سیرت النبی ﷺ حصہ پا نچ

قصے کہا نی :

قرآن مجید میں چو نکہ بہت سے قصے بیا ن ہو ئے ہیں جیسے کہ حضرت مو سی ٰ علیہ اسلا م اور فر عون کے واقعا ت ، غا ر والے نو جوا نو ں کا وقعہ ، آگ کی خندق میں ڈالے جا نے کا واقعہ ڈیم بنا نے والی قوم کا واقعہ اسی طرح اور بے شما ر واقعات ہیں مشر کین مکہ نے شا ید یہ سمجھا کہ حضرت محمد ﷺ یہ واقعا ت سنا تے ہیں اس لئے لو گ آپ کی با تیں سننے لگ جا تے  ہیں   اور بعد میں بت پر ستی چھو ڑ دیتے ہیں ۔ انہو ں نے بھی مختلف قصے سنا نا شروع کر دیے لیکن ان کا یہ حربہ بھی نا کا م رہا کیو نکہ قرآن مجید صر ف قصے ہی نہیں بیا ن کر تا بلکہ ان قصو ں میں انسا ن کے لئے جو عبر ت اور نصیحت ہے وہ بھی بیا ن کر تا ہے ۔ ویسے بھی قرآن کا اسلوب اتنا پیارا ہے کہ جسے نہ بھی سمجھ ہو وہ بھی سنتا چلا جا تا ہے ۔ جیسے کہ لو گ کل بھی قرآن کا مطلب نہیں جا نتے تھے مگر پھر  بھی بڑے شوق سے قرآن سنتے  ہیں  ۔اور سنیں بھی کیو ں نا ؟ یہ قرآن ہے اتنا پیا را ، کیو نکہ یہ اللہ پا ک  کا       کلا م ہے جس سے انسا ن کبھی نہیں اکتا تا ۔

ظلم و ستم :

انسا ن کی عادت ہے کہ جب وہ کسی سے نفرت کر تا ہے تو اپنا غصہ نکا لنے کےلئے ہا تھا پا ئی کر نے لگ جا تا ہے ۔ ایسا ہی مشر کین مکہ نے بھی کیا کہ جب انہو ں نے دیکھا کہ  مسلما ن  بڑ ھتے ہی جا رہے ہیں تو انہو ں نے ان پر ظلم و ستم کر نا شروع کر دیا ۔ ایسے ایسے لم کیے کہ انسا ن کے تصور سے ہی کا نپ      جا تے ۔

چند مظا لم :

آپ ﷺکا نا م بگا ڑا گیا ۔

طعن وتشنیع  کی گی ۔

سجدےکی حا لت میں گند گی پھینکی گئی ۔

بیٹے کے انتقال پرابتر کہا گیا۔

چہر ے پر پتھر مارا گیا ۔

کعبہ میں نما  ز کے لئے روک دیا گیا۔

آپﷺ کےصحا بہ علیہاسلا م کو ما را پیٹا گیا ۔

عثما ن ؑ کے چچا انہیں کھجو ر کی چٹا ئی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں  دیتے ۔

مصعب بن عمر ؑ کی والدہنےانہیں گھر سے ہی نکال دیا۔

بلا ل  ؑکوگلےمیں راسی ڈ ال  کر مکہ کےپہا ڑ وںمیں  گھسیٹاگیا۔

ڈنڈےا رے  گئے۔

بھوکاپیاسا رکھاگیا۔

گر  م زمین پر لٹا کرسینے پرپتھررکھےگئے۔

حتی   کہ       بعض صحابہ کو توشہیدبھیکردیا گیا۔

اسلا م کی سب سے پہلےشہیدخا تو ں حضرت     سمیہ ؑ ہیں جنہیں اسلا م نہ چھو ڑنے پر شہید کیاگیا  ۔ ان کی ایک ٹا نگ پر رسی با ندھ کر ایک اونٹ  کے ساتھ اور دو سری ٹا نگ پر رسی با ند ھ کر دوسرے اونٹ کے ساتھ با ند ھ دیا ۔ اونٹوں کو مخا لف سمت میں  بھگا یا ، ٹا نگیں ٹو ٹگئیں اور ایک نیزہ شرمگا ہ پر ما ر کر شہید کر دیا گیا ۔

اللہ پا ک ان سب سے راضی ہوجا ئے  آمین

مگرانسب کے با وجو د ان میں سے کو ئی بھی ایما  ن سے منحر ف نہ ہو ا  ۔ اسلانہ چھو ڑا ۔ اس سب میں ہما رے لئے یہ نصیحت ہے کہ ہم بھی اسلا م پر عممل کر یں ۔ہا رے اسلا ف اور بڑے اسلام کی خا طراتنی تکلیفیں سہتےرہےمگرانہوں نے اسلا م نہ چھو ڑا   کیو نکہ اللہ پا ک کی نعمتو ں میں سے سب سے بڑی نعمت اسلا م کی نعمت ہے ۔

اللہ پا ک سے یہی دعا ہے کہ ہمیں اسلا م پر زندہ رکھے اور ایما ن کی حا لت میں مو ت دے ۔ آمین

قطعی تعلقی  :

اس ک    سب کے با وجو د جب لو گ اسلا نہ چھو ڑ رہے تھے سب مشر کین نے ملکر آپﷺاور آپ کےصحا بہاکرا ؑکاساشلمعاشرتی بائیکاکر دیا ۔

یہ   بائیکا ٹ3  سال تک جا ری رہا اس کا قصہ الگ سے بیا ن کیا جا ئے گا ۔

آخر کا ر مکہ سے نکا ل دیا  :

ایسے حا لا ت پیدا کر دیے کہ ابتدا میں صحا بہ کرام ؑ       کو حبشی کی طرف اور  پھر حتی کہ 13 بر س بعد آپ ﷺ کو ہی مکہ چھو ڑ کر مد ینہ کی طرف ہضرت کر نا پڑ ی ۔ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کا تذ کر ہ بھی ان  کی اہمیت کے پیش نظر الگ سے آئے گا ۔ ان شا ء اللہ العظیم

ہجر ت حبشہ کےدلچسپ واقعات

اعلا ن نبو ت کے پانچو یں سال تک جب مشرکین کی تکالیف حد سےبڑ ھ گئیں تو آپﷺ کی اجا زتسےرجب     کے مہینے  میں 12 مرداور 4 عورتو ں پر  مشتمل ایک   چھو ٹے سے  قا فلے نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جس کے امیر سفر حضرت عثما ن ؑ  تھے اور اس میں رسو ل اللہ ﷺ کی بیٹی رقیہ ؑ جو عثما ن ؑ کی بیو ی تھیں وہ شا مل تھیں ۔

بہت بڑ ا جھو ٹ ؛

جیسا کہ پہلے بتا یا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عاد ت تھیکہ حر م میں قر آن مجید کی تلا وت کیا کر تے ۔ قریش اس وقت شور کر تے تا کہ لو گ قرآن نپہ سن سکیں ۔ اسی سال رمضان  میں نبی پا ک ﷺ حر م میں تلاوت کر رہے تھے ۔ اتفاقا   وہا ں    بہت سے سر د  اران کفا ر بھی مو جو د تھے ۔ آپ ﷺ سور ۃ النجم کی تلا وت کر رہے تھے ۔ خو بصور ت کلا م اور خو بصورت آواز ، پڑ ھنے والے بھی وہ کہ جس پر قرآن پا ک نا زل ہو ا۔ اس درد سے پڑ ھا کہ جب آیت سجدہ آئی تو آپ ﷺ نے سجدہ کیا ہی مگر ساتھ ساتھ جو  سن رہے تھے انہو ں نے بھی بے اختیا ری سے سجدہ کر لیا ۔ بس     پھر  کیا تھا ۔ ہر طرف مشہو ر ہو گیا بڑے بڑے سرداروں  نے محمد ﷺ کے رب کو سجدہ کر لیا یعنی مسلما ن ہو گئے ہیں۔  یہ خبر پھیلتی پھیلتی حبشہ میں بھی چلی گئی۔وہ لو گ وہا ں سے واپس آگئے۔ابھی کہ یں داخل نہ ہوئے تھےکہ ان کومعالوم ہوا یہ  خبرجھوٹی ہے۔

ہوایہ کہ :جب ان کفارکے سجدہ کی خبر مشہو ر ہو ئی تو وہ بڑے پر یشا ن ہو ئے کہ  اب جن لو گو ں کو وہ کہتے تھے کہ قرآن نہ سنو اب قرآن سننے کے سبب انہو ں نے ہی بے اختیا ری میں سجدہ کر لیا ۔ ااس با ت حل انہو ں نے یہ نکا لا کہ نبی پا ک ﷺ پر جھوٹ با ند ھ ایا کہ سورت النجم کیتلا وت کے دوران آپ ﷺ نے کفا رکی  دیو یدیوتاؤںبتو ں کی اہمیت   ما ن لی ہے۔ کہنے لگت آپ ﷺ نے تلا وت کے دوران جب یہ کہا کہ 

یہ بلندپا یہ دیویا ں ہیںاوران کی شفا ت کی امید کی جا تی ہے۔

یہ اتنا بڑا جھو ٹ تھا کہ جس کہ کو ئی حد نہیں ۔

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )