وضوء کا مسنون طریقہ

نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے جس کے بغیر بندہ مؤمن نہیں بن سکتا۔
اور نبی کریمﷺ نے وضو کو نماز کی چابی قرار دیا ہے۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء، (61)]
یعنی وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور جس چابی کے دندانے ہی خراب ہوں، وہ چابی بھی کسی کام کی نہیں ہوتی، لہٰذا نماز کےلیے وضو بھی کیا جائے تو عین اس طریقہ کے مطابق، جس طریقہ سے وضو کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ اگر وضو سنت نبوی کے مطابق ہوگا تو وہ وضو نماز کی ادائیگی کےلیے مؤثر ہوگا، وگرنہ ناقص وضو کی صورت میں اقامتِ صلاۃ ناممکن ہے۔
لہٰذا وضو کرنے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ وضو مکمل، صحیح اور سنت مطہرہ کے مطابق ہو۔

طریقہ وضو:
نیت کرنا:
رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:
«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» ’’یقیناً اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔‘‘
صحیح البخاري، کتاب بدء الوحی، باب بدء الوحی،(1)

بسم اللہ سے آغاز کرنا:
نبی کریمﷺ کا فرمان ہے: «لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ»
’’جس شخص نے وضو اللہ کا نام لیے بغیر کرلیا، تو اس کا وضو نہیں ہے۔‘‘ [سنن الترمذي، أبواب الطہارۃ عن رسول اللہﷺ، باب ما جاء في التسمیۃ عند الوضوء، (25
وضو کے آغاز میں «بسم اللہ» یا «بسم اللہ الرحمن الرحیم» میں سے کوئی بھی پڑھ لیں، درست ہے۔ کیونکہ مقصود اللہ کا نام لینا ہے اور وہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔ نیز اگر کوئی شخص وضو کے آغاز میں «بسم اللہ» پڑھنا بھول جائے یا بغیر «بسم اللہ» وضو کرلے تو اسے نئے سرے سے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ دائیں جانب سے آغاز: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«إِذَا تَوَضَّأْتُمْ، فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ» ’’جب تم وضو کرو تو دائیں جانب سے آغاز کرو۔‘‘ [سنن أبي داؤد، کتاب اللباس، باب في الانتعال، (4141)]
ہاتھ دھونا:
رسول اللہﷺ نے فرمایا: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ»
’’جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو وضو والے برتن میں ڈالنے سے پہلے دھو لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ہے۔‘‘ [صحیح البخاري، کتاب الوضوء، باب الاستجمار وتراً، (162)]
یعنی جب بندہ نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوئے۔ یہ دھونا لازمی وضروری ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو فرمایا تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا حتیٰ کہ انہیں صاف کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا اور آخر میں فرمایا: ’’میں تمہیں رسول اللہﷺ کا وضو دکھانا چاہتا تھا۔ ‘‘ [سنن الترمذي، أبواب الطھارۃ، باب ما جاء في وضوء النبي ﷺ کیف کان، (48)]
کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا اور ناک جھاڑنا:
نبی کریمﷺ نے حکم دیا ہے: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ»
’’جب تو وضو کرے تو کلی کر۔‘‘ [سنن أبي داؤد، کتاب الطھارۃ، باب في الاستنثار، (144)]
اسی طرح فرمایا: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلِيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ» ’’جب تم میں سے کوئی ایک وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی ڈالے، پھر اس کو جھاڑے۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب الإیتار في الاستنثار والاستجمار، (237)]
یاد رہے کہ ایک ہی چلو میں پانی لے کر کچھ کلی کرنے کےلیے منہ میں ڈالنا ہے اور کچھ ناک میں داخل کرنا ہے۔ [صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب في وضوء النبيﷺ، (235)] پہلے تین بار کلی کرلینا، پھر علیحدہ پانی لے کر بعد میں تین بار ناک میں پانی چڑھانا رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں۔
نیز جاننا چاہیے کہ «استنشاق» عربی زبان میں ناک کی ہوا کے ذریعہ پانی کھینچنے کو کہتے ہیں۔ تو یعنی محض ناک کے ساتھ پانی لگا دینے سے یا ہاتھ کے زور سے ناک میں کچھ پانی داخل کرلینے سے فریضہ ٔ استنشاق ادا نہیں ہوتا، بلکہ نبی کریمﷺ نے تو حکم دیا ہے: «بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا»
’’ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر، إلاّ کہ تو روزہ دار ہو۔‘‘ [سنن أبي داؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الاستنثار، (142)]
تو غیر روزہ دار کےلیے لازمی ہے کہ وہ خوب اچھی طرح ناک میں پانی چڑھائے۔ اسی طرح ناک کو جھاڑنا بھی وضو کا حصہ ہے۔ بغیر ناک جھاڑے کیا گیا وضو مسنون نہ ہوگا۔
چہرہ دھونا:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ‹ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ› ’’اے اہل ایمان! جب تم نماز کےلیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو دھو لو۔‘‘ [المائدۃ: 6]
داڑھی کا خلال:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ وضو فرماتے تو ایک چلو میں پانی لے کر اپنی تھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس کا خلال کرتے اور فرماتے: «هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ» ’’مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم دیا ہے۔‘‘ [سنن أبي داؤد، کتاب الطہارۃ، باب تخلیل اللحیۃ، (145
کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا:
اللہ رب العزت کا حکم ہے:
‹ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ›
’’اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو۔‘‘ [المائدۃ: 6]
انگلیوں کا خلال:
نبی کریمﷺ نے حکم دیا ہے: «وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ»
’’اور انگلیوں کا خلال کر۔‘‘
[سنن الترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء في کراھیۃ مبالغۃ الاستنشاق للصائم، (788)]
ہر دو انگلیوں کے درمیان دوسرے ہاتھ کی انگلی کو خوب اچھی طرح پھیریں تاکہ انگلیوں کے درمیان والی جگہ بھی تَر ہوجائے، خشک نہ رہے۔ اسی کا نام خلال کرنا ہے۔
سر کا مسح کرنا:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‹وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ› ’’اور اپنے سروں کا مسح کر لو۔‘‘ [المائدۃ: 6]
اللہ تعالیٰ نے ’’سر‘‘ کا مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو مکمل سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ «وامسحوا بربع رؤوسکم» یا «ببعض رؤوسکم» نہیں کہا۔ یعنی سر کے چوتھائی یا بعض حصہ کا مسح کرنے کا نہیں کہا۔ لہٰذا مکمل سر کا مسح کیا جائے۔
نبی کریمﷺ نے سر کا مسح فرمایا: «فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى المَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ»
’’دونوں ہاتھوں کو آگے لے گئے اور پھر واپس لائے۔ سر کے آغاز سے شروع فرمایا حتیٰ کہ انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر واپس لے آئے جہاں سے آغاز کیا تھا۔‘‘ [صحیح البخاري، کتاب الوضوء، باب مسح الرأس کلہ، (185)]
یعنی آغازِ سر سے انتہائے سر تک دونوں ہاتھوں کو لے کر گئے، پھر انہیں واپس لائے۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ کچھ لوگ سر کے مسح کے دوران سر کے اطراف سے ہاتھوں کو اٹھا لیتے ہیں جبکہ سر کے اطراف (کانوں والی جانبیں) بھی سر کے اندر داخل ہیں۔
کانوں کا مسح:
رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: «اَلْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ’’دونوں کان سر میں سے ہیں۔‘‘ [سنن الترمذي، أبواب الطھارۃ، باب ما جاء أن الأذنین من الرأس، (37)]
یعنی دونوں کان سر کا حکم رکھتے ہیں تو جب سر کے مسح کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو کان بھی اسی حکم کے تحت داخل ہوگئے۔ یعنی کا نوں کا بھی مسح کیا جائے۔
اور رسول اللہﷺ نے کا نوں کا مسح فرمایا: «بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بَإِبْهَامَيْهِ»
’’کان کے سوراخ والے حصہ کا مسح شہادت والی انگلی سے کیا اور سر والی جانب کا مسح اپنے انگوٹھے کے ساتھ فرمایا۔‘‘ [سنن النسائي، کتاب الطھارۃ، باب مسح الأذنین مع الرأس وما یستدل بہ علی أنھما من الرأس، (102)]
عموماً کانوں کا مسح کرنے میں کوتاہی برتی جاتی ہے، غفلت بھرے انداز میں کانوں کا مسح تیزی کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں کانوں کا کچھ حصہ مسح کی زد میں نہیں آتا، جبکہ مکمل کانوں کا مسح کرنا ضروری ہے تو اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کان کی لَو سے مسح کا آغاز اس طرح کریں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلیوں سے دونوں کانوں کو پکڑے اور پھر پہلے اپنی انگلیوں کو راستوں سے گھماتے گھماتے کانوں کے سوراخ تک لے جائیں، پھر انگلیوں کو کانوں سے باہر نکالے بغیر اپنے انگوٹھوں کو پیچھے سے گھما دیا جائے۔ اسی طرح تسلی سے مکمل کان کا مسح ہوجائے گا۔
پاؤں دھونا:
اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: ‹وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ› ’’اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔‘‘ [المائدۃ: 6] لہٰذا کانوں کا مسح کرنے کے بعد پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں بالترتیب دھویا جائے اور ہر پاؤں دھونے کے ساتھ ساتھ اس کی انگلیوں کا خلال بھی کیا جائے کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ»
’’جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرلے۔‘‘ [سنن الترمذي، أبواب الطھارۃ، باب ما جاء في تخلیل الأصابع، (39)]

وضو کر نے کے بعد کی دعا:
وضوکرلینے کے بعد یہ دعا پڑھیں: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» [صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، (234)]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں