وسوسہ کیا ہے؟

اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے ’’وسواس‘‘ کے متعلق بتلایاہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے۔ اس وقت اگر وہاں اللہ کا نام لیا گیا ہو تو وہ بھاگ جاتا ہے، ورنہ بچے کے دل پر جم جا تا ہے۔شیطان نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے جس کو شیطانی وسوسہ کہا جاتا ہے۔شیطان کا وسوسہ تمام گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جڑ ہے اوریہ وسوسہ ایک ایسا شر ہے جو خود انسان کے اندر موجود ہے اور اس کا تعلق انسان کے اپنے اختیار سے ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کا بھی وہ خود ذمہ دار ہے کیونکہ شیطان کا وسوسہ اس وقت تک کچھ بھی شر نہیں پیدا کرتا جب تک آدمی خود اس کو قبول نہ کرے اور اس پر عمل پیرا نہ ہو۔ سورہ ابراہیم ،آیت22 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “(شیطان کا قول ہے) اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا، ہاں میں نے تمھیں (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بے دلیل) میرا کہا مان لیا، پس (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں