تخلیق انسانی کا مقصد

اللہ پاک کا قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمہ کنز العرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔ (پارہ 27، سورۃ الذریت، آیت 56)
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ۔
ترجمہ کنز العرفان: وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے۔ (پارہ 29، سورۃ الملک، آیت 2)
ان آیات قرآنی کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ تخلیق انسانی کا مقصد بندگی و عبادت کرنا ہے ہے اگر کوئی اس مقصد پر کاربند رہے تو وہ دارین میں کامیاب ہوگا۔
لیکن انسان کو اللہ پاک آزماتا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ فلاح پا گیا اور جو ناکام ہوا وہ نامراد ہوا۔
چناچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
الٓمّٓۚ(۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲)
ترجمہ کنز العرفان: الم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ (پارہ 20، سورہ عنکبوت، آیت نمبر 1، 2)
یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کر رہی ہے کہ دیکھو کلمہ گوئی اور زبانی دعائے مسلمانی پر تمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں ہاں سنتے ہو! آزمائے جاؤ گے، آزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہرو گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں