سیرت النبی ,سو اونٹوں کی کہانی

عبد المطلب کو یہ حکم اس وقت یا د آیا جب وہ اپنی منت بھو ل چکے تھے پہلے خو اب میں کہا گیا کہ اپنی منت پو ری کر و انہو ں نے ایک مینڈھا ذبح کر کے لو گو ں کو کھلا دیا پھر خو اب آیا اس سے بڑی پیش کر و پھر انہو ں نے بیل زبح کر کے کھلا دیا خو اب میں آیا کہ اس سے بڑی پیش کر و انہو ں نے اونٹ ذبح کیا پھر خو اب آیا کہ اس سے بھی بڑی پیش کرو انہو ن نے پو چھا  اس سے بڑی کیا ہے تب کہا کہ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کر وجیسا کہ تم نے منت ما نگی تھی اب انہیں اپنی منت یا د آئی اپنے بیٹوں کو جمع کیا ان سے منت کا ذکر کیا سب کے سر جھک گئے کو ن خو د کو ذبح کر واتا آخر کا ر عبد اللہ بو لے کہ ابا جا ن آپ مجھے ذبح کر دیں یہ سب سے چھو ٹے تھے سب سے زیا دہ خو بصو رت تھے عبد المطلب کو محبت بھی سب سے زیا دہ ان کے ساتھ ہی تھی لہذا انہو ں نے قرعہ اندازی کر نے کا فیصلہ کیا تما م بیٹوں کے نا م لکھ کر قرعہ ڈالا گیا عبد اللہ کا نا م نکلا اب انہو ں نے چھو ری لی عبد اللہ کو با زو سے پکڑا اور انہیں ذبح کر نے کے لئے نیچے لٹا لیا جو ہی با پ نے ذبح کر نے کے لئے بیٹے کو لٹایا عبا س سے ضبط نہ ہو سکا اور آگے بڑھے اور بھا ئی کو کھنچ لیا اس وقت خو د بھی چھو ٹے تھے ادھر با پ نے عبد اللہ کو اپنی طر  ف کیا اس ادھر اُدھر کے چکر میں عبد اللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں ان خرا شو ں کے نشا نا ت مر تے دم تک با قی رہے

آپ اس طر ح بیٹے کو ذبح نہ کر یں اس کی ما ں کی زندگی خراب ہو جا ئے گی اپنے رب کو را ضی کرنے کے لئے بیٹے کا فد یہ دے دیں اب سوال یہ تھا کہ فد یہ کیا دیا جا ئے اس کی تر کیب بتا ئی گئی کہ کا غذ کے ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جا ئیں دوسری پر چی پر عبد اللہ کا نا م لکھا جا ئے اگر اونٹوں والی پر چی نکلی تو اونٹ قربا ن کئے جا ئیں گے اگر عبد اللہ والی پر چی نکلی تو دس اونٹ بڑ ھا دیئے جا ئیں گے ایسا ہی کیا گیا ہر با ر عبد اللہ کا نا م نکلتا ہر با ر دس اونٹ بڑھا دیئے جا تے یہا ں تک کہ جب اونٹو ں کی تعداد سو تک پہنچی تو کہیں جا کر اونٹو ں والی پر چی نکلی اس طر ح ان کی جا ن کے بد ل سو اونٹ قر با ن کئے گئے اب عبد المطلب کو پورا یقین ہو گیا کہ اللہ نے عبد اللہ کے بد لے سو اونٹوں کی قر با نی منظو ر کر لی ہے انہو ں نے کعبے کے پا س سو اونٹ قربا ن کئے اور کسی کو کھا نے سے نہ رو کا سب انسا نو ں جا نو روں اور پر ندوں نے ان کو کھا یا

اما م زہری کہتے ہیں کہ عبد المطلب پہلے آدمی ہیں جنہو ں نے آدمی کی قیمت سو اونٹ دینے کا طر یقہ شروع کیا اس سے پہلے دس اونٹ دیئے جا تے تھے اس کے بعد یہ طر یقہ سا رے عرب میں جا ری ہو گیا گو یا قا نو ن بن گیا کہ آدمی فد یہ سو اونٹ ہیں نبی کر یم کے سامنے یہ فد یہ آیا تو آپ ﷺ نے اس کی تصدیق کی یعنی فر ما یا کہ یہ طر یقہ درست ہے اور اسے بنیا د پر نبی کر یم ﷺ فر ما تے ہیں میں دو ذبیحو ں حضرت اسما عیل اورحضرت عبدا للہ کی اولا د ہو ں

حضرت عبد اللہ قریش میں سب سے زیا دہ حسین تھے ان کا چہرہ روشب ستا رہ کی ما نند تھا قریش کی کئی لڑکیاں آپ سے شا دی کر نا چا ہتی تھیں مگر خضرت عبد اللہ کی شا دی خضرت آمنہ سے ہو ئی خضرت آمنہ وہب بن عبد منا ف بن زہر ہ کی بیٹی تھیں شا دی کے وقت حضرت عبد اللہ  کی عمر اٹھا رہ سا ل تھی یہ شا دی کے لئے اپنے والد کے ساتھ جا رہے تھے راستے میں ایک عورت کعبہ کے پا س بیٹھی نظر آئی یہ عو رت ورقہ بن نو فل کی بہن تھی ورقہ بن نو فل قریش کے بڑے عالم تھے ورقہ بن نو فل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہو ر ہو نے والا ہے اور ان کی نشا نیو ں میں سے ایک نشا نی یہ ہو گی کہ ان کے والد کے چہرے پر نبوت کا نو ر چمکتا ہو گا اس نے عبد اللہ دیکھا ان کے ذہین میں فو را یہ با ت آئی اس نے سو چا ہو نہ ہو یہ پیدا ہو نے والے نبی کے با پ ہو ں گے اس نے کہا کہ اگر تم مجھ سے شا دی کر لو تو میں تمھیں بد لے میں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمھا ری جا ن کے بد لے میں دیئے گئے ہیں اس پر انہو ں نے جو اب دیا کہ میں اپنے با پ کے ساتھ ہو ں ان کی مر ضی کے خلا ف نہیں کر سکتا نہ ان سے الگ ہو سکتا ہو ں میرے والد با عزت آدمی ہیں اور اپنی قوم کے سردار ہیں بہر حا ل آپ کی شادی حضرت آمنہ سے ہو گئی آپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبا ر سے افضل تھیں خضرت آمنہ خضرت عبداللہ کے گھر آئیں

آپ فر ما تی ہیں:

جب میں ما ں بننے والی تھی تو میرے پا س ایک شخص آیا یعنی ایک فر شتہ انسا نی شکل میں آیا اس وقت میں جا گنے اور سو نے کی حا لت میں تھی اس نے کہا کہ کیا تمھیں معلو م ہے تم اس امت کی سردار اور نبی کی ما ں بننے والی ہو اس کے بعد پھر وہ اس وقت آیا جب نبی کر یم ﷺ پیدا ہو ئے اس مر تبہ اس نے کہا جب تمھارے پا س پیدائش  ہو تو کہنا کہ میں اس بچے کے لئے اللہ کی پنا ہ چا ہتی ہو ں ہر حسد کر نے والے کے شر سے اور بر ائی سے

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply