You are currently viewing سورہ کافرون، جسے “کافروں” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
surah kafiroon, jisay" kafiroon" ke naam se bhi jaana jata hai

سورہ کافرون، جسے “کافروں” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے

  • Post author:
  • Post category:Quran Pak

سورہ کافرون کی مختصر تفسیر یہ ہے:

سورہ کافرون، جسے “کافروں” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، قرآن کا 109 واں باب ہے۔ یہ ایک مختصر سورت ہے جو چھ آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا آغاز حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کافروں سے خطاب کرتے ہوئے ہوتا ہے، انہیں بتاتے ہیں کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے جس کی وہ عبادت کرتے ہیں، اور یہ کہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اعلان کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی ان کے معبودوں کی عبادت نہیں کرے گا، اور وہ کبھی بھی اس کے خدا کی پرستش نہیں کریں گے۔ سورہ کا اختتام اس بیان کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہر شخص کے لیے ایک مذہب ہے، اور یہ کہ پیغمبر اسلام کا مذہب اسلام ہے۔

سورہ کافرون مذہبی آزادی اور رواداری کی اہمیت کی ایک طاقتور یاددہانی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے، چاہے ہم ان سے متفق نہ ہوں۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے عقائد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مطلب ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑے۔

سورہ کو اکثر ایمان کے اعلان کے طور پر پڑھا جاتا ہے، اور اسے برائی سے حفاظت کی دعا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایمان اور آزادی کی اہمیت کی ایک خوبصورت اور متاثر کن یاد دہانی ہے۔

سورہ کافرون کی ہر آیت کی تفصیلی تشریح یہ ہے:

آیت 1: ’’کہہ دو اے کافرو‘‘۔
اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں یا اسلام کو نہ ماننے والوں سے مخاطب ہیں۔ وہ انہیں اسلام کی طرف بلا رہا ہے، اور انہیں اس کے رد کرنے کے نتائج سے خبردار کر رہا ہے۔

آیت 2: “میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔”
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اعلان فرما رہے ہیں کہ وہ ان معبودوں کی پرستش نہیں کرتے جو کافر ہیں۔ وہ ان سے کہہ رہا ہے کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے، جو ایک حقیقی معبود ہے۔

آیت 3: “اور نہ تم اس کے پوجنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔”
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ وہ انہیں یاد دلا رہا ہے کہ وہ جھوٹے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں، اور آخرت میں انہیں اس کی سزا دی جائے گی۔

آیت نمبر 4: “اور نہ ہی میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔”
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسلام سے اپنی وابستگی کا اعادہ کر رہے ہیں۔ وہ کافروں سے کہہ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی ان کے جھوٹے معبودوں کی پرستش نہیں کرے گا، چاہے وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کریں۔

آیت 5: “اور نہ ہی تم کبھی اس کی عبادت کرنے والے بنو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔”
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کو اپنی تنبیہ دہرا رہے ہیں۔ وہ اُنہیں بتا رہا ہے کہ وہ اُسے اپنے جھوٹے معبودوں کی پرستش پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔

آیت نمبر 6: ’’تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین‘‘۔
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اعلان فرما رہے ہیں کہ ہر شخص اپنے مذہب کے انتخاب میں آزاد ہے۔ وہ کافروں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام پر عمل کرنے کے اس کے حق کا احترام کریں، اور وہ ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق کا احترام کرے گا۔

سورہ کافرون ایک طاقتور اور متاثر کن سورہ ہے جو ہمیں مذہبی آزادی اور رواداری کی اہمیت سکھاتی ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہمیں دوسروں کے عقائد کا احترام کرنا چاہیے، چاہے ہم ان سے متفق نہ ہوں۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے عقائد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مطلب ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑے۔