پہلی وحی

ان کا جوا ب سن کر آپ نے ارسا د فر ما یا :

علی ! اگر تم مسلما ن نہیں بھی ہو تے تو اس با ت کو چھپا ئے رکھنا “

انہو ں نے وعدہ کیا اور اس کا ذکر کسی سی نہیں کیا ۔ رات بھر سو چتے رہے ۔ آخر اللہ تعا لیٰ نے انہیں ہدا یت عطا فر ما ئی ۔ سو یر ے آپ کی خد مت  میں حا ضر ہو ئے اور مسلما ن ہو  گئے ۔ علما نے لکھا ہے اس وقت علی کی عمر 5 سال تھی اس سے پہلے بھی  انہوں نے کبھی  بتو ں کی عبا دت نہیں کی تھی ۔ وہ بچپن ہی سے نبی اکر م ﷺ کے ساتھ رہتے تھے ۔

گم شدہ بیٹا

لیکن احتیا ط کے با و جو د حضر ت علی کے وا لد کو ان کے قبو ل اسلا م کا علم ہو گیا ۔ تو انہو ں  نے حضر ت علی ؑ سے اس کے متعلق استفسا ر کیا ۔اپنے والد کا سوال سن کر حضر ت علی ؑ نے فر ما یا :

ابا جا ن میں اللہ اور اس کے رسو ل پر ایما ن لا چکا ہو ں اور جو کچھ اللہ کے رسو ل لے کر آئے ہیں اس کی تصد یق کر چکا ہو ں لہذا ان کے دین میں دا خل ہو چکا ہو ں اور ان کی پیروی اختیا ر کر چکا ہو ں

یہ سن کر ابو طا لب نے کہا :

جہا ں تک ان کی با ت ہے یعنی محمد ﷺ کی تو وہ تمہیں بھلا ئی کے سوا کسی دوسرے  راستے پر نہیں  لگا ئیں لہذا ان کا ساتھ نہ چھو ڑنا ۔

ابو طا لب اکثر یہ کہا کر تے تھے :

میں جا نتا ہو ں میرا بھتیجا جو کہتا ہے   حق ہے   اگر مجھے یہ ڈر نا ہو تا  کہ  قر یشی کی عو رتیں مجھے شر م دلا ئیں گی تو میں ضرور ان کی پیر وی قبول کر لیتا ۔۔

عفیف کند ی ایک تا جر تھے ان کا بیا ن ہے ۔

اسلا م کر نے سے بہت پہلے میں ایک مر تبہ حج کے لئے آیا ۔ تجا رت   کا کچھ ما ل خر ید نے کے لیے     عبا س بن عبدا لمطلب کے پا س گیا ۔ وہ میرے دوست تھے اور یمن سے اکثر عطر خر ید کر لا تے تھے ۔ پھر حج کے  مو سم میں مکہ میں  فر وکت کر تے تھے میں ان کے ساتھ منا ٰ میں بیٹھا تھا کہ ایک نو جو ا ن آیا ۔ اس نے غر وب ہو تے سور ج کی طرف غو ر سے دیکھا جب اس نے دیکھ لیا کہ سو رج غر و ب ہو چکا ہے تو اس نے بہت اہتما م سے وضو کیا پھر نما ز پڑ ھنے لگا ۔ یعنی کعبہ کی طرف منہ کر کے پھر ایک لڑ کا  آیا جو با لغ ہو نے کے قر یب تھا ۔ اس نے وضو کیا اور اس نو جوا ن کے بر ابر کھڑا ہو کر نما ز پڑ ھنے لگا    ۔ پھر ایک عو رت خیمے سے نکلی اور ان کے پیچھے نما ز کی نیت  با ند ھ کر کھڑ ی ہو گئی ۔ اس کے بعد   ان نو جو انو ں نے رکو ع کیا  تو اس لڑ کے اور عورت نے بھی رکو ع کیا ۔ نو جو ان سجدے میں گیا تو وہ دو نو ں بھی سجد ے میں چلے گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے  عبا س بن عبد المطلب سے پو چھا :

عبا س یہ کیا ہو رہا ہے

انیو ں نے بتا یا :

یہ میر ے بھا ئی عبد اللہ کے بیٹے کا دین ہے ۔ محمد ﷺ کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے اسے پیغمر بھیجا ہے ۔  یہ لڑ کا میرا بھتیجا ہے علی بن طا لب ہے اور یہ عو رت محمد ﷺ کی بیو ی خد یجہ ہے

یہ عفیف کندی ہ ؑ   مسلما ن ہو ئے تو کہا کر تے تھے کا ش اس وقت ان میں چو تھا آدمی میں ہو تا ۔

اس واقعے کے وقت غا لبا حضر ت ذید بن حا ر ثہ اور حضر ت ابو بکر صد یق ؑ وہا ں مو جو د نہیں تھے اگر چہ اس وقت تک دو نو ں مسلما ن ہو چکے تھے ۔

حضر ت ذید بن حا ر ثہ ؑ غلا مو ں میں سب سے پہلے اسلا م لائے تھے یہ حضو ر اکر م ﷺ کے آزاد کر دہ غلا م تھے پہلے یہ حضر ت خد یجہ ؑ کے غلا م تھے ۔ شا دی کے بعد انہو ں نے ذید بن حا رثہ کو آپ ﷺ کی غلا می میں دے دیا تھا ۔ یہ غلا م کس طرح بنے یہ بھی سن لیں ۔

جا ہلیت کے ذما نے میں ان کی والدہ  انہیں لیے اپنے ما ں با پ کے گھر جا رہیں تھیں کہ قا فلے کو لو ٹ لیا گیا ۔ ڈا کو ان کے بیٹے زید بن حا ر ثہ کو بھی لے گئے   ۔ پھر انہیں   عکا ظ کے میلے میں بیچنے کے لئت لا یا گیا ۔ اد ھر سیدہ خد یجہ ؑ نے حکیم بن حزا م ا کی پھو پھی تھیں ۔ حکیم بن حزا م ا میلے میں  آئے تو انہو ں نے وہاں زید بن حا ر ثہ کو بکتے دیکھا  اس وقت ان کی عمر 8 سا ل تھی حکیم بن حزا م ا کو یہ اچھے لگے چنا نچہ انہو ں نے سیدہ ضد یجہ ؑ کے لئے انہیں خر ید لیا ۔ حضر ت ضد یجہ ؑ کو بھی یہ پسند آئے اورا نہو ں نے انہیں اپنی غلا می میں لے لیا ۔ پھر نبی اکرام ﷺ کو ہدیا کر دیا ۔ اس طرح حضر ت زید بن حا رثہ آپ ﷺ کے غلا م بنے ۔ پھر جب آپ نے اسلا م کی دعو ت دی تو اسی وقت آپ پر ایما ن لے آئے ۔ بعد میں آپ ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا تھا مگر یہ عمر بھر آپ ﷺ کی خد مت میں رہے  ۔ ان کے والد ایک مد ت سے ان کی تلا ش میں تھے ۔ کسی نے انہیں بتا یا کہ زید مکہ میں دیکھے گئے ہیں ۔ ان کے والد اور چچا انہیں لینے فو را مکہ معظمہ کی طرف چل پڑ ے ۔ مکہ پہنچ کر یہ  آپ ﷺ کی خد مت میں حا ضر ہو ئے اور ان کو بتا یا کہ زید ان کے بیٹے ہیں ۔

Leave a Reply