بڑے ہو گئے ہیں اور اللہ کی قسم میں اب اپنی ذمہ داری پو ری کر چکی ہو ں میں خو ف محسو س کر تی ہو ں انہیں کو ئی حا دثہ نہ پیش آجا ئے لہذا انہیں آپ کے سپرد کر تی ہو ں حضرت آمنہ کو یہ جو اب سن کر حیرت ہو ئی بولیں :

مجھے سچ سچ بتا و ما جرا کیا ہے ؟تب انہوں نے سا را حا ل کہہ سنا یا حلیمہ سعد یہ دراصل کئی عجیب و غریب واقعات دیکھ چکی تھیں پھر سینہ چاک ہو جا نے والا واقعہ پیش آیا تو آپ ﷺ کو فو ری طور پر واپس کر نے پر مجبور ہو گئیں چند واقعات حلیمہ سعد یہ اس طر ح بیا ن کر تی ہیں :

ایک مر تبہ یہو دی کی ایک جما عت میرے پا س سے گزری یہ لو گ آسما نی کتا ب تو رات کو ما ننے کا دعو ی کر تے تھے ان میں نے ایک سے کہا کہ کیا آپ لو گ میرے بیٹے کے با رے میں کچھ بتا سکتے ہیں  ساتھ ہی میں حضور اکرم کی پیدا ئش کے با رے میں تفصیلا ت سنا ئیں یہو دی تفصیلا ت سن کر آپس میں کہنے لگے اس بچے کو قتل کر دینا چا ہیئے یہ کہہ کر انہو ں نے پو چھا کہ کیا یہ بچہ یتیم ہے ؟ میں نے ان کی با ت سن لی کہ قتل کا ارادہ کر رہے ہیں سو میں نے جلدی سے اپنے شوہر کی طر ف اشا رہ کیا کہ نہیں یہ رہے اس بچے کے با پ تب انہو ں نے کہا اگر یہ بچہ یتیم ہو تا تو  ضرور اسے قتل کر دیتے

یہ با ت انہو ں نے اس لئے کہی کہ پرا نی کتا بو ں میں پڑھ رکھا تھا کہ آخری نبی آنے والے ہیں ان کا دین سا رے عالم میں پھیل جا ئے گا ہر طر ف ان کا بو ل با لا ہو گا ان کی پیدا ئش اور بچپن کی یہ یہ علا ما ت ہو ں گیاور چو نکہ وہ یتیم ہو ں گے حلیمہ نے ان سے یہ کہہ دیا کہ یہ بچہ یتیم نہیں ہے تو انہو ں نے خیال کیا کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے اور قتل کا ارادہ ترک کر دیا

اسی طر ح ان کے ساتھ ایک واقعہ یہ پیش آیا ایک مر تبہ وہ آپ ﷺ کو عکا ظ کے میلے میں لے آئیں جا ہلیت کے دور میں یہا ں بہت مشہو ر میلہ لگتا تھا یہ میلہ طا ئف اور نخلہ کے درمیا ن میں لگتا تھا عرب کے لو گ حج کر نے آتے تو شوال کا مہینہ اس میلے میں گزارتے کھیلتے کو دتے اور اپنی بڑائیا ں بیا ن کر تے حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو لئے با زار میں گھو م رہی تھیں کہ ایک کا ہن کی نظر آپ ﷺ پر پڑی اسے آپ ﷺ میں نبو ت کی تما م نشا نیا ں نظر آگئیں اس نے پکا را لو گو ں اس بچے کو ما ر دوحلیمہ اس کا ہن کی با تیں سن کرگھبراگئیں اس طر ح اللہ پا ک نے حضور کی حفا ظت فر ما ئی میلے میں لو گو ں نے کا ہن کی آواز سن کر ادھر ادھر دیکھا کہ کس بچے کو قتل کر نے کے لئے کہا گیا ہے مگر انہیں وہا ں کو ئی بچہ نظر نہیں آیا اب لو گو ں نے کا ہن سے پو چھا کیا بات ہے کس بچے کو ما ر ڈالنے کے لئے کہہ رہے ہیں اس نے ان لو گو ں کو بتا یا میں نے ابھی ایک لڑکے کو دیکھا ہے معبو دں کی قسم وہ تمھا ری دین کے ما رنے والوں کو قتل کر ے گا اور وہ تم سب پر غا لب آئے گا

یہ سن کر لو گ آپ ﷺ کی تلا ش ادھر ادُھر دوڑے لیکن نا کا م رہے حلیمہ آپ ﷺ کو لے کر واپس آرہی تھیں کہ ذی الحجا ز سے ان کا گزر ہو ا یہا ں بھی میلہ لگا ہو اتھا اس با زار میں بھی ایک نجو می تھا لو گ اس کے پا س بچوں کو لے کر آتے تھے وہ انہیں دیکھ کر قسمت کے با رے میں اندازے لگا تا تھا حلیمہ سعدیہ اس کے نزدیک سے گزری تو نجو می کی نظر آپ ﷺ پر پڑی نجو می کو آپ ﷺ کی مہر نبو ت نظر آگئی ساتھ ہی آپﷺ کی آنکھو ں کی خا ص سرخی اس نے دیکھ لی وہ چلا اٹھا اے عرب کے لو گو ں اس لڑکے کو قتل کر دو یہ بے شک تمھا رے دین کے ما ننے والوں کو قتل کر ے گا تمھا رے بتو ں کو قتل کر ئے گا تمھا رے بتو ں کو تو ڑے گا اور تم پر غالب آئے گا یہ کہتے ہو ئے وہ آپ کی طر ف جھپٹا لیکن اس وقت وہ پا گل ہو گیا اور اسے پا گل پن میں مر گیا

ایک اور واقعہ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حبشہ کے عیسا ئیو ں کی جاعت رسول اکرم ﷺ کے پا س گزری اس وقت آپ ﷺ حلیمہ سعدیہ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ کے حو الے کر نے جا رہی تھیں ان عیسائیوں نے آپ ﷺ کے مو نڈھو ں کے پا س مہر نبو ت دیکھ لیا آپ ﷺ کی آنکھو ں کی سر خی کو بھی دیکھا انہو ں نے حلیمہ سے پو چھا کیا اس بچے کی آنکھو ں میں کو ئی تکلیف ہے

انہو ں نے جو اب دیا نہیں کو ئی تکلیف نہیں یہ سر خی تو ان کی آنکھو ں میں قدرتی ہے  ان عیسا ئیو ں نے کہا اس بچے کو ہما رے حو الے کر دو ہم اسے اپنے ملک لے جا ئیں یہ بچہ پیغمبر اور بڑی شان والا ہے ہم اس کے با رے میں سب کچھ جا نتے ہیں

حلیمہ سعدیہ یہ سنتے ہی جلدی سے دور چلی گئیں یہا ں تک کہ آپ ﷺ کو آپ ﷺکی والدہ کے پا س پہنچا دیا

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply