سیرت النبی ،اسلام کی تبلیغ

یہ حکم ملتےہی آپ نے قر یش کو بر اہ راست تبلیغ شرو ع کر دی اور حا لت اس وقت یہ تھی کہ کا فرو ں کے پا س پو ری طا قت تھی اور وہ آُ پ کی پیر وی کر نے کے لیے ہر گز تیا ر نہیں تھے ، کفر اور شر ک ان کے دلو ں میں بسا ہو ا تھا ۔ بتو ں کی محبت ان کے اندر سرا یت کر چکی تھی ۔ان کے دل اس شر ک اور گمرا ہی کے سوا کو ئی چیز بھی قبو ل کر نے پر آمدہ نہیں تھے ۔ شر ک کی یہ بیما ری لو گو ں میں پو ری طرح سما چکی تھی ۔

آپ ﷺ کی تبلیغ کایہ  سلسلہ  جب بہت بڑ ھ گیا تو قر یش کے درمیا ن ہر وقت آپ ہی کا ذکر ہو نے لگا ۔ وہ لو گ ایک دوسرے سے بڑ ھ چڑ ھ کر آپ سے دشمنی پر اتر آئے ۔ آپ کے قتل کے منصو بے بنا نے لگے۔ یہا ں تک سو چنے لگے کہ آپ کا معا شر تی با ئیکا ٹ کر دیا جا ئے ۔ لیکن یہ لو گ پہلے ایک با ر پھر ابو طا لب کے پا س گئے اور ان سے بو لے :

ابو طا لب ! ہما رے در میا ن  آپ بڑ ے قا بل عزت دار اور بلند مر تبہ آدمی ہیں ، ہم نے آپ سے در خو است کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو رو کیے ، مگر آپ نے کچھ نہیں کیا ، ہم لو گ یہ با ت بر دا شت نہیں کر سکتے ہما رے معبو دو ں کو اور با پ داداؤں کو برا کہا جا ئے ۔ ہمیں بے عقل کہا جا ئے ۔ آپ انہیں سمجھا لیں ورنہ پم آپ سے اور ان سے اس وقت تک مقا بلہ کر یں گے جب تک کہ دونو ں فر یقوں میں سے ایک ختم نہ ہو جا ئے ۔

قتل کی کو شش

قر یش تو یہ کہہ کر چلے گئے ، ابو طا لب پر یشا ن ہو گئے ۔ وہ اپنی قوم کے غصے سے اچھی طرح وا قف تھے ۔ دوسری طرف وہ اس با ت کو پسند نہیں کر سکتے تھے کہ کو ئی بھی شخص حضو ر ﷺ کو رسوا کر نے کی کو شش کر ے ، اس لیے انہو ں نے حضو ر نبی کر یم ﷺ سے کہا :

بھتیجے ! تمہا ری قوم کے لو گ میر ے پا س  آئے تھے ، انہو ں نے مجھ سے یہ یہ کہا ہے ، اس لیے اپنے اوپر اور مجھ پر رحم کر و اور مجھ پر ایسا بو جھ نہ ڈالو جس کو میں اٹھا نہ سکو ں ۔”

ابو طا لب کی اس گفتگو سے نبی کر یم ﷺ نے خیا ل کیا کہ اب چچا ان کا سا تھ چھو ڑ  رہے ہیں ، وہ بھی اب آپ کی مدد نہیں کربا چا ہتے ، آپ کی حفا ظت سے ہا تھ اٹھا رہے ہیں ، اس لیے آپ نے فر ما یا :

چچا جا ن اللہ کی قسم ! اگر یہ لو گ میر ے دو ئیں ہا تھ پر سو رج اور با ئیں ہاتھ پر چا ند بھی رکھ دیں اور یہ کہیں کہ میں اس کا م کو چھو ڑ دو ں ، تو بھی میں اسے ہر گز نہیں چھو  ڑوں گا یہا ں تک کہ خو د اللہ تعا لیٰ ظا ہر فر ما دیں ۔”

یہ کہتے ہو ئے آپ کی آواز بھرا گئی ۔ آپ کی آنکھو ں میں آنسو آگئے ۔ پھر آپ اٹھ کر جا نے لگے ، لیکن اس وقت ابو طا لب نے آپ کو پکا را :

بھتیجے ادھر آؤ ۔”

آپ ان کی طرف مڑ ے تو انہو ں نے کہا :

جا ؤ بھتیجے ! جو دل چا ہے کہو ، اللہ کی قسم میں تمہیں کسی حا ل میں نہیں چھو ڑو ں گا ۔ جب قریش کو اندا زہ ہو گیا کہ ابو طا لب آپ کا سا تھ چھو ڑنے پر تیا ر نہیں ہیں تو وہ عما رہ بن ولید کو سا تھ لے کر ابو طا لب کے پا س آئے اور بو لے :

ابو طا لب ! یہ عما رہ بن ولید ہے ۔ قریش کا سب سے زیا دہ بہا در ، طا قت ور اور سب سے زیا دہ حسین نو جو ان ہے ۔ تم اسے لے کر اپنا بیٹا بنا لو اور اس کے بد لے میں اپنے بھتیجے کو ہما رے حو لے کر دو ، اس لیے کہ وہ تمہا رے اور تمہا رے با پ دادا کے دین کے خلا ف جا رہا ہے ، اس نے تمہا ری قوم میں پھو ٹ ڈا ل دی ہے اوران کی عقلیں خرا ب کر دی ہیں ۔ تم اسے ہما رے حوا لے کر دو تا کہ ہم اسے قتل کر دیں ۔۔ انسا ن کے بدلے میں ہم تمہیں انسان دے رہے ہیں ۔”

قر یش کی یہ بے ہو دہ تجویز سن کر ابو طا لب نے کہا :

اللہ کی قسم ! یہ ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کو ئی اونٹنی اپنے بچے کو چھو ڑ کر کسی دوسرے بچے کی آرزومند ہو سکتی ہے ۔”

ان کا جو اب سن کر مطعم بن عدی نے کہا :

ابو طا لب ! تمہا ری قوم نے تمہا رے ساتھ انصا ف کا معا ملہ کیا ہے اور جو با ت تمہیں نا پسند ہے اس سے چھٹکا رے کے لئے کو شش کی ہے ۔ اب میں نہیں سمجھتا کہ اس کے بعد تم ان کی کو ئی اور پیش کش قبو ل کر و گے ۔”

جو ا ب میں ابو طا لب بو لے :

اللہ کی قسم ! انہو ں نے میر ے سا تھ انصا ف نہیں کیا ۔ بلکہ تم سب نے مل کر مجھے رسوا کر نے اور میر ے خلا ف گٹھ جو ڑ کر نے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے ، اس لیے اب جو تمہا رے دل میں آئے کر لو ۔”

بعد میں یہ شخص یعنی عما رہ بن ولید حبشہ میں کفر کی حا لت میں مرا ۔ اس پر جا دو کروا دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد یہ وحشت زدہ ہو کر جنگلو ں اور گھا ٹیو ں میں ما را ما را پھرا کر تا تھا ۔ اسی طرح دوسراشخص مطعم بن عدی بھی کفر کی حا لت میں مرا ۔

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply