سیرت النبی ،ابرہہ کا انجام

ہما رے پیا رے نبی حضرت محمد اس واقعہ کے چند دن بعد پیدا ہو ئے آپﷺ جس مکا ن میں پیدا ہو ئے وہ صفا پہا ڑی کے قریب تھا حضرت کعب احبا ر ؑ روایت کر تے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہو گی کعب پہلے یہو دی تھے اس لئے تو رات پڑھا کر تے تھے

دنیا میں آتے ہی آپﷺ روئے حضرت عبد الرحمن بن عوف کی والد ہ کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہ کے ہا ں ولادیت ہو ئی تو میں وہا ں مو جو د  تھی آپﷺ میرے ہا تھو ں میں آئے یہ غالبا دایہ تھی ان کا نا م شفا تھا فر ما تی ہیں آپ ﷺ میرے ہاتھو ں میں آئے تو روئے آپ ﷺ کے دادا مطلب کو آپ ﷺ کی دلو ادت کی اطلا ع دی گئی وہ ااس وقت خا نہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اطلا ع ملنے پر گھر آئے بچے کو گو د میں لیا اس وقت ان کی والدہ نے ان سے کہا یہ بچہ عجیب ہے سجدے کی حالت میں پیدا ہو ا ہت پھر سجدے سے سر اٹھا کر انگلی آسما ن کی طر ف اٹھا ئی

عبد المطلب نے آپ ﷺ کو دیکھا اس کے بعد آپ ﷺ کو خا نہ کعبہ میں لے آئے آپ ﷺ کو گو د میں لئے رہے اور طو اف کر تے رہے پھر واپس لا کر حضرت آمنہ کو دیا آپ ﷺ کر عرب کے دستو ر کے مطا لب ایک بر تن میں ڈھا نپا گیا لیکن وہ بر تن ٹوٹ کر آپ ﷺ کے اوپر سے ہٹ گیا اس وقت آپ ﷺ اپنا انگوٹھا چو ستے ہو ئے نظر آئے

اس مو قع پر شیطا ن بر ی طر ح چیخا تفسیر ابن مخلد میں ہے کہ شیطا ن صرف چا ر مر تبہ چیخا پہلی با ر اس وقت جب اللہ پا ک نے اسے معلو ن ٹھرایا دوسری با ر اس وقت جب اسے زمین پر اتا را گیا تیسری با ر اس وقت جب آپ ﷺ کی پیدائش ہو ئی چو تھی با ر اس وقت جب نبی کر یم پر سو رۃ فا تحہ نا زل ہو ئی

اس مو قع پر حضرت حسان بن ثا بث کہتے ہیں میں آٹھ سال کا تھا جو کچھ سنتا اور دیکھتا تھا اس کو سمجھتا تھا ایک صبح مدینہ منو رہ میں ایک یہو دی کو دیکھا وہ ایک اونچے ٹیلے پرچڑ ھ کر چل رہا تھا لو گ اس یہو دی کے گر د جمع ہو ئے اور بو لے  کیا با ت ہے کہو ں چیخ  رہے ہو ؟ یہو دی نے جو اب دیا احمد کا ستا رہ طلو ع ہو گیا ہے اور وہ آج رات پیدا ہو گئے ہیں

حضرت حسا ن بن ثا بث بعد میں 60 سال کی عمر میں مسلما ن ہو ئے 120 سال کی عمر میں انہو ں نے وفا ت پا ئی گو یا ایما ن کی حا لت میں 60 سال زندہ رہے بہت اچھے شاعر تھے نبی کر یم ﷺ کی اپنے اشعا ر میں تعریف کر تے تھے اور دشمنو ں کی برائی کیا کر تے تھے غزوات کے مو قع پر اشعا ر کے ذرئعے مسلما نو ں کو جو ش دلا تے تھے اسی بنیا د پر انہیں شا عر رسول کا خطا ب ملا

حضرت کعب احبا ر فر ما تے ہیں کہ میں نے تو رات میں پڑھا ہے کہ اللہ پا ک نے حضرت مو سی کو آپ ﷺ کی ولا دت کی خوشخبری دی تھی جب مو سی نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس کی اطلا ع دے دی تھی اس سلسلے میں انہو ں نے فر ما یا تھا :

تمھا رے نز دیک جو مشہو ر چمک دار ستا رہ ہے جب وہ حرکت میں آئے گا وہ ہی نبی کی پید ائش کا وقت ہو گا  یہ خبر بنی اسرائیل کے علا مہ ایک دوسرے کو دیتے چلے آئے تھے اس طر ح بنی اسرائیل کو بھی آپ ﷺ کی ولا ت کا وقت معلو م تھا علا مت کے طور پر

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک یہو دی مکہ میں رہتا تھا جب وہ رات آئی جب آپ ﷺ پیدا ہو ئے تو وہ قریش میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا اس نے کہا   کای تمھا رے ہا ں آج کو ئی بچہ پیدا ہو ا ہے لو گو ں نے کہا ہمیں تو نہیں معلو م  اس پر اس یہو دی نے کہا میں جو کچھ کہتا ہو ں اسے اچھی طر ح سن لو آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہو گیا ہے اور قریش کے لو گو ں یعنی تم میں سے ہے وہ قریشی ہے

اس کے کند ھے کے ساتھ ایک علا مت ہے ( تعنی  مہر نبو ت )  اس میں سب سے زیا دہ با ل ہیں یعنی گھنے با ل ہیں اور یہ نبو ت کا نشان ہے نبو ت کی دلیل ہے اس بچے کی علا مت یہ ہے کہ وہ دو رات تک دودھ نہیں پئے گا اس با تو ں کا ذکر اس کی نبو ت کی علا مات کے طو ر پر پر انی تکب میں مو جو دہے علا مہ ابن حجر نے لکھا کہ یہ با ت درست ہے آپ ﷺ نے دو دن تک دودھ نہیں پیا تھا

یہو دی عالم نے یہ با ت بتا ئی تو لو گ وہا ں سے اٹھ گئے انہیں یہو دی کی با ت سن کر بہت حیرت ہو ئی تھی جب وہ اپنے گھر پہنچے تو سب نے اپنے گھر کےا فراد کو یہ با تیں بتا ئیں عو رتو ں کو چو نکہ حضرت آمنہ کے ہا ں  بیٹا  پیدا ہو نے کی خبر مل چکی تھی تو انہو ں نے اپنے مر دوں کو بتا یا ذرا چل کر مجھے وہ بچہ دیکھا و لو گ اسے ساتھ لئے حضرت آمنہ کے گھر کے با ہر آئے ان سے بچہ دیکھا نے کی درخو است کی آپ نے بچے کو کپڑے سے نکا ل کر انہیں دے دیا لو گو ں نے آپ ﷺ کے کند ھے سے کپڑا ہٹایا جو ہی یہو دی کی نظر مہر نبو ت پر پڑی وہ فو را بے ہو ش ہو کر گر پڑا اسے ہو ش آیا تو لو گو ں نے پو چھا تمھیں کیا ہو گیا تھا  اس پر اس نے جو اب دیا میں اس غم سے بےہو ش ہو ا ہو ں کہ  میری قوم میں بنو ت ختم ہو گئی ہے اور اے قریشیو ں اللہ کی قسم یہ بچہ تم پر زبر دست غلبہ حا صال کر ے گا اور اس کی شہرت مشرق سے مغرب تک پھیل جا ئے گی

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply