سیرت النبی ،چاند دو ٹکڑے ہوا

 اس پر اللہ پا ک نے سو رہ قمر کی دو آیا ت نا زل فرما ئی ترجمہ : قیا مت نزدیک آپہنچی اور چا ند شق ہو گیا یہ لو گ کو ئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹا ل دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جا دو ہے جو ابھی ختم ہو جا ئے گا مخلتف قومو ں کی تا ریخ سے یہ با ت ثا بت ہو تی ہے کہ چا ند کا دو ٹکڑے ہو نا صرف مکہ مین ہی نہیں نظر آیا تھا بلکہ دوسرے ملکو ں میں بھی اس کا مشا ہدہ کیا گیا تھا

اسی طرح ایک دن مشرکین نے کہا اگر آپ ﷺ واقعی نبی ہیں تو ان پہا ڑون کو ہٹا دیں جن کی وجہ سے ہما را شہر تنگ ہو رہا ہے تا کہ آبا دیا ں پھیل کر بس جا ئین اور اپنے رب سے کہہ کر ایسی نہر یں جا ری کر وا دیں جیسی شا م اور عر اق میں ہیں ہما رے با پ دادوں کو دوبا رہ زندہ کر کے دیکھا ئیں ان دو با رہ زندہ کر نے والو ں میں قصی بن کلا ب ضرور ہو ں اس لئے کہ وہ نہا یت دا نا اور  عقل مند بزرگ تھا ہم اس سے پو چھین گے کہ آپ ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ سچ ہے یاں جھو ٹ اگر ہما رے بز رگو ں نے تصو یق کر دی اور آپ ﷺ نے ہما رے مطا لبے پو رے کر دیئے تو ہم آپ ﷺ کی نبو ت کا اقرار کر لیں گے اور جا ن لین گے کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کی طر ف سے بھیجے گئے ہو ئے ہیں اللہ پا ک نے ہما رے طر ف رسول بنا کر بھیجا ہے جیسے آپ ﷺ دعوی کر تے ہیں

ان کی یہ با تیں سن کر نبی کر یم ﷺ نے ارشا د فر ما یا مجھے ان  با تو ں کے لئے تمھا ری طر ف رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ میں تو اس مقصد کے لئے بھیجا گیا ہو ں کہ اللہ کی عبا دت کر و

مشرکین کے مطا لبا ت :

ایک مشرک کہنے لگا آپ ﷺ اسے طر ح کھا نا کھا تے ہیں جیسے ہم کھا تے ہیں اسے طر ح ہی با زارو ں میں چلتے ہیں جیسے ہم چلتے ہیں ہما ری طر ح کی ہی ضر وریا ت پو ری کر تے ہیں لہذا آپ ﷺ کو کیا حق کہ نبی کہہ کر خو د کو نما یا ں کر یں اور یہ کہ آپ ﷺ کے ساتھ کو ئی فر شتہ کیو ں نہیں اتا را جو آپ ﷺ کی تصد یق کر تا

اس پر اللہ پا ک نے سو رہ فر قات کی آیت 7 نا زل فر ما ئی ترجمہ : اور یہ کافر لو گ رسول اللہ ﷺ کی نسبت یو ں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہو گیا ہے وہ ہما ری طر ح کھا تا پیتا ہے اور بازارو ں میں چلتا پھر تا ہے اس کے ساتھ کو ئی فرشتی کیو ں نہیں بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر ڈرایا کر تا اسکے پا س غیب سے کو ئی خزانہ آتا یا ں اس کے پا س کو ئی با غ ہو تا جس سے وہ کھا تا کر تا اور ایما ن لا نے والو ں سے یہ ظا لم لو گ یہ بھی کہتے ہیں کہ تم تو ایک بے عقل آدمی کی راہ پر چل رہے ہو پھر جب انہو ں نے کہا کہ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ہم  ہی میں سے بندے کو رسول بنا کر بھیجے تو اس پر اللہ پا ک سے سو رہ یو نس کی آیت نا زل فر ما ئی تر جمہ :

کیا ان مکہ لے لو گو ں کو اس با ت سے تعجب ہو ا  کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پا س وحی بھیج دی کہ سب آدمیو ں کو اللہ کے احکا ما ت کے خلا ف چلنے سے ڈرایں اور یہ جو ایما ن لے ائے انہیں خو شخبری سنا دیں کہ انہیں اللہ کے پا س پہنچ کر پو را رتبہ ملے گا

اس کے بعد نا لو گو ں نے آپ ﷺ سے کہا ہم پر آسما ن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو  جیسا کہ تمھا را دعوی ہے کہ تمھا را رب جو چا ہے کر سکتا ہے ہمیں معلو م ہو اہے کہ تم جس رحما ن کا ذکر کر تے ہو وہ رحمن یما نہ کا ایک شخص ہے وہ تمھیں یہ با تین سکھا تا ہے ہم اللہ کی قسم تم پر کبھی ایما ن نہیں لا ئیں گے

یہا ں رحمن سے ان کا مر اد یما نہ کا ایک کا ہن یہو دی سے تھا اس بات کے جو اب میں اللہ پا ک نے سو رہ رعد کی آیت 30 نا زل فر ما ئی ترجمہ :

آپ ﷺ فر ما ئیں کہ وہ ہی میرا مر بی اور نگہبا ن ہے اس کےسوا کو ئی عبا دت کے لا ئق نہیں میں نے اسی پر بھر وسہ کیا اور اسی کے پا س مجھے جا نا ہے

اس وقت آپ ﷺ پر رنج اور غم کی کیفیت طا ری تھی آپ ﷺ کی عین خو اہش تھی کی یہ لو گ ایما ن قبو ل کر لیں لیکن ایسا نہ ہو سکا اس لئے غمگین تھے اسے حا لت میں آپ ﷺ وہا ں سے اٹھ گئے مشر کین نے اس قسم کی اور بھی بہت سے فر ما ئش کی کبھی وہ کہتے کہ صفا پہا ڑ کو سو نے کا بنا کر دیکھا ئیں کبھی کہتے ہیں سیڑھی کے ذرئعے آسما ن چڑھ کر دیکھا ئیں اور فرشتو ں کے ساتھ واپس آئیں ان کی تما م با تو ں کے جو اب میں اللہ پا ک نے حضرت جبرائیل کو آپ ﷺ کے طر ف بھیجا انہو ں نے آکر کہا اے محمد اللہ پا ک آپ کو سلا م فر ما تے ہیں اور فر ما تے ہیں کہ آپ چا ہیں تو صفا پہا ڑ کو سو نے کا بنا دیں

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply