سورہ یوسف آیت 66 سے 72 کا ترجمہ

ان کے باپ نے کہا ’’میں اس کو ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آئو گے اِلاَّ یہ کہ تم گھیر ہی لیے جائو۔ جب انہوں نے اس کو اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا ’’ دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے۔‘‘ (66)
پھر اس نے کہا ’’ میرے بچو ، مصر کے درالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔ مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا ، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے۔‘‘ (67)
اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کے ہدایت کے مطابق شہر میں ( متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آ سکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔(68)
یہ لوگ یوسف ؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ ’’ میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو ان باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔‘ (69)
جب یوسفؑ ان کا بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا : ’’ اے قافلے والو ، تم لوگ چور ہو۔‘‘ (70)
انہوں نے پلٹ کر پوچھا ’’ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟‘‘ (71)
سرکاری ملازموں نے کہا ’’ بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا۔ ‘‘ (اور ان کے جمعدار نے کہا ) ’’ جو شخص لا کر دے گا اس کے لیے ایک بارِ شتر انعام ہے ، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں۔‘‘ (72)
سورہ یوسف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں