صدقہ فطروفدیہ حصہ سوئم

اما م صاحب رحمت اللہ کا مذہب جس پر اصحاب متو ن نے اتفا ق کیا ہے اور اس کو اپنے متون میں  درج کرنے کا اہتمام کیا ہے وہ یہی ہے کہ سیدوں کو کسی حا ل میں زکا ۃدینا جا ئز نہیں اور امام صا حب کی اس دوسری روایت کو فقہا نے ضعیف قرا ر دے کر رد کیا ہے اور اکثر اصحا ب متون نے اس ذکر نہیں کیا ہے اور بعض صا ف طر ح سے اس روا یت کے رد کی جا نب اشا رہ کیا ہے ۔ اور مذ ہب اسی کو قرار دیا ہے کہ سیدوں کو کسی حا لت میں زکا ۃ دینا جا ئز نہیں ہے ۔

ہا ں شوا فع میں سے علا مہ ابو سوید اصطخر ی کیتے ہیں کہ زکا ۃ سے سیدوں کو اس لیے محروم کیا گیا  تھا کہ ان کو ما ل غنیمت کا خمس دیا جا تا تھا جب ان کو اس میں سے نہیں ملتا تھا تو ان کو زکا ت دینا وا جب ہے ۔ مگر خو د حضرت شوا فع نے اس کہہ کررد کر دیا کہ مذ ہب میں شوافع تو یہی ہے کہ سیدوں کے لیے زکا ۃ  جا ئز نہیں کیوں کہ زکا ت کا ان کے لئے حرام ہو نا رسول ﷺ کی شرا فت کی وجہ ہے اور یہ علت ان خمس نہ دینے سے زائل نہیں ہو جا تی ۔

البتہ اکثر نے لکھا ہے کہ اگر سیدوں کا بیت الما ل سے حصہ نہ پہنچے اور اس کی وجہ سے فقر و فا قہ ان کو مجبو ر کر دے تو ان کو زکا ۃ دینا جا ئز ہے علا مہ خر شی نے مختصر خلیل کی شرح میں اور علا مہ دسوقی نے الشر ح الکبیر کے حا شیے میں علا مہ صا وی نے بلغۃ السا لک میں لکھا ہے ۔

لیکن اسی کہ ساتھ علامہ با جی ما لکی رحمت اللہ نے یہ قید بھی لگا ئی کہ یہ جوا ز اس وقت ہے کہ اضطر یہاں تک پہنچا دے کہ مردار کا کھا نا اس کو جا ئز ہو جائے تو اس کے لیے زکا ت جا ئز ہے اس شر ط کو بعض فقہا ئے ما لکیہ نے قبو ل کیا اور فرما یا کہ یہی ظا ہر و متعین ہے اور بعض نے اس سے اختلا ف کیا ہے جیسا کہ اوپر کے حوا لوں سے معلو م ہو سکتا ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بہت سے ما لکیہ کے یہا ں بھی جو از ایک شر ط سے مشروط ہے کہ حالت اضطرا ر ہو ۔ ورنہ سیدوں کو زکا ۃ دینا ان کے یہا ں بھی جا ئز نہیں ہے ہا ں بعض نے صرف حا جت کی وجہ سے بھی جا ئز قرا ر دیا ہے ۔

اس تفصیل سے یہ با ت و ا ضح ہوئی کہ حنیفہ شا فعیہ وحنا بلہ تو مطلقا عدم جواز کے قا ئل ہیں اور یہا ن کا اصل مذہب ہے اور جو امام ابع حنیفہ اور علا مہ اصطخری سے دوسری روا یت جوا ز کی مر وی ہے اس کو حنیفہ و شا فعیہ نے رد کر دیا ہے اور ما لکیہ کے اکثر فقہا نے اگر چہ مو جو د حا لا ت مین خمس نہ ملنے کی وجہ ان کو زکا ۃ دینے جوا ز اختیا ر کیا مگر اس شر ط کے اضطر ار پیدا ہو جا ئے اور اس کی وجہ سے مردہ کھانا اس کو حلال ہوا ور میں سمجھتا ہو ں کہ اس شرط کے ساتھ سبھی علما کے نز دیک سیدوں کو زکا ۃ دینا جا ئز ہو گا کیو نکہ جب مردا کھا نا ہی حلال ہو جا ئے تو زکا ۃ کھا نے میں کیا حر ج ہو سکتا ہے تو یہ ایک انتہا ئی مجبوری کی صورت کا حکم ہے ۔

الغرض اس روایت بنیا د پر فقہا نے جوا ز کو اختیا ر نہیں کیا ہے بلکہ ضرورت ہو نے کے با وا جود اس کو رد کیا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ زکا ۃ کا ان کے حق میں منع ہو نا در اصل قرا بت رسول و شرا فت رسول کی وجہ سے ہے اور یہ با ت ہر حا ل میں مو جو د ہے لہذا جب علت منع مو جو د ہے تو حکم بھی موجو د با قی ہے ۔

اب رہا یہ کہ لو گ سیدوں کو دوسرے مدات سے نہیں دیتے تو اس کے لیے ترغیب و تشو یق دلا نے کا اہتما م کرنا چا ہیے اور بار با ر تو جہ دلا نا چا ہیے آخر سو چنے ی ضرورت ہے کہ یہی امت تو آج مدارس اسلا میہ اور مسا جد کے لیے کروڑہا رو پہ خرچ کر رہی ہے اور ان کی تعمیرا ت پر خو ب لگا رہی ہے اور یہ غیر زکا ۃ  سے ہی خرچ کیا جا رہا ہے تو کیا گر لو گو ں کو تر غیب دی جا ئے تو لو گان پر خر چ نہیں کریں گے ؟لہذا بندے کے نز دیک ان حلا ت  میں بھی سیدوں کو زکا ۃ  کا جواز صحیح نہیں ہے ۔

صدقہ فطر میں نو ٹ دینا

یہ با ت مسلم و معلو م ہے کہ نو ٹ خو د مال نہیں ہے بلکہ دراصل اس مال کی سند اور چیک ہے جو بہ ذمہ گو رنمنٹ ہے اسی لیے اگر جلی کٹی نو ٹ بتا ئی جا ئے تو بھی پو را ما ل مل جا تا ہے الغرض نو ٹ ما ل نہیں بلکہ ما ل کی سند ہے اور صدقہ فطر اور دوسرے صدقات واجبہ میں یہ ضروری ہے کہ مستحق ومحتا ج کو صدقے کے ما ل کا ما لک بنا دیا جا ئے اگر اس کو ما ل کا ما لک نہ بنا یا گیا تو زکا ت و فطر ہ ادا نہ ہو ں گے ۔ اس حکم کے پیش نظر یہ سوال پیدہ ہو تا ہے کہ آج کل نو ٹو ں کا روا ج بہت ہو گیا ہے اور بسا اوقات مہینوں تک روپیہ دیکھنے کی نو بت ہی نہیں آ تی بلکہ سا را کا م وکا رو با ر نو ٹ پر ہی چلتا ہے اور جیسا کہ اوپر معلوم ہوا  نو ٹ خود مال نہیں ہے لہذااگر نو ٹ کے زریعے صدقہ فطر دیا جا ئے تو ظا ہر ہے کہ ما ل نہیں بلکہ ما ل کی سند اس کودی گئی ہے تو کیا اس صدقہ فطر دینے والے کا صدقہ ادا نہ ہو گا ؟

اس سلسلے میں علما کا اختلا ف ہے ۔ حضرت تھا نوی رحمت اللہ حضرت مفتی محمد شفیع صا حب رحمت اللہ نے زکا ت اور دیگر صدقا ت واجبہ کے نو ٹ سے اداکرنے پر یہ بیا ن کیا ہے کہ زکا ت و صدقہ ادا نہ ہو گا تا وقتے کہ وہ صدقہ لینے والاشخص اس نو ٹ کو نقد نہ کرا لے جب وہ نقد کرا لے گا تو ادا ہو جا ئے گی ورنہ اگر خدا نہ خوا ستہ نو ٹ نقد کرا نے سے پہلے گم ہو جا ئے تو زکاۃ  وصدقہ ادا ہی نہ ہو گا ۔

رمضا ن اورجدید مسا ئل سے اقتبا س

Leave a Reply