غسل کے متعلق مسائل احادیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ نے غسل جنا بت کیا تو پہلے اپنی شر مگا ہ کو اپنے ہا تھ سے دھو یا ۔ پھر ہا تھ کو دیو ار پررگڑ کر دھایا ۔ پھر نما ز کی طرح وضو کیا اور جب آپ غسل سے فا رغ ہو گئے تو دو نو ں پا ؤ ں دھو ئے ۔

جب کہ جنا بت کے سوا ہا تھ میں کو ئی گند گی نہیں لگی ہو ئی ہو ۔ ابن عمر اور برا ء بن عا زب نے ہا تھ دھو نے سے پہلے غسل کے پا نی میں اپنا ہا تھ ڈا لا تھا ۔ اور ابن عمر اور ابن عنا س ؑ اس پا نی سے غسل میں کو ئی مضا ئقہ نہیں سمجھتے تھے جس  میں غسل جنا بت کا پا نی ٹپک کر گر گیا ہو ۔

میں اور نبی ﷺ ایک ہے بر تن میں ایسے غسل کر تے تھے کہ ہما رے ہا تھ با ری با ری اس میں پڑتے تھے ۔

جب رسو ل ﷺ غسل جنا بت فر ما تے تو پہلے اپنا ہا تھ دھو تے ۔

میں اور نبی کر یم ﷺ دو نو ں مل کر ایک ہی بر تن میں غسل جنا بت کرتے تھے اور شبعہ نے عند الرحٰمن بن قا سم سے انہوں سے اپنے وا لد قا سم بن محمد بن ابی بکر ؑ سے وہ عا ئشہ ؑ سے ۔ اس طرح روا یت کرتے ہیں ۔

نبی کریم ﷺ اور آپ کی کو ئی زو جہ مطہر ہ ایک برتن میں غسل کر تے تھے ۔

اس حدیث میں مسلم بن ابرا ہیم اور وہب بن حبریر کی روا یت میں شعبہ سے من الجنا بت کا لفظ زیا دہ ہے ۔ یعنی یہ جنا بت کا غسل ہو تا تھا ۔

میں نے آنحضرت ﷺ کے لیے غسل کا پا نی رکھا اور پردہ کردیا آپ نے پہلے غسل میں اپنے ہا تھ پر پا نی ڈالا اسے ایک یا دو با ر دھو یا۔ سلیما ن اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یا د نہیں روای ( سا لم بن ابی الجعد ) نے تیسری با ر کا بھی زکر کیا یا نہیں ۔ پھر دا ہنے ہا تھ سے با ئیں ہا تھ پر پا نی ڈالا ۔

اور شر مگا ہ دھو ئی پھر اپنے ہا تھو ں کو زمین پر یا دیوا روں کے سا تھ ڑگڑ ا ۔

پھر کلی کی اور نا ک مین پا نی ڈ الا اور چہرے اور ہا تھو ں کو دھو یا ۔ اور سر کو دھو یا ۔ پھر سا رے بدن پر پا نی بہا یا ۔ پھر ایک طرف ہو کر دو نو ں پا ؤ ں دھو ئے ۔ بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ نے اپنے ہا تھ سے اشا رہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹا ؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرما یا ۔

ابن عمر ؑ سے منقول ہو کہ انہوں نے اپنے قد مو ں کو وضو کردہ اعضا ء کے خشک ہو نے کے بعد دھو یا ۔

میں آپ ﷺ کے لیے غسل کا پا نی رکھا ۔ تو آپ ﷺ نے پہلے پا نی اپنے ہتھو ں پر گرو گرو کر دو یو تین مرتبہ دھو یا ۔ پھر اپنے دا ہنے ہاتھ سے با ئیں پر گرا کر اپنے شر مگا ہو ں کو دھو یا ۔ پھر ہا تھ کو زمین پر رگڑا ۔ پھر کلی کی اور نا ک میں پا نی ڈالا ۔ پھر اپنے چہرے اور ہا تھو ں  کو دھو یا ۔ پھر اپنے سر کو تین مر تبہ دھو یا ، پھر اپنے سا رے بد ن پر پا نی بہا یا ، پھر آپ اپنی غسل کی جگہ سے الگ ہو گئے ۔ پھر اپنے قدموں کو دھو یا۔

میں نے عا ئشہ ؑ کے سا منے اس مسئلہ کا ذکر کیا ۔ تو آپ نے فر ما یا ، اللہ عبد الرحٰمن پر رحم فرما ئے  میں نے تو رسو لﷺ کو خو شبو لگا ئی پھر آپ اپنی تما م ازواج (مطہرا ت ) کے پا س تشریف لے گئے اور صبح احرا م اس حا لت میں با ندھا کہ خو شبو سے بد ن مہک رہا تھا ۔

نبی کر یم ﷺ ان اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تما م ازواج مطہرا ت کے پا س گئے اور یہ گیا رہ تھیں ۔ نو منکو حہ اور دو لو نڈیا ں راوی نے کہا میں نے انس سے پو چھا کہ حضو رﷺ اس کی طا قت رکھتے تھے ۔ تو آپ نے فرما یا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ کو تیس مر دو ں کے برا بر طا قت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتا دہ کے وا سطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے فرما یا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہا آپ کو تیس مردوں کے برا بر طا وت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتا دہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا ۔

مجھے مذی بکثرت آتی تھی ، چو نکہ میرے گھر میں نبی کریم ﷺ کی صا حبزادی ( فا طمتہ الزہراء ؑ ) تھیں ۔ اس لیے میں نے ایک شخص ( مقداد بن اسود اپنے شا گرد ) سے کہا کہ وہ آپﷺ سے اس کے متعلق مسئلہ معلو م کریں ۔ انہو ں نے پو چھا تو آپ ﷺ نے فر ما یا کہ وضو کر اور شرمگا ہ کو دھو ( یہی کا فی ہے )۔

میں اسے گوا را نہیں کر سکتا کہ میں احرا م با ندھوں اور خو شبو میرے جسم سے مہک رہی ہو ۔ تو عا ئشہ ؑ نے فرما یا ، کہ میں نے خو د نبی کریم ﷺ کو خو شبو لگا ئی ۔ پھر آپ اپنی تما م ازاواج کے پا س گئے اقور اس کے گو یا کہ میں آنحضرت ﷺ کی ما نگ میں خو شبو کی چمک دیکھ رہی ہو ں اس حا ل میں کہ آپ احرا م با ندھے ہو ئے ہیں ۔

رسول کر یم ﷺ جنا بت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہا تھو ں کو دھو تے اور نما ز  کی طرح وضو کرتے ۔ پھر غسل کرتے پھر اپنے ہا تھو ں سے سر کا خلا ل کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے ۔ تو تین مر تبہ اس پر پا نی بہا تے ، پھر تما م بد ن کا غسل کر تے ۔

میں اور رسو ل ﷺ ایک ہی بر تن میں  غسل کرتے تھے ۔ ہم دو نو ں اس سے چلو بھر بھر کر پا نی لیتے  تھے ۔

حصہ دوئم

اسلا م 360 سے اخذ احا دیث

Leave a Reply