سیر ت النبی ﷺ حصہ 9

انسا ن کو کو ئی ضر ور ت وقتی نہیں ہو تی وہ مستقل سا ل کے با رہ ما ہ کھا نا کھا تا ہے ، کا ر ہے نو کر ی کر تا ہے ، ضرورت کے مطا بق سوتا ہے با تیں کر تا ہے ۔

ان ضر وریا ت کی تکمیل اللہ پاک کی دی ہو ئی نعمتو ں سے ہی ممکن ہے لہذا اپنی ضروریا ت کی  تکمیل کے لئے اسے اپنے رب کو ان کا مو ں سے راضی رکھنا چا ہیے جن کا حکم اس رحیم و کر یم نے دیا ہے ۔ انہی احکا ما ت میں سے ایک حکم یہ بطھی ہے جو کسی حا لت میں بھی معا ف نہیں اور وہ ہے نماز ۔

ایسا بھی نہیں ہو تا کہ انسا ن سا ل میں ایک ما ہ کھا ئے ، پیے کا رو با ر کر ے  ، سو  ئے ،  سا نس لے ، دیکھے ، سنے ، چلے پھر ے ، اور پو را سال یہ کا م نہ کر ے ، تو پھر پو رے سال میں رمضا ن آنے پر ہی نماز کا اہتما م کر نا اور با قی گیا رہ ما ہ اس  سے صر ف نظر کر نا ، کبھی پڑھ لی کبھی چھو ڑ دی ، رب کی احسا ن فرا مو شی نہیں تو اور کیا ہے ؟

ذارا سو چیئے !

نبی کر یم ﷺ نے نماز کو آنکھو ں کی ٹھنڈ ک کہا ہے ۔ (سنن نسا ئی : 3939

کیا یہ فر ما ن گر امی صر ف رمضا ن کی نما زو ں کے متعلق تھا ۔

نماز قا ئم کر و ۔ کا حکم صر ف رمضا ن کے حوالے سے نہ تھا ۔

اللہ پا ک تو فر ما تے ہیں :

“نما ز قائم کر و اور مشر کو ں میں سے نہ ہو جا ؤ “

پو ری زند گی نماز قا ئم کر نا مشر کین سے تمییز  کا زر یعہ ہے ۔

سو رت القلم آیت نمبر 43 میں آتا ہے کہ قیا مت کے دن جب اللہ پا ک پنڈ لی سے پر دہ اٹھا ئیں گے اور سب کو سجدہ کا حکم ہو گا تو کچھ لو گ سجدہ نہ کر سکیں اس کاسبب یہ ذکر ہو ا کہ :

“ان کی نگا ہیں نیچی ہو ں گی ، ذلت انہیں گھیرے ہو ئے ہو گی ، حا لنکہ انہیں سجدے کی طرف بلا یا جا تا تھا ، جب کہ وہ صحیح سالم تھے “

یعنی دینا میں نماز کے لئے پکا را جا تا تھا ۔ روزانہ پا نچ وقت  پو ری زند گی حیی علی الصلوۃ اور نماز کی طرف حیی علی الفلا ح اور کا میا بی کی طرف کہ نماز ہی میں کا میا بی ہے ، صدائیں وہ سنتا رہا اور عملی تکبر کا مر تکب ہو ا ۔نما ز نہ پڑ ھتا تھا حا لا نکہ وہ جا نتا تھا کہ اس کے پیا رے نبی ﷺ نے مسلما نو ں اور کا فرکے درمیان فر ق ہی نماز کو کہا ہے ۔

پھر قیا مت کے دن جب لو گو ں کی جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جا ئے گا تو فر ما یا کہ  لو گ جنتوں میں سوال کر یں گے مجر موں سے کہ تمہیں کس چیز نے سقر یعنی جہنم میں داخل کر دیا ؟وہ کہیں :

ہم نماز ادا کر نے والو ں میں نہیں تھے ۔

نبی کر یم ﷺ تو کسی نفلی عمل کع بھی شروع کر تے تو اس پر دو ام اختیا ر کر تے ۔ جب کے ہما رے یہا ں رمضا ن کے بعد مسا جد وہرا ن ہو جا تی ہیں ۔ حضر ت عا ئشہ ؑ فر ما تی ہیں :

آپ ﷺ رمضا ن اور غیر رمضا ن میں گیارہ رکعا ت سے زیا دہ نماز ادا نہیں کر تے تھے یعنی تہجد صر ف  رمضا ن میں نہیں بلکہ با قی گیا رہ ما ہ بھی اداد کر تے تھے ۔

اپنے صحا بہ اکرام کو بھی مستقل مز اجی سے عبا دت کی تلقین کر تے ۔ حضر ت  عا ئشہ ؑ فر ما تی ہیں کہ  رسول ﷺ سے کسی نے دریا فت کیا کہ کو ن سا عمل اللہ کو سب سے زیا دہ  محبو ب  ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا :

” وہ عمل جو مقدا ر میں اگر چہ کم ہو لیکن جسے خو ب پا بند ی سے انجا م دیا جا ئے “

ایک مر تبہ آپ ﷺ گھر میں تشر یف لے گئے تو دیکھا کہ حضر ت عا یشہ ؑ  کے پا س یاک عورت بیٹھی ہو ئی ہے ۔ در یا فت فر ما یا : یہ کو ن ہے ؟عر ض کیا : فلا ں عورت ہے ۔ اس کی نماز و ں کا بہت چر چہ ہے” آپ ﷺ نے فر ما یا :

” چھو ڑ دو تم پر وہی نا زل ہے جس کی تم طا قت رکھتے ہو پس اللہ کی قسم اللہ اجز دینے سے نہیں تھکتا حتی کہ تم عمل کر نے سے تھک جا تے ہو اور اس کے یہا ں سب سے پسندیدہ دین وہ ہے جس پر اس کا کر نے والا ہمیشگی اختیا ر کر تا ہے ۔

آپ ﷺ نوافل تک کے معا ملے میں ایسے پا بند تھے کہ اگر کسی وجہ سے   تہجد ادا نہ کر پا تے تو اس ی جگہ دن میں با رہ رکعتیں   پڑ ھ لیتے تھے ۔

اور ایک ہما را معا شرتی رویہ ہے کہ فر ض نماز تک  صرف رمضا ن تک محدود ہو کر رہ گئیں ہیں ۔

آئیے ہم ا بھی سے عہد کر تے ہیں کہ اپنی زند گی میں کبھی نماز نہ چھو ڑیں گے کیو نکہ پہلا سوال ہی نماز کے با رے میں ہو گا اور جو اس میں کا میا ب ہوا وہ فلا ح پا گیا اور جو اس میں نا کا م رہا وہ خسا رہ میں رہا ۔

اے اللہ ہمیں ہما رے اہل و عیا ل ، خا ندا ن واحبا ب سب کو نماز کی تو فیق عطا فر ما اور ہمیں ایے دو ستو ں کی مجلس و غا فلو ں کے ساتھ سے بچا جن کے سبب رمضا ن گز رتے ہی ہم نماز سے غا فل ہو جا تے ہیں ۔ اے اللہ ہمیں ایسے دو ست اور احبا ب عطا فر ما جو ہمیں دینا کی مصروفیت سے نکا ل کر نماز کا پا بند بننے میں ہما ری مدد کر یں ۔ اے اللہ ہم آخر ی سا نس تک تیرے مطیع و فر ما نبردار رہیں اور تجھ سے ایما ن کی حا لت میں ملیں ۔

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )

Leave a Reply