سیر ت النبی ﷺ حصہ دو ئم

کعبہ پر حملہ

پو رے عر ب کے  بہت سے لو گ خا نہ کعبہ آیا کر تے تھے اور یہا ں پر عبا دت کرتے تھے ۔

یمن میں ایک عیسا ئے شخص رہتا تھا جس نے کعبہ کی طرح اپنا ایک وبا دت خا نہ بنا یا جسے کلیسا کہتے ہیں ۔ یہ اس لیے بنا یا کہ لو گ کعبہ  کی جگہ وہا ں آیا کر یں ۔

کعبہ کے قر یب رہنے والے ایک قبیلہ جس کا نا م خزاعہ تھا اس کے ایک آدمی نے کلیسا میں گند گی کر دی ۔اس با دشا ہ کو بہت غصہ آیا ۔ کہنے لگا جس طرح تم نے میرے کلیسا کی تو ہین کی ہے یں بھی تمہا رے کعبہ کو گرا دو نگا ۔

اس نے 50 ہا تھیو ں اور بہت سے گھو ڑے و اونٹو ں پر اپنی فو ج کو سو ار کیا اور کعبہ کو گرا نے کے لیے چل پڑا ۔ جب کعبہ کے قر یب ایک علا قے محسر میں پہنچا تو وہاں آپ ﷺ کے دادا کے سو اونٹ مو جو د تھے ۔ اس نے کعبہ پر قبضہ کر لیا ۔ انہو ں نے کہا کہ میرے اونٹ مجھے دے دو ۔ وہ با دشا ہ کہنے لگا میں تمہارے کعبہ کو گرا نے آیا ہو ں اور تم مجھ سے اونٹ ما نگ رہے ہو ۔ وہ کہنے لگے کہ یہ اونٹ میرے ہیں اور کعبہ تو اللہ پا ک کا گھر ہے ۔ اللہ پا ک اپنے گھر کی حفا ظت خو د کر یں گے ۔ اس با دشا ہ نے اپنی فو ج کو حکم دیا کہ جلدی چلو تا کہ کعبہ کو گرا یا جا سکے۔ اللہ پا ک نے بہت سے پر ندے بھیجے جن کی چو  نچ اور پنجوں میں کنکریا ں تھیں ۔ انہو ں نے وہ کنکر یا ں ان پر پھینکنی شروع کر دی ۔ جب کنکریا ں ہا تھیو ں کو لگی تو وہ ادھر اُ دھر بھا گے ۔ جس کی وجہ سے وہاں مو جو د اونٹ اور گھو ڑے بھی بد مست ہو گئے اور ا ن کے پا ؤ ں کے نیچے انہی کی فو جی آنے لگے ۔اس طرح با دشا ہ اور سا ری فو ج ہی مر گئی ۔پو رے علا قے پر روعب طا ری ہو گیا کہ کعبی سب سے اہم جگہ ہے جس کی حفا ظت خو داللہ پاک کر تے ہیں ۔ اس با دشا ہ کا نا م ابر ھ تھا اور یہ سا را واقعہ اللہ پا ک نے سو رۃ الفیل میں ذکر کیا ۔

پیدا ئش سے جوا نی تک کی کہا نی :

پیدا ئش سےْچند ما ہ قبل  والد کی وفا ت :

آپ ﷺ کے والد مد ینہ میں تھے کہ آپ کے والد کی طبیعت خرا ب ہو گئ ۔ آپ اس وقت نا بغہ جعدی کے مقا م میں تھے کہ وہیں آپ کا انتقال ہو گیا  وہی آپ کو دفن کیا گیا ۔

رضا  عی ما ں کے پا س چند سا ل :

ربیع الا ول کے مہنیے میں سو مو ار کے دن آپ ﷺ اس دینا میں تشر یف لا ئے ۔ جب آپ ﷺ چھوٹے تھے تو آپ کو ایک دا ئی حلیمہ سعدیہ کے پا س بھیج دیا گیا ۔ جب آپ ﷺ کی عمر 5 سا ل ہوئی تو ایک دن آپ دوسرے بچوں کے سا تھ تھے  کہ حضر ت جبرا ئیل علیہ اسلا م نے اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کو اٹھا یا اور ان کا سینا چا ک کیا  با کی بچے ڈر گئے اور گھر جا کر بتا یا ببی حلیمہ آئی اتنی دیر میں جبرا ئیل جا چکے تھے ۔ اس با ت پر ضلیمہ سعدیہ نے اپنے خا وند سے مشہو رہ کیا اور حضر  ت محمد ﷺ کو واپس دے آئے ۔

ولداہ کی وفا ت  :

جب آپ ﷺ کی عمر 6 سا ل ہو ئی تو ولداہ آمنہ نے اہنے سسر سے اجا زت لی کہ وہ اپنے شوہر کی قبر کو دیکھنا چا ہتی ہے ۔ انہو ں نے اجا زت دے دی ۔ واپسی پر مقا م ابواء پر آپ ﷺ کی والداہ کا انتقال ہو گیا ۔

بچپن سے جوانی تک کی با تیں :

جب آپ ﷺ کی عمر 8 سا ل ہو ئی تو آپﷺ کے دادا ابو مطلب انتقال کر گئے ۔ جب آپ ﷺ کی عمر 11 سے 15 سا ل ہو ئی تو آپ ﷺ کے چچا ابو طا لب آپﷺ کو لے کر شام کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک بحیرہ نا می راھب ملا ۔ انہو ں نے مہر نبو ت سے پہچا ن کر آپ ﷺ کے آخر ی نبی ہو نے کی خبر دی اور انہیں واپس بھیجوا نے کا مشورہ دیا ۔ اس پر آپ ﷺ کو واپس بھیجوا دیا گیا ۔ بچپن میں آپ ﷺ بکر یا ں بھی چرا تے رہے ۔

آپ ﷺ کی شا دی اور اولا د کی با تیں :

آپ ﷺ کی شا دی حضر ت خد یجہ ؑ سے ہو گئی ۔ اللہ پا ک نے آپ ﷺ کو دو بیٹے عطا کیے ۔ بڑے بیٹے کا نا م قاسم رکھا ۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کی کنیت ابو القاسم یعنی قا سم کی والد تھی ۔

دوسرے بیٹے کا نا م   عبداللہ رکھا جنہیں پیا ر سے طعیب اور طا ہر بھی کہتے ہیں ۔ یہ دو نو ں بیٹے چھوٹی عمر میں ہی انتقال کر گئے ۔ اللہ پا ک نے آپ ﷺ کو 4 بیٹیا ں عطا کی ۔ بڑی بیٹی کا نا م زینب اور دوسری بیٹی کا نا م ر قیہ تیسری بیٹی کا نا م ام قلثو م اور چھو ٹی بیٹی کا نا م فا طمہ رکھا ۔ رضی  اللہ عنہم ۔ اللہ پا ک سب سے را ضی ہو جا ئے ۔ آمین ۔

تعمیر کعبہ ، غا رحرا اور پہلی وحی

کعبہ کی تعمیر کی کہا نی :؎

نبی پا ک ﷺ کی عمر 35 سا ل تھی جب مکہ والو ں نے خانہ کعبہ کو دو با رہ تعمیر کر نے کا فیصلہ کیا ۔ جب تعمیر کا کا م مکمل ہو گیا تو حجر اسود کی تنصیب یعنی اسے با ب الکعبہ کے پا س رکھنے پر جھگڑ ا شروع ہو گیا کہ اسے وہا ں کو ن رکھے گا ؟ فیصلہ یہ ہو کہ اگلے دن صبح جو سب سے پہلے خا نہ کعبہ آئے گا وہی یہ کا م کر ے گا ۔ اللہ پا ک  کے حکم سے اگلی صبح  سب سے پہلے حضر ت محمد ﷺ دا خل ہو ئے لیکنآپ ﷺ نے حجراسود خو د رکھنے کی بجا ئے اپنی چا در پر حجراسود رکھا اور با قی سرداروں کوکہاکہسبل کر چا در اٹھا  یں ۔ اس طرح سب ہی خو ش ہو گئے ۔ پھر لو گ چادر کو اٹھا ئے جب خانہ کعبہکےپاس پہنچے تو آپ ﷺ نےحجراسود کو اٹھاکر کعبہ کے دروازےوالےکونے میں  رکھ دیا ۔

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )