سورہ یوسف آیت 54 تا 61 کا ترجمہ

بادشاہ نے کہا انہیں میرے پاس لاو ’’ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں۔‘‘ جب یوسف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا ’’ اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔‘‘ (54)
یوسف ؑ نے کہا ، ’’ ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔‘‘ (55)
اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف ؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی ۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا۔(56)
اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خداترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔(57)
یوسف ؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے۔ اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے۔(58)
پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا ’’ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔(59)
اگر تم اسے نہ لاو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ (60)
انہوں نے کہا ’’ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہو جائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔‘‘ (61)
سورہ یوسف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں