سیرت النبی ،اسلام کا پہلا مرکز

پھر اللہ تعا لیٰ نے آپ کو اعلا نیہ تبلیغ کا حکم فر ما یا :اعلا نیہ تبلیغ کی ابتدا بھی دار ار قم سے ہو ئی ، پہلے  آپ یہا ں خفیہ طور  پر دعو ت دیتے رہے تھے یہا ں تک کہ اللہ تعا لیٰ نے سور ۃ الشعر اءمیں  آپ کو حکم فر ما یا :

اور آپ اپنے نز دیک کے اہل خا ندا ن کو ڈ را ئیے ،یہ حکم ملتے ہی آپ کا فی پر یشا ن ہو ئے یہا ں تک کہ آپ کی پھو پھیو ں نے خیا ل کیا کہ آپ کچھ بیما ر ہیں چنا نچہ وہ آپ کی بیما ر پر سی کے لیے آپ کے پا س آئیں تب آپ نے ان سے فر ما یا:

میں بیما ر نہیں ہو ں بلکہ اللہ تعا لیٰ نے مجھے حکم دیا ہے اپنے قر یبی رشتہ دارو ں کو آخرت کے عذا ب سے ڈرا ؤں اس لیے میں چا ہتا ہو ں کہ تما م بنی عبد المطلب کو جمع کر و ں اور انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعو ت دو ں یہ سن کر  آپ کی پھو پھیو ں نے کہا ضرو ر جمع کر یں  مگر   ابو لہب کا نا بلا ئیے گا کیو نکہ وہ ہر گز آپ کی با ت نہیں ما نے گا ۔ابو لہب کا دوسرا نا م عبد العزی تھا ۔ یہ آپ کا چچا تھا بہت خو بصورت تھا مگر بہت سنگد ل اور مغرور تھا ۔ دوسرے دن نبی کر یم ﷺ نے بنی عبد المطلب کے پا س دعو ت بھیجی ۔ اس پر وہ سب آپ کے ہا ں جمع ہو گئے ان میں ابو لہب بھی تھا اس نے کہا ۔ یہ تمہا رے چچا اور ان کی اولا دیں جمع ہیں تم جو کچھ کہنا چا ہتے ہو کہو اور اپنی بے دینی کو چھو ڑ دو سا تھ  ہی تم یہ سمجھ لو کہ تمہا ری قو م یعنی ہم میں اتنی طا قت نہیں ہے کہ تمہا ری خا طر  سا  رے عربو ں سے دشمنی لے سکیں ، لہذا اگر تم اپنے معا ملے  پراڑ ے رہے تو خو د تمہا رے خا ندا ن والو ں کا سب سے زیا دہ فر ض ہو گا کہ تمہیں پکڑ کر قید کر دیں ، کیو نکہ قر یش کے تما ما خا ندا ن اور قبیلے تم پر چڑ ھ دو ڑیں ، اس سے تو یہ ہی بہتر ہو گا کہ ہم ہی تمہیں قید کر دیں ۔ اور میر ے بھتیجے حقیقت یہ ہے کہ تم نے جو چیز اپنے راشتہ دارو ں کے سا منے پیش کی ہے اس سے بد تر  چیز کسی اور شخص نے آج تک پیش نہیں کی  ہو گی ۔ آپ نے اس کی طرف کو ئی تو جہ نہیں فر ما ئی اور حا ضر ین کو اللہ کا پیغا م سنا یا۔ آپ نے فر ما یا :

اے قریش کہو ا للہ کے سوا کو ئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسو ل ہیں ۔

آپ نے ان سے یہ بھی فر ما یا :

اے قریش اپنی جا نو ں کو جہنم کی آگ سے بچا ؤ ۔

وہا ں صر ف آپ کے ر شتے دا ر ہی جمع نہیں تھے بلکہ قر یش کے دوسرے قبیلے بھی مو جو د تھے اس لیے آپ نے ان کے قبیلو ں کے نا م لے لے  کر انہیں مخا طب فر ما یا یعنی آپ نے یہ الفا ظ فر ما ئے :

اے بنی ہا شم ، اپنی جا نو ں کو جہنم کی آگ سے بچا ؤ ۔۔اے بنی عبد شمس اپنی جا نو ں کو جہنم کے عذا ب سے بچا ؤ ۔ اے بنی عبد منا ف ، اے بنی زہرہ ، اے کعب بن لو ی ، اے بنی مرو ن کعب ، اے صفیہ ، محمد کی پھو پھی ، اپنے
آپ کو جہنم کی آگ سے بچا ؤ ۔

ایک روایت   کے مطا بق آپ نے یہ الفا ظ بھی فر ما ئے ۔

نہ میں دنیا میں تمہیں  فا ئدہ پہنچا سکتا ہو ں یہ آخر ت میں کو ئی فا ئدہ پہنچا نے کا اختیا ر رکھتا ہو ں ۔ سوا ئے اس صورت کے کہ تم کہو لا الہ الا اللہ ۔ چو نکہ تمہا ری مجھ سے رشتہ داری ہے اس لیے اس کے بھر وسے پر کفر اور شر ک کے اندھیر وں میں گم نہ رہنا ۔

اس پر ابو لہب آگ بگو لہ ہو گیا ۔ اس نے تلملا کر کہا ۔

تو ہلا ک ہو جا ئے ۔ کیا تو نے  ہمیں اس لیے جمع کیا  تھا ۔

پھر سب لو گ چلے گئے ۔

اسلا م کی تبلیغ

اس کے بعد کچھ دن آپ ﷺ خا مو ش رہے ۔ پھر آپ ﷺ کے پا س جبر ئیل نا زل ہو ئے ۔ انہو ں نے آپ کو اللہ کی جا نب سے اللہ تعا لیٰ کا پیغا م  کو ہر طرف پھیلا دینے کا حکم  سنا یا ۔

آپ ﷺ نے  دو با رہ لو گو ں کو جمع فر ما یا :ان کے سا منے یہ خطبہ ارشا د فر ما یا : اللہ کی قسم ! جس کے سوا کو ئی معبو د نہیں ، میں خا ص طو ر پر تمہا ری طرف اور عا م طو ر پر سا رے انسا نو ں کی طرف اللہ کو رسو ل بنا کر بھیجا گیا ہو ں ، اللہ کی قسم !تم جس طرح جا گتے ہو ، اسی طرح حسا ب کتا ب کے لیے دوبا رہ جگا ئے جاؤ گے ۔ پھر تم جو کچھ کر رہے ہو اس کا حسا ب تم سے لیا جا ئے گا ۔ اچھا ئیو ں اور نیک اعما ل کے بد لے میں تمہیں اچھا بد لہ ملے گا  اور بر ائی کا بد لہ بر ا ملے گا ، وہا ں بلا شبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہے ۔ اللہ کی قسم! اے بن عبد المطلب ! میر ے علم میں ایسا کو ئی نو جوا ن نہیں جو اپنی قوم کے لئے اس سے بہتر اور اعلی کو ئی چیز لے کر آیا ہو ۔ میں تمہا رے وا سطتے دنیا اور آخر ت کی بھلا ئی  لے کر آیا ہو ں “

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply