سیرت النبی،آزمائش پر آزمائش

ایک روز انہیں اسی قسم کی خو فنا ک سزائیں دی جا رہی تھیں کہ رسول اکرم ﷺ اس طر ف سے گزرے حضرت بلا ل شدید تکلیف کے عالم میں احد احد پکا ر رہے تھے آپ ﷺ نے انہں دیکھا اور کہا کہ بلا ل تمھیں یہ احد احڈ ہی نجا ت دلا ئے گا

پھر ایک دب حضرت ابو بکر صدیق کا گز ر ہو ا انہو ں  نے دیکھا کہ امیہ بن خلف نے انہیں گر م ریت پر لٹا یا ہو ا ہے اور سینے پر بھا ری پتھر رکھا ہو ا ہے تو انہو ں نے امیہ بن خلف سے کہا  آخر اس مسکین کے با رے میں تمھیں اللہ کا خو ف نہیں آتا آخر کب تک اسے سزا دیئے جا و گے

پھر حضرت ابو بکر صد یق نے کہا کہ میرے پا س بھی ایک غلا م حبشی ہے اور وہ تمھا رے دین پر ہے میں ان کے بد لے میں تمھیں وہ دے سکتا ہو ں یہ سن کر امیہ بو لے  مجھے یہ سود ہ منظو ر ہے

یہ سنتے ہی ابو بکر صدیق نے اپنا غلا م حبشی انہیں دے دیا اور اس کے بد لے حضرت بلا ل کو لے لیا اور آزاد کر دیا سبحا ن اللہ کیا سودہ ہو ا یہا ں یہ با ت جا ن لینی چا ہیئے کہ حضرت ابو بکر صدیق کا غلا م دنیا کے لحا ظ سے بہت قیمتی تھا کچھ روایت مین آتا ہے کہ امیہ نے 10 اوقیہ سو نا بھی طلب کیا تھا اور حضرت اابو بکر صدیق نے یہ سو دہ ما ن لیا تھا چنا نچہ حضرت ابو بکر صدیق نے ایک یمنی چا در اور کچھ سو نا بھی دیا تھا سا تھ ہی امیہ بن خلف سے فر ما یا تھا  اگر تم مجھ سے سو اوقیہ سو نا بھی طلب کر تے تو میں تمھیں دے دیتا

حضرت بلا ل کے علا وہ حضرت ابو بکر صدیق نے بہت سے مسلما ن غلا مو ں کو خرید کر  آزاد کر وایا یہ وہ مسلما ن غلا م تھے جن کو اللہ کا نام لینےکی وجہ سے  ظلم و ستم کا نشا نہ بنا یا جا رہا تھا ان میں حضرت بلا ل کی والدہ حما مہ ؑ تھیں ایک عا مر بن فہیر ہ تھے انہیں اللہ کا نا م لینے پر بہت سخت تکلیف سے گزارا جا رہا تھا یہ قبیلہ بن تیم کے ایک شخص  کے غلا م تھے وہ حضرت ابو بکر صدیق کا رشتے دار تھا حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے رشے دار سے خر ید کر انہیں  بھی آزاد کر وادیا ایک شخص ابو فکیہ تھے یہ صفوا ن بن امیہ کے غلا م تھے یہ حضرت بلا ل کے ساتھ ہی مسلما ن ہو ئے تھے صفوان بن امیہ بھی ابتدا میں مسلما نو ں کے سخت مخا لف تھے وہ فتح مکہ کے بعد اسلا م لا ئے تھے ایک روز انہوں نے حضرت ابو فکیہ کو گر م ریت میں لٹا رکھا تھا ایسے میں حضرت ابو بکر صدیق پا س سے گز رے تب صفوان بن امیہ یہ الفاظ کہہ رہے تھے

اسے اور عذ اب دو یہا ں تک کہ محمد آکر اسے اپنے جا دو سے نجا ت دلا ئیں حضرت ابو بکر صدیق نے اسے وقت صفوان بن امیہ سے اسے خرید لیا

اسے طر ح زنیرہ نا می عورت کو اسلا م قبو ل کر نے پر سخت تکا لیف دی جا رہی تھیں کہ وہ اندھی ہو گئیں ایک روز ابو جہل نے کہا

جو کچھ تم پر بیت رہی ہے کہ لا ت وعزی کر رہےہیں یہ سنتے ہی زنیرہ نے کہا ہر گز نہیں اللہ کی قسم لا ت و عزی کی کو ئی نقصا ن پہچا سکتے ہیں اور نہ ہی فا ئدہ یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے آسما ن والو ں کی مر ضی سے ہو رہا ہے میرے پر وردگا ر کو یہ بھی قدرت ہے کہ وہ مجھے میری آنکھو ں کی روشنی لو ٹا دے

دو سرے دن جب وہ صبح اٹھیں تو اللہ پا ک نے ان کی آنکھو ں کی رو شنی لو ٹا دی اس با ت کا جب کا فر وں کو پتہ چلا تو وہ بو ل اٹھے محمد کی جا دو گر ی ہے

حضرت ابو بکر صدیق نے انہیں بھی خر ید پر آزاد کر وا دیا حضرت ابو بکر صدیق نے زنیرہ کی بیٹی کو بھی خر ید کر آذاد کر وایا اسی طرح نہد یہ نا می ایک با ندھی تھیں ان کی ایک بیٹی بھی تھیں دنو ں ولید بن مغیرہ کی با ند یا ں تھیں انہیں بھی ابو بکر نے آزاد کر وادیا

عا مر بن فہیرہ کی بہن اور ان کی والدہ بھی ایما ن لا ئی تھیں حضرت ابو بکر صدیق نے انہیں بھی خر ید کر آزاد کر وادیا ایما ن لا نے والے جن مسلما نو ں پر ظلم ڈھا ئے جا رہے تھے ان میں سے ایک حضرت خبا ب بن ارت بھی ہیں کا فر وں نے انہیں اسلا م سے پھیرنے کی کو شش کی لیکن وہ ثا بت قد م رہے انہیں جاہلیت کے زما نے مین گر فتا ر کیا گیا تھا پھر انہیں ایک عو رت ام نما ر نے خر ید لیایہ ایک لو ہا ر تھے نبی کر یم ﷺ ان کی دل جو ئی فر ما تے تھے ان کے پا س تشریف لے جا یا کر تے تھے جب ام نما زکو یہ با ت معلو م ہو ئی کہ وہ مسلما ن ہو گئے ہیں تو انہوں نے ظلم ڈھا نا شروع کر دیئے وہ لو ہے کا کڑا لے کر آگ میں اچھی طر ح سرخ کر تی پھر اس کو حضرت خبا ب کے سر پر رکھ دتیں آخر حضرت خبا ب نےاپنی تکلیف کا ذکر حضرت محمد سے کیا اور کہا کہ میرے حق میں دعا کر یں تو آپ ﷺ نے ان کی حق میں دعا فر ما ئی نبی کر یم ﷺ کی دعا کے فورا بعد اس عورت کے سر میں شد ید درد شروع ہو گیا اس سے وہ کتو ں کی طرح بھو نکتی تھی پھر کسی نے علا ج بتا یا کہ لو ہا گر م کر کے سر پر رکھے اس نے یہ کا م حضرت خبا ب کے ذمے لگا یا اب وہ خو ب گر م کر کے اس کر سر پر رکھتے

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply