جمعہ کے متعلق مسائل حصہ سو ئم

  • Post author:
  • Post category:Ahadees

حدیث نمبر : 902

لو گ جمعہ کی نما ز پڑ ھنے اپنے گھر وں سے اور اطرف مد ینہ گا ؤ ں سے مسجد نبو ی میں با ری با ری آیا کر تے تھے ۔ لو گ گر دو غبا ر میں چلے آتے ، گر د میں اٹے ہو ئے اور پیسنہ میں شرا بو ر ۔ اس قدر پسینہ ہو تا کہ تھمتا نہیں تھا ۔ اس حا لت میں ایک آدمی رسو ل اللہ ﷺ کے پا س ایا ، آپ نے فر ما یا کہ تم لو گ اس دن  جمعہ میں غسل کر لیا کر تے تو اچھا ہو تا ۔

حدیث نمبر : 903

انہو ں نے عمر ہ بنت عبد الرحمن ٰ سے جمعہ کے دن غسل کے با رے میں پو چھا ۔ انہو ں نے بیا ن کی کہ حضر ت عا ئشہ ؑ فر ما تی ہیں کہ لو گ اپنے کا مو ں میں مشغول رہتے اور جمعہ کے لیے اسی حا لت میں چلے آتے ، اس لیے ان سے کہا گیا ہے کہ کا ش تم لو گ غسل کر لیا کرتے ۔

حد یث نمبر : 904

رسو ل ﷺ جمعہ کی نما ز اس وقت پڑ ھا تے جب سورج ڈھل جا تا ۔

حدیث نمبر : 905

م جمعہ سویرے پڑ ھ لیا کرتے اور جمعہ کے بعد آرا م کرتے تھے ۔

حدیث نمبر : 906

اگر سر دے زیا دہ پڑ تی تو رسو ل اللہ ﷺ نماز سو یرے پڑ ھ لیا کرتے ۔ لیکن جب گر می زیا دہ ہو تی تو ٹھنڈے وقت مین نماز پڑ ھتے ۔ آپ کی مراد جموہ کی نماز تھی ۔ یو نس بن بکیر نے کہا کہ ہمیں ابو خلدہ نے خبر دی ۔ انہو ں نے صر ف نماز کہا ۔ جمعہ کو ذ کر نہیں کیا اور بشر بن ثا بت نے کہا کہ ہم سے ابو خلدہ نے بیا ن کیا کہ امیر نے ہمیں جمعہ کی نما ز پڑ ھا ئی ۔ پھر حضر ت انس ؑ سے پو چھا کہ نبی کر یم ﷺ ظہر کی نماز کس وقت پڑ ھتے تھے ؟

اور اللہ تعالیٰ نے سو رۃ جمعہ میں فر ما یا کہ اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چلو اور اس کی تفسیر جس نے یہ کہا کہ سعی کے معنی عمل کر نا اور چلنا جیسے سو رۃ بنی اسرائیل میں ہے یہا ں سعی کے یہی معنی ہیں ابن عبا س ؑ   نے کہا کہ خرید وفرو خت جمعہ کی اذان ہو تے ہی حرا م ہو جا تی ہے ۔ عطا نے کہا تما م کا رو با ر اس وقت حرا م ہو جا تے ہیں ۔ ابر اہیم بن سعد نے زہدی کا یہ قول نقل کیا کہ جمعہ کے دن جب مؤ ذن ازان دے تو مسا فر بھی شرکت کرے ۔

حدیث نمبر : 907

میں جمعہ کے لئے جا رہا تھا ۔ راستے میں ابو عبس ؑ سے میری ملا قا ت ہو ئی ، انہو ں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس کے قدم اللہ کی راہ میں آلو داہ ہو گئے اللہ تعا لیٰ اسے دوزخ پر حرا م کر دے گا ۔

حدیث نمبر : 908

آپ نے رسو لاللہ ﷺ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ جب نما ز کے لیے تکبیر کہی جا ئے تو دو ڑ تے ہو ئے مت آؤ بلکہ اپنی معمولی رفتا ر سے آؤ پو رے اطمینا ن کت سا تھ پھر نما ز کا حصہ جو اما م کے ساتھ پا لو اسے پڑ ھ لو اور جو رہ جا ئے اسے بعد میں پو را کرو۔

حدیث نمبر : 909

آپ نے فر ما یا جب تک مجھے دیکھ نہ لو صف بندی کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو اور آہستگی سے چلنا لا زم کر لو ۔

حدیث نمبر : 910

رسو ل اللہ ﷺ نے فر ما یا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خو ب پا کی حا صل کی اور تیل یا خو شبو کا استعما ل کیا  ، پھر جمعہ کے لیے چلا اور دو آد میوں کے درمیاں نہ گھسا اور جتنی اس کی قسمت میں تھی ، نماز پڑ ھی ، پھر جب امام با ہر آیا اور خطبہ شرو ع کیا تو خا مو ش ہو گیا ، اس کے اس جمعہ میں سے دوسرے جمعہ تک کے تما م گنا ہ بخش دیئے جا ئیں گے ۔

حدیث نمبر : 911

نبی کر یم ﷺ نے اس سے منع فر ما یا ہے کہ کو ئی شخص اپنے مسلما ن بھا ئی کو اتھا کر اس کی جگہ خو د بیٹھ جا ئے ۔ میں نے نا فع سے پو چھا کہ کیا یہ جمعہ کے لیے ہے تو انہو ں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لیے یہی حکم ہے ۔

حد یث نمبر : 912

نبی کر یم ﷺ اور حضر ت اب بکر ؑ کے زما نے میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جا تی تھی جب اما م منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھے لیکن حضرت عثما ن ؑ کے زما نے میں جب مسلما نوں کی کثرت ہو گئی تو وہ مقا م زوراء سے ایک اور اذان دلوا نے لگے ۔ ابو عبداللہ اما م بخا ری رحمتہ اللہ علیہ فر ما تے  ہیں کہ زوراء مد ینہ  کے با زار میں ایک جگہ ہے ۔

حدیث نمبر : 913

جمعہ میں تیسری اذان حضر ت عثمان بن غفا ر ؑ نے بڑ ھا ئی جبکہ مد ینہ میں لو گ زیا دہ ہوگئے تھے جب کہ نبی کر یم ﷺ کے ایک ہی مو ذ ن تھے ۔ آپ ﷺ کے دور میں جمعہ کی اذان اس وقت دی جا تی جب اما م منبر پر بیٹھتا ۔

حدیث نمبر : 914

میں نے معا ویہ  بن ابی سفیا ن ؑ کو دیکھا آپ منبر پر بیٹھے ، مؤ زن نے اذا ن دی معا ویہ ؑ نے جو ا ب دیا مؤ زن نے کہا اشھدان لا الہ الا اللہ معا ویہ ؑ نے جواب دیا وانا  اور میں بھی تو حید کی گوا ہی دیتا ہو ں مؤذن نے کہا اشہد ان محمد ارسولاللہ معا ویہ نے جواب دیا میں بھی رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گوا ہی دیتا ہو ں جب مؤ ذن اذان کہہ چکا تو آپم نے کہا حا ضر ین میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنا اسی جگہ یعنی منبر پر بیٹھے تھے مؤ ذن نے اذان دی تو آپ یہی فر ما  رہے تھے جو تم نے مجھ کو کہتے سنا ۔

اسلام 360 سے اخذ