سیرت النبی ﷺحصہ 21

اندازہ  لگا ئیں کہ اسلام  کس قدر حیا والا    دین ہے جس میں ما ں ، بہن ، بیٹی ، خا لہ پھو پھو بھا نجی بھتیجی نا نی دادی وغیرہ کے علا وہ کسی کی  طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی در ست نہیں ، لیکن آج کی نسل کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے    کہ فلمیں ڈرامے  دیکھتی ہیں ۔ گندے لطفے سنا نے والے کو پسند کر تی ہے ۔ یو ینو ر سٹیو ں  اور کا لجو ں میں بچے بچیا ں ہا تھو ں پر ہا تھ پھینکتے ہیں ۔ شا دیو ں پر ڈانس کر تے اور گا نے گا تے ہیں ۔ فیس بک پر دو ستیا ں کر تے  ہیں ۔ سیلفیا ں کھینچ کر ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں ۔ رات رات کڑ کے لڑ کیا ں با ت کر تے ہیں۔

ذرا سو چیں !

قیا مت والے دن جب نبی پا ک ﷺ کو پتا لگے گا کہ ان کے بعد یہ کچھ ہو تا رہا تو ان   کے دل  پر کیا بیتے گی ہمیں کتنی شر مند گی ہو گی  ۔

انشا اللہ آج سے ہی ہم بے حیا ئی کے کا مو ں سے تو بہ کر تے ہیں  اور پو ری کو شش کر یں گے کہ فحا شی سے بچیں  اللہ پا ک ہما ری تو بہ قبو ل فر ما ئے اور اس گنا ہ سے بچنے کی تو فیق عطا فر مائے ۔ آمین

جب آپ کو پتا چلا تو   آپ کو بہت غصہ آیا جس محلے میں قینقا ع رہتے تھے آپ نے اپنے سا تھیو ں کے ساتھ اسے گھیر لیا  وہ یہو دی جو  بڑ ی بڑ ی ڈینگیں ما ر رہے تھے کہ مسلما نو ں اگر ہما رے ساتھ تمہا ری لڑ ا ئی ہو ئی تو تمہیں مزہ چکھا دیں گے ۔ اب  وہی ڈر پو ک اور بز دل لو گ خو ف کے ما رے چو ہے کی طرح اپنے گھر وں میں بیٹھے ہو ئے  تھے کسی ایک میں بھی لڑ نے کی ہمت نہیں تھی ۔ یہ یہو دی ہو تے ہی ایسے ہیں کہ کبھی مسلما نو ں کو خو ش نہیں دیکھ سکتے جب بھی مسلما نو ں کو کو ئی فا ئد ہ ملتا ہے تو انہیں تکلیف ہو نی شروع  ہو جا تی ہے  کمز ور مسلما نو ں پر ظلم کر تے ہیں  لیکن جب جنگ کی با ری آتی ہے تو بھیگی  بلی بن جا تے ہیں ۔ 15 سب آپ نے ان کے محلے کو گھیر ے  رکھا  مگر مجا ل ہے جو  کسی ایک نے بھی چو پیں کی ہو  ۔؎

با بے عبد اللہ  کی پہلی خرا بی:

ان کا با بےعبد اللہ سے بڑاپیا ر تھا  ۔ اور با  با بھی ان  سے بڑ ی محبت کر تا تھا  جب بابے نے دیکھا کہ میرے دو ست     کچھ   بھی نہیں کرسکتے ۔ یہ صر ف بڑ کیں ہی  لگا سکتے ہیں  تو   اس نے  نبی پا کﷺ سےسفارش  کی کہ اس قبیلے کو چھو ڑدیں کیو نکہ  ہما رےاور ان کے در میان  بڑ ی دوستی رہی ہے ۔

آپ نے اس کی با ت ما ن لی کہ شا ید اسی آسا ن کےبدلےبابا صحیح والا سلا ن ہو جا ئے لیکن بابابھی   ایک نمبر کا فر اڈیا تھا ۔ وہ نہ بدلہ بلکہ چوڑا ہو گیا اس کی با ت ما نی گئی ہے ۔

قینقا ع والے مد ینہ سے بھا گ گئے لیکن ان کی بدتمیزی کی وجہ سے مسلما نو ں نے ان کا سا ما ن رکھ لیا ۔

غزوہ سویق کی کہا نی

کا فر وں کے بڑے بڑے سردار غزوہ بدر میں ما رے جا چکے تھے ۔ یہ سا ری لڑائی ابو سفیا ن کے قافلے کو بچا نے کے لئے ہو ئی تھی ۔ ابو سفیا ن سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہو ا ہے اس لئے اس نے قسم کھا ئی کہ اس وقت تک نہیں نہا وں گا جب تک مسلما نو ں سے بد لہ نہیں لے لو ں گا ۔

اب وہ قسم تو کھا بیٹھا مگر بد لہ لینے کا حو صلہ نہ تھا ۔ آخر کا ر ہمت کر کے 200 بندے ساتھ لئے ۔ چو نکہ مد ینہ بڑی دور تھا اسے لئے ستو سا تھ لے لئے کہ چلو بھو ک لگے گی تو راستے میں یہ ہی کھا لیں گے عربی ربا ن میں ستو کو سویک کہتے ہیں ۔ سے پا نی میں ڈال کر پینے سے پیٹ بھر جا تا ہے ۔

200 بندوں کا یہ قا فلہ مد ینہ کی طر ف چل پڑا ۔ ج مدینہ قر یب آیا تو ساری اکڑ نکل گئی ۔12 میل پہلے ہی بر یک لگا لی ۔ اب آگے جا نے سے ڈر لگ رہا تھا اگر نبی پا ک ﷺ کو پتہ چل جا تا تو یہ اپنی طر ف سے بد لہ لینے آئیں ہیں تو خو ف ما ر پڑنی تھی ۔

مزاحیہ صو رتحا ل :

پو را قا فلہ ہی پر یشا ن تھا کہ اگر بد لہ لئے بغیر واپس گئے تو مکہ والے مذاق بنا ئیں گے آگے گئے تو ما ر پڑے گی ابو سفیا ن الگ سے پر یشا ن تھا کہ اگر بد لہ لئے بغیر واپس گیا تو سا ری عمر نہا نے کے بغیر گزارنی پڑے گی ۔

اس کا حل انہو ں نے یہ سو چا کہ کسی ایسے بندے کو ما رئیں گے جو لڑ نہ سکتا ہو اس لئے انہو ں نے مد ینہ کے قریب ایک باغ میں دو نہتے بندوں کو قتل کیا اور واپس بھا گ گئے ۔انہیں ڈر تھا کہ جسے ہی بنی پا ک ﷺ کو پتہ چلا تو انہو ں نے ہمیں پکڑ لینا ہے تو پھر ہما ری خیر نہیں ۔ اسی ڈر سے انہو ں نے اپنا بہت سا وزنی سا ما ن حتی کہ وہ ستو بھی جو کھا نے کے لئے لا ئے تھے پھینک دیئے تا کہ وزن کم ہو جا ئے ۔ اسی طر ح  بھا گنے میں آسا نی رہے گی آپ ﷺ کو جب پتہ چلا تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے بندے بھیجے مگر وہ بھا گ گئے اور مکہ جا کر شور مچا نا شروع کر دیا کہ ہم بد لہ لے آئیں ہیں ۔

ستو وزن میں بہت ہلکا ہو تا ہے۔ وہ لو گ اتنا ڈرے ہو ئے تھے کہ وزن کم کر نے کے چکر میں ستو بھی پھینک کر بھا گ گئے ۔ اسی وجہ سے اس غزوہ کو غزوہ سویق یعنی ستووں والی جنگ کہتے ہیں

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )

Leave a Reply