سیرت النبی ,سو اونٹوں کی کہانی

پھر تم اس بچے کانا م محمد رکھنا کیو نکہ ان کا نا م تو رات میں احمد ہے اور زمین اور آسما ن والے اس کی تعریف کر تے ہیں جب کہ قرآن میں ان کا نا م محمد ہے اور قر آن ان کی کتا ب ہے (البدایہ والہنا یہ)

ایک روایت کے مطا بق فر شتے نے ان سے کہا تم وقت کے سردار کی ما ں بننے والی ہواس بچے کی نشا نی یہ ہو گی کہ اس کے ساتھ نو رظا ہر ہو گا جس سے ملک شام اور بصری کے محلا ت بھی بھر جا ئیں گے جب وہ بچہ پیدا ہو اتو ان کا نا م محمد رکھنا کیو نکہ تو رات میں ان کا نا م احمد ہے اور زمین اور آسما ن والے اس کی تعریف کر تے ہیں جب کہ قرآن میں ان کا نا م محمد ہے اور قر آن ان کی کتا ب ہے (البدایہ والہنا یہ)

حضرت عبد اللہ کے چہرے پر جو نو ر چمکتا تھا شا دی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے پر بھی آگیا تھا اما م زہری فر ما تے ہیں حا کم نے یہ روا یت بیا ن کی ہے اور اس کو صحیح قراد دیا گیا ہے کہ صحا بہ اکرام نے رسوال اللہ سے پو چھا  کہ اے اللہ کے رسول میں اپنے با رے میں کچھ بتا ئیں آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا :

میں اپنے با پ ابرا ہیم کہ دعا ہو ں اپنے بھا ئی عیسی کی بشارت ہو ں اور خوشخبری ہو ں جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہو ں نے دیکھا گو یا ان میں سے ایک نو رظا ہر ہو ا ہے جس سے ملک شام اور بصری کے محلا ت روشن ہو گئے

حضرت آمنہ سے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فر ما یا تھا میرے اس بچے کہ شان نرالی ہے میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کو ئی تھکن اور بو جھ محسو س  نہیں ہو ئی

حضرت عیسی وہ آخری نبی ہیں جنہو ں نے آپﷺ کی آمد کی خو شخبر ی سنا ئی اس بشا رت کا ذکر قرآن میں بھی ہے سورہ صف میں اللہ پا ک ارشاد فر ما تے ہیں : اور اس طرح وہ وقت بھی قا بل ذکرہے جب عیسی ابن مر یم نے فر ما یا کہ اے بنی اسرائیل میں تمھا رے پا س اللہ کی طر ف سے آیا ہو ں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے میں اس کی تصدیق کر نے والا ہو ں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہے ان کا نا م مبا رک احمد ہو گا میں ان کی بشا رت دینے والا ہو ں

اب چو نکہ حضرت عیسی یہ بشا رت سنا چکے تھے اس لئے ہر دور کے لو گ آپ ﷺ کی آمد کا بے چینی سے انتظا ر کر رہے تھے ادھر آپ ﷺ کی پید ائش سے پہلے ہی حضرت عبد اللہ انتقا ل کر گئے سا بقہ کتب میں آپ ﷺکی نبو ت کی ایک علا مت یہ بھی بتا ئی جا تی ہے کہ آپﷺ کے والد کا انتقال آپ ﷺ کی ولا د سے پہلے ہو جا ئے گا حضرت عبد اللہ ایک تجا رتی قا فلے کے ساتھ تجا رت کے لئے گئے تھے اس دوران بیما ر ہو گئے اور کمزور ہو کر واپس لو ٹے قا فلہ مدینہ منو رہ سے گزرا تو حضرت عبد اللہ اپنے ننھیال یعنی بنو نجا ر کے ہا ں ٹھر ے ان کی والدہ بنو نجا ر سے تھیں ایک ما ہ تک بیما ر رہے اور پھر انتقال کر گئے انہیں یہیں دفن کر دیا گیا

تجا رتی قا فلہ جب حضرت عبد اللہ کے بغیر مکہ پہنچا اور عبد المطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے بیما ر ہو گئے ہیں اور مد ینہ منو رہ میں اپنے ننھیا ل ہیں تو انہیں لا نے کے لئے عبد المطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا جب یہ وہا ں پہنچا تو عبد اللہ کا انتقال ہو چکا تھا مطلب یہ کہ آپﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفا ت کے چند ما ہ بعد تشریف لا ئے تھے

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply