سیرت النبی،سو اونٹنیوں کا انعام

نبی کر یم ﷺ نے ایک مرتبی حسا ن بن ثا بت سے فر ما یا حسان کیا تم نے ابو بکر کے با رے میں بھی کو ئی شعر کہا ہے انہو ں نے عر ض کیا ہا ں جی آپ ﷺ نے فر ما یا سنا و میں سننا چا ہتا ہوں حضرت حسا ن بن ثا بت بہت بڑے شا عر تھے ان کو شا عر رسول کا خطا ب بھی ملا ہے رسول اکر م ﷺ کی فر ما ئش پر انہو ں نے جو دو شعر سنا ئے ان کا تر جمہ یہ ہے

حضرت ابو بکر صد یق جو دو میں سے دو سرے تھے اس پر بلند و با لا  غا ر میں تھے اور جب وہ پہا ڑ میں پہنچ گئے تو دشمن کے ارد گرد چکر لگا ئے یہ آپ ﷺ کے عا شق راز تھی جیسا کہ دنیا جا نتی ہے اس عشق رسول میں کو ئی ثا نی یا ں برا بر نہیں تھا

یہ شعر سن کر آپ ﷺ مسکرا نے لگے یہا ں تک کہ آپ ﷺ کے دانت مبا رک نظر آئے پھر آپ ﷺ نے ارشا د فر ما یا کہ تم نے سچ کہاحسا ن وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے کہا وہ غا ر والے کے نز دیک سب سے زیا دہ پیا رے ہیں کو ئی دو سرا شخص ان کی بر ابری نہیں کر سکتا حضر ت ابو دردا فر ما تے ہیں کہ ایک روز حضو ر اکر م ﷺ نے مجھے ابو بکر صد یق کے آگے چلتے دیکھا تو ارشا د فر ما یا

کیا ابو دردا تم اس شخص کے آگے چلتے ہو جو دنیا وآخر ت میں تم سے افضل ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جا ن ہے انبیا اور مر سلین کے بعد ابو بکر سے زیا دہ افضل آدمی پر نہ کبھی سو رج طلو ع ہو ا اور نہ غرو ب ہو ا

حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عا ص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکر م ﷺ کو یہ فر ما تے سنا میرے پا س جبر ائیل آئے اور کہتے اللہ تعا لی نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ جبر ائیل سے مشو رہ کر یں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اکر م ﷺ نے ارشا د فر ما یا میری امت پر ابو بکر کی محبت وا جب ہے

یہ چند احا دیث حضرت ابو بکر کی شا م میں اس لئے نقل کر دی گئی ہیں کہ وہ نبی کر یم ﷺ کے ساتھ ہجرت کے ساتھی تھے اور یہ عظیم اعزاز کی با ت ہے غا ر سے نکل کر حضور اکر م ﷺ اور ابو بکر صد یق اونٹ پر سو ار ہو ئے اور راہبر کے ساتھ سفر شروع ہو ا حضرت عا مر بن فہیرہ بھی حضرت ابو بکر کے ساتھ اسی اونٹنی پرسوار تھے

غر ض یہ مختصر سا قا فلہ روا نہ ہو ا راہبر انہیں سا حل سمندر کے راستے سے لے کر جا رہا تھا راستے میں کوئی ملتا اور ابو بکر سے پو چھتا کہ یہ تمھا رے ساتھ کو ن ہے تو آپ جو اب میں فرما تے یہ میرے ساتھی یہ میرے راہبر ہیں

یعنی یہ میرے سا تھ مجھے راستہ دیکھا نے والے ہیں ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ دین ک راستہ دیکھا نے والے ہیں مگر پو چھنے والے ان کے گو ل مو ل جو اب سے سمجھتے کہ یہ کو ئی راہبر ہیں جو سا تھ جا رہے ہیں

ابو بکر صد یق نے اس طر ھ جو اب دینے کی وجہ یہ تھی کہ نبی کر یم ﷺ نے ہد ایت کی تھی کہ لو گو ں کو میرے پا س سے ٹا لتے رہنا اگر کو ئی میرے با رے میں پو چھے تو گو ل مو ل جو اب دینا کیو نکہ نبی کے لئے کسی صو رت میں جھو ٹ بو لنا منا سب نہیں چا ہے کسی بھی لحا ظ سے ہو چنا نچہ جو شخص بھی آپ کے با رے میں سوا ل کر تا حضرت ابو بکر صدیق یہ ہی جو اب دیتے رہے گئے  حضرت ابو بکر صدیق بہت با ر ان راستو ں سے تجا رت کے لئے جا تے رہتے تھے  انہیں اکثر لو گ جا نتے تھے اس لئے کسی نے نہیں پو چھا کہ آپ کو ن ہیں ادھر قریش نے سو اونٹنیو ں کا اعلا ن کیا یہ اعلا ن سر اقہ بن ما لک نے بھی سنا جو ابھی تک ایما ن نہیں لا ئے تھے

سر اقہ خو د اپنی کہا نی ان الفا ظ میں سنا تے ہیں میں نے یہ اعلا ن سنا ہی تھا کہ میرے پا س سا حلی بستی کا ایک آدمی آیا اس نے کہا کہ اے سراقہ میں نے کچھ لو گو ں کو سا حل کے قر یب جا تے دیکھا ہے اور  میرا خیا ل ہے کہ وہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہیں

مجھے بھی یقین ہےکہ وہ آپ ﷺ اور ان کے ساتھی ہی ہو سکتے ہیں چنا نچہ میں اٹھا گھر گیا اور اپنی با ندی کو حکم دیا کہ میری گھو ڑی نکا ل کر چپکے سے وادی میں نکا ل دو وہ وہیں ٹھہر کر میرا انتظا کر ے اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ نکا لا اور اپنے گھر سے نکل کر پیچھے وادی کی طر ف نکا لا اور اپنے گھر کے پچھلی طر ف نکل کر وادی میں پہنچا اس راز داری میں یہ مقصد تھا کہ میں اکیلا ہی کا م کر ڈالو اور سو اونٹنیو ں کا انعا م حا صل کر لو ں میں نے اپنی ذرہ بھی پہن لی تھی پھر میں اپنی گھو ڑی پر سو ار ہو کر اس طر ف روا نہ ہو ا اس نے اپنی گھو ڑی کو بہت تیز دو ڑایا یہا ں تک کہ آخر کا ر آپ ﷺ سے کچھ فا صلے پر پہنچ گیا لیکن اس وقت میری گھو ڑی کو ٹھو کر لگی اور وہ منہ کے بل نیچے گری میں بھی نیچے گر ا پھر گھو ڑا اٹھ کر نہنہا نے لگی میں اٹھا میرے تر کش مین فا ل کے تیر تھے یہ وہ تیر تھے جس سے عرب کے لو گ فا ل نکا لتے تھے اس میں سے کسی تیر پر لکھا تھا کرو اور اور کسی پر لکھا تھا کہ نہ کر و میں نے ان میں سے ایک تیر لیا اور فال نکا لی یعنی میں جا ننا چا ہتا ہو ں کہ یہ کا م کرو ں یا ں نہ کر وں فا ل میں انکا ر نکلا یعنی یہ کا م نہ کر و

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply