You are currently viewing تراویح کے متعلق مسائل
Problems related to Taraweeh (Part II)

تراویح کے متعلق مسائل

 حصہ سوئم

بوقت ضرورت تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے دلائل سے اس کو وا ضح کریں جبکہ کچھ لو گ منع کرتے ہیں اور منع والی روایا ت پیش کر تے ہیں جیسے امام ابو حنیفہ قرآن دیکھ کر پڑھنا منع کرتے ہیں ؟

ضرورت کے وقت قرآن دیکھ کر تراو یح پڑ ھنا جا ئز ہے اور صحیح ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عا ئشہ ؑنے اپنے غلا م کو ترا ویح پڑ ھا نے کا حکم دیا اور وہ قرآن سے دیکھ  کر سیدہ عا ئشہ ؑ کو تراویح پڑ ھا تے یہ روایت صحیح بخا ری میں مو جود ہے سیدہ عا ئشہ ؑ دین کی بڑی عا لمہ و فا ضلہ تھیں ان سے صحا بہ اور صحا بیا ت دین سیکھتے اور مسا ئل دریا فت کرتے تھے ظا ہر سی بات ہے ان کی فقا ہت کے سا منے بعد وا لے یا ائمہ اربعہ کی فقا ہت کچھ بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی صحا بی سے حضرت عا ئشہ ؑ کے اس عمل کی مخا لفت وارد نہیں ہے حتی کہ عمومی طو ر پر بھی کسی صحا بی نے مصحف دیکھ کر نما زپڑھنے سے منع نہیں کیا ہے تین صحا بہ کرام کا نام ذکر کیا جا تا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مصحف دیکھ  پڑھنا صحیح نہیں ہے مگر اس با رے میں صحا بی کا کوئی اثر ثا بت نہیں ہے مند رجہ سطو ر میں ان کا خلا صہ پڑھیں ۔

(1)(عما ر بن یا سر ؑ نما ز میں قران دیکھ کر پڑھنا برا  سمجھتے اور اسے اہل کتا ب کا طریقہ بتا تے )۔ یہ اثر تا ریخ بغداد میں مو جود ہے اور تا ریخ بغداد کے محقق دکتو ر بشا ر عواد معروف نے المیزان (4/ 507 )کے حوا لے سے ذکر کیا ہے کہ اس کی سند میں ابو بلالااشعری ضعیف را وی ہے ۔

(2) ((حضرت سوید بن حنظلہ نے  ایک صاحب کو قرآن دیکھ کر پڑھتے ہو ئے دیکھا تو اب کا قرآن لے کر الگ رکھ دیا))۔ سو ید بن حنظلہ نا م سے صحا بی گزرے ہیں ان سے حدیث بھی مروی ہے مگر یہا ں نا م میں تحریف ہو گئی ہے ۔المصا حف لا بن ابی داود 7054 میں سلیما ن بن حنظلہ البکری ہے  جبکہ یہ نا م بھی صحیح نہیں ہے صحیح نا م سلیم بن حنظلہ البکری السعو  دی الکوفی ہیں یہ  صحا بی نہیں تا بعی ہیں

(3)(( حضرت عبد اللہ بن عبا س ؑ کہتے ہیں کہ امیر المومن حضرت عمر فا روق  ؑ نے ہم لوگو ں کو حا لت نما ز میں قرآن دیکھ کر پڑ ھنے سے قطعا منع فر ما دیا تھا ))۔ یہ روایت کنز العما ل اور اعلا ء السنن میں ہے مگر وہا ں اس کی سند نہیں ہے صا حب المصا حف نے اس کی سند ذکر کی ہے اس سند میں نہشل بن نیسا ر پوری نا م کا کذاب ومتر وک را وی ہے امام بخا ری اور اما م نسا ئی نے اس پر حرج کی ہے ۔

ان تینوں میں دوسرا قول صحا بی کا نہیں ہے اور با قی بچے صحا بی کہ دو اقوال ضعیف ہیں اس لئے معلو م ہو اکہ حضرت عا ئشہ ؑ کی روا یت کی بنیا د پر ضرورت کے تحت نما ز میں قرآن دیکھ کر پڑ ھنا جا ئز ہے ۔ صحا بی کا قول و عمل تا بعی پر مقدم ہے اس لئے بعد والو ں  کے اقوا ل نہیں ذکر کر رہا ہوں البتہ ائمہ اربعہ کی بات کریں  تو امام ابو حنیفہ کے علا وہ ائمہ ثلا ثہ نے نما ز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کی رخصت دی ہے حتی کہ ابو حنیفہ کے دو شا گر د ابو یو سف اور محمد کہتے ہیں نما ز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے سے نما ز مکمل ہو جا تی ہے اور امام ابو حنیفہ کا مسئلہ کہ نما ز میں قرآن دیکھنے نما زبا طل ہو جا تی یہ فتوی بلا دلیل اور نا قا بل اعتبا ر ہے یہی وجہ ہے ان کے شا گرد وں نے اس مسئلہ میں اپنے استا د کی مخا لفت ہے ۔ امام زہری سے کسی سوال کیا کہ رمضان میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے تو انہوں نے بہتر ین جوا ب دیا  کہ ہم میں سے بہتر لو گ قرآن دیکھ کر پڑ ھتے تھے ۔

اگر کسی  کو امام کے سا تھ رکعت پڑھنے کا مو قع ملے تو اس کو کتنا اجر ملے گا ؟

رات کی نماز جو جس قدر پڑھے گا یس قدر   ثواب ملے گا۔ دو ،چار،چھ، آٹھ وغیرہ اور رمضان المبارک میں قیام اللیل کا ثواب گیارہ رکعت (مع و تر) پڑھنے سے حاصل ہو جاتا ہے جس پہ گز شتہ سا رے گنا ہوں کی مغفرت کس وعدہ کیا گیا ہے نیز اما م کے سا تھ مکمل را ت قیا م اللیل کا اجر اس وقت ملے گا جس قدر شریک ہو کر نماز ادا کی اہے ۔

تراویح میں ختم قرآن پر مٹھا ئی تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

ختم قرآن پرمٹھا ئی تقسیم کرنے کا عمل کتا ب و سنت میں مو جو د نہیں ہے اس لئے اس سے بچنا اولی وافضل ہے  ۔ اگر کہیں تکلیف اور کسی خا ص رسم و رواج سےبچتے ہو ئے یو نہی سا دہ انداز میں کسی نے نماز یوں کے درمیا ن مٹھا ئی تقسیم کر دی تو اس میں کو ئی حرج نہیں ہے بعض جگہوں پر ختم قرآن پہ تقریب کھا نے پینے میں افرا داور مختلف قسم کے طور طر یقے رائج ہیں ان چیزوں کی شر عا گنجا ئش نہیں ہے ۔

کیا جما عت کے سا تھ تراویح میں پیچھے سنے والے بھی قرآن اٹھا کر امام کی تلا وت سن سکتے ہیں تا کہ وہ لقمہ دے سکے ؟

صر ف امام کے لئے یا اکیلے نما ز پڑھنے والے منفرد کے لئے گنجا ئش ہے کہ وہ مجبو ری میں قرآن دیکھ کر تراویح پڑ ھے لیکن اما م کے پیچھے مقتدی کے لئے امام کی قرا ت کی سما عت کرنا درست نہیں ہے ۔

اگر میری عشا ء کی نما ز چھوٹ  گئی اور میں اس وقت مسجد پہنچا جب تراویح ہو چکی تھی تو فرض کی نیت سے اس میں شا مل ہو سکتے ہیں ؟

اگر کسی کی عشا ء کی نماز چھوٹ گئی ہو اور مسجد مین اس وقت آئے جب تراویح شروع ہو گئی ہو تو  فر ض کی نیت سے  وہ آدمی تراویح میں شا مل ہو سکتا ہے جب امام دو رکعت پر سلام پھیر دے تو وہ سلام نہ پھیرے بلکہ اٹھ کر مزید دو رکعت پڑھے تب سلام پھیرے تا کہ چا ر رکعت عشاء کے مکمل ہو جا ئے ۔

اگر مسجد میں آٹھ رکعت امام کے ساتھ تراویح پڑھ لے تو کیا گھر آ کر تہجد پڑ ھ سکتے ہیں ؟

ہا ں کو ئی امام کے سا تھ تراویح پڑ ھ لے اور بعد میں بھی قیام کرنا چا ہیے تو امام کے سا تھ وتر نہ پڑ ھے پھر رات میں جس قدر قیام کرنا چا ہیے دو دو رکعت کر کے قیا م اللیل کرے اس  میں کو ئی حرج نہیں ہے اور سب سے آخر میں وتر کی نماز پڑ ھے کیو نکہ وتر رات کی آخری نماز ہے ۔

تحفہ رمضان سے اقتبا س

Leave a Reply