سیرت النبی ،مشرکین کے مطا لبا ت

اس طر ح ان کےجو مطا لبا ت ہیں ان کو بھی پو را کر دیا جا ئے لیکن اس کے بعد بھی اگر یہ لو گ ایما ن نہ لا ئے تو سابقہ قو مو ں کی طر ح ان پر بھی ہو لنا ک عذاب ہو گا ایسا عذا ب کہ آج تک کسی قوم پر نا زل نہ ہو ا ہو گا اور اگر ایسا نہیں چا ہتے تو میں ان پر رحمت اور تو بہ کا دروازہ کھو لا رکھو ں گا

یہ سن کر آپ ﷺ نے عر ض کیا با ری تعا لی آپ ان پر تو بہ کا دروازہ کھا لے رکھیں در اصل آپ ﷺ جا نتے ہیں کہ قریش کے یہ مطا لبا ت جہا لت کی بنیا د پر ہیں کیو نکہ یہ لو گ رسول کو بھیجنے کی حکمت کو نہیں جا نتے تھے رسولو ں کا بھیجا جا نا تو دراصل مخلو ق کا امتحا ن ہو تا ہے کہ وہ رسولوں کی تصدیق کر یں اگر اللہ پا ک درمیا ن سے سارے پر دے ہٹا دے اور لو گ آنکھو ں سے سب کچھ دیکھ لیں  تو پھر انبیا اور رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی با قی نہ رہے اور غیب پر ایما ن لا نے کا کو ئی معنی ہی نہیں رہتا

مکہ کے مشرکین کے دو یہو دی عالمو ں کے پا س اپنےآدمی بھیجے یہ یہو دی عالم مد ینہ میں رہتے تھے دنو ں قا صدوں نے یہو دی عالمو ں سے ملا قات کی اور ان سے کہا :

ہم آپ کے پا س اپنا معا ملہ لے کر آئے ہیں ہم لو گو ں میں ایک یتیم لڑکا ہے اس کا دعو ی ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے یہ سن کر یہودی بو لے ہمیں اس کا حلیہ بتا وقا صدوں نے اس کا حلیہ بتایا تب انہو ں نے پو چھا تم لو گو ں میں سے کن لو گو ں نے ان کی پیر وی کی ہے انہو ں نے جو اب دیا کم درجے کے لو گو ں نے اب انہو ں نے کہا کہ تم جا کر ان سے تین سوال کر و اگر انہو   ں نے تین سوالو ں کے جوا ب درست دے دیئے تو وہ اللہ کے نبی ہیں اور اگر جو اب نہ دے سکے تو پھر سمجھ لینا کہ وہ شخص جھو ٹا ہے

تین سوال : پہلےان سے ان نو جو انو ں کے با رے میں سوال کرو جو پچھلے زما نے میں کہیں نکل گئے تھے یعنی اصحا ب کہف کے با رے میں ان سےپو چھو کہ ان کا کیا واقعہ تھا اس لئے کہ ان کا واقعہ نہا یت عجیب و غریب تھا ہما ری کتا بو ں کے علا وہ اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا  اگر وہ نبی ہیں تو اللہ پا ک کی طر ف سے خبر پا کر ان کے با رے میں بتا دیں گے ورنہ نہیں بتا سکیں گے

پھر ان سے یہ پو چھنا کہ سکند ر ذوالقرنین کو ن تھا اس کا کیا قصہ ہے پھر ان سے روح کے با رے مین پو چھنا کہ وہ کیا چیز ہے اگر انہو ں نے پہلے دنو ں سوا لو ں کا جو اب دے دیا تو سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں اس صو رت میں تم ان کی پیروی کر نا

یہ لو گ تین سوالات لے کر مکہ واپس آئے اور قریش سے کہا ہم ایسی چیزیں لے کر آئیں ہیں جس سے ہما رے اور محمد کے درمیا ن فیصلہ ہو جا ئے گا اس کے بعد انہو ں نے انہیں تفصیل بتا ئی  اب یہ مشرکین حضور اکرم ﷺ کے پا س آئے  اب انہو ں نے کہا کہ اے محمد اگر آپ سچے ہیں تو ہما ے تین سوا لا ت جو اب دیں ہما را پہلا سوال یہ ہے کہ اصحا ب کہف کو ن تھے دوسرا یہ کہ ذوالقرنین کو ن تھے تیسرا یہ کہ رو  ح کیا چیز ہے ؟

آپ ﷺ نے ان کے سوالات سن کر فر ما یا

میں ان سوالا ت کے جو ابات کل دوں گا نبی کر یم ﷺ نے اس جملے میں انشا اللہ نہ فر ما یا یعنی یہ نہ فر ما یا کہ میں تمھیں کل جو اب دوں گا قریش آپ کا جو اب سن کر واپس چلے گئے آپ ﷺ وحی کا انتظا ر کر نے لگے لیکن وحی نہ آئی دو سرے دن وہ لو گ آگئے آپ انہیں کو ئی جو اب نہ دے سکے وہ لو گ لگے با تین کر نے انہو ں نے یہ تک کہہ دیا

محمد کے رب نے انہیں چھو ڑ دیا ان لو گو ں میں ابو لہب کی بیو ی ام جمیل تھی اس نے بھی یہ الفاظ کہے میں دیکھتی ہوں کہ تمھا رے ما لک نے تمھیں چھو ڑ دیا ہے اور تم سے نا راض ہو گیا ہے نبی کر یم ﷺ کو قریش کی یہ با تیں بہت شا ق گزریں آپ بہت پر یشا ن اور غمگین ہو گئے آخر جبرائیل سو رہ کہف لے کر نا زل ہو ئے اللہ پاک کی طر ف سے آپ ﷺ کو ہد ایت کی گئی اور آپ کسی کا م کی نسبت یو ں نہ کہا کر یں کہ اس کو کل کر دوں گا مگر اللہ کے چا ہے کو بلالیا کر یں یعنی انشا اللہ کہا کر یں آپ ق بھو ل جا ئیں تو اپنے رب کا ذکر کر یں اور کہہ دیں کہ مجھے امید ہے میرا رب مجھے( نبو ت کی دلیل بننے کے اعتبا ر سے )اس سے بھی نز دیک تر با ت بتا دے گا (سورہ کہف )

مطلب یہ تھا کہ جب آپ کہیں آیندہ فلا ح وقت پر یہ کا م کر وں گا تو اس کے ساتھ انشا اللہ ضرور کہیں اگر آپ اس وقت اپنی با ت سے ساتھ ان شا اللہ کہنا بھو ل جا ئیں تو یا د آنے پر کہہ دیں اس لئے کہ بھو ل جا نے کے بعد یا د آنے پر وہ ان شا اللہ کہنا بھی ایسا ہی ہے جیسے گفتگو کے ساتھ کہہ دینا ہو تا ہے

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply