سیرت النبی ،پانچواں آدمی حضرت ابو ذر غفا ری

ان کے ایما ن لا نے کے با رے میں ایک روایت یہ ہے کہ جب یہ مکہ میں آئےتو ان ان ملا قات حضرت علی سے ہو ئی اور حضرت علی نے ہی ان کو آپ ﷺ سے ملو ایا بیعت کر نے کے بعد نبی کریم ﷺ ان کو اپنے ساتھ لے گئے ایک جگہ ابو بکر صدیق نے ایک دروازہ کھو لا ہم اندر داخل ہو ئے ابو بکر صدیق نے ہمیں انگو ر پیش کئے اس طر ح یہ پہلا کھا نا تھا جو میں نے مکہ آنے کے بعد کھا یا

اس کے بعد نبی نے ان سے فر ما یا اے ابو ذر اس معا ملے کو ابھی چھپا ئے رکھنا اب تم اپنی قوم میں واپس جا واور انہیں بتا و تا کہ وہ لو گ میرے پا س آسکیں ہھر جب تمھیں معلو م ہو کہ ہم نے خو د اپنے معا ملے کا کھلم کھلا اعلا ن کر دیا ہے تو اس وقت تم میرے پا س آجا نا

آپ ﷺ کی با ت سن کر ابو ذر غفا ری بو لے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو سچا ئی دے کر بھیجا ان لو گو ں کے درمیا ن کھڑے ہو کر پکا ر پکا ر کر اعلا ن کر وں گا ابو ذر کہتے ہیں کہ میں ایما ن لا نے والے دیہا تی لو گو ں میں سے پا نچواں آدمی تھا غرض جس وقت قریش کے لو گ حرم میں جمع ہو ئے انہو ں نے بلند آواز میں چلا کر کہا :

میں گو اہی دیتا ہو ں سو ائے اللہ کے کو ئی معبو د نہیں اور میں گوا ہی دیتا ہو ں کہ محمد اللہ کے رسول ﷺ ہیں بلند آواز میں یہ اعلا ن سن کر قریشیو ں نے کہا اس بد دین کو پکڑ لو انہو ں نے ابو ذر کو پکڑ لیا اور بے انتہا ما را ایک روایت میں الفا ظ یہ ہیں

وہ لو گ ان پر چڑھ دوڑے پو ری قوت سے انہیں ما را یہا ں تک کہ وہ بے ہو ش ہو کر گر پڑےاس وقت حضرت عبا س درمیا ن میں آگئے وہ ان پر جھک گئے قریشیو ں سے کہا کہ کیا تمھیں نہیں پتہ یہ قبیلہ غفا ر سے ہیں ان کا علا قہ تمھا را تجا رت کا راستہ ہے ان کے کہنے کا مطلب یہ قبیلہ غفا رکے لو گ تمھا را راستہ بند کر دیں گے اس پر ان لو گو ں نے انہیں چھو ڑ دیا

ابو ذر فر ما تے ہیں اس کے بعد میں زم زم کے کنویں پر گیا اپنے بد ن سے خو ن دھو یا گلے دن میں نے پھر اعلا ن کیا میں گو اہی دیتا ہو ں سو ائے اللہ کے کو ئی معبو د نہیں اور میں گوا ہی دیتا ہو ں کہ محمد اللہ کے رسول ﷺ ہیں

انہو ں نے پھر مجھے مارا اس روز بھی حضرت عبا س نے انہیں چھڑایا پھر میں وہا ں سے واپس ہو ا اور اپنے بھا ئی انیس کے پا س آیا

انیس نے مجھ سے کہا تم کیا کر آئے ہو میں نے جو اب دیا مسلما ن ہو گیا ہو ں اور میں نے محمد ﷺ کی تصدیق کر دی ہے اس پر انیس نے کہا میں بھی بتو ں سے بیزار ہو ں اور اسلا م قبول کر چکا ہو ں اس کے بعد ہم دنو ں اپنی والدہ کے پا س آئے تو وہ بو لیں

مجھے پچھلے دین سے مجھے کو ئی دلچسپی نہیں رہی میں بھی اسلا م قبو ل کر چکی ہو ں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کر چکی ہو ں اس کے بعد ہم اپنی قوم غفا ر کے پا س آئے ان سے با ت کی ان میں سے تو آدھے ہی مسلما ن ہو گئے با قی لو گوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ تشریف لا ئیں گے تو ہم اسلام قبو ل کر یں گے چنا نچہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لا ئے تو قبیلہ غفار کے با قی لا گ بھی مسلما ن ہو گئے

ان حضرات نے جو یہ کہا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لا ئیں گے ہم اس وقت مسلما ن ہو ں گے تو ان کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ میں حضرت ابو ذر غفا ری سے ارشاد فر ما یا تھا :

میں نخلستا ن یعنی کھجوروں کے با غ کی سرزمین میں جا ؤں گا جو یثر ب کے سوا کو ئی نہیں ہے تو کیا تم اپنی قوم کو خبر پہنچا دو گے ممکن ہے اس طر ح تمھا رے سے اللہ پا ک ان لو گو ں کو فا ئدہ پہنچا دیں اور تمھیں ان کی وجہ سے اجر ملے

اس کے بعد نبی کر یم ﷺ کے پا س قبیلہ اسلم کے لو گ آئے انہو ں نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم بھی اسی با ت پر مسلما ن ہو تے ہیں جس پر ہما رے بھا ئی قبیلہ کے لو گ مسلما ن ہو ئے ہیں

نبی کر یم ﷺ نے یہ سن کر فر ما یا اللہ پا ک غفار کے لو گو ں کی مغفرت فر ما ئے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلا مت رکھے

یہ حضرت ابو ذر غفا ری ایک مر تبہ حج کے لئے مکہ گئے طو اف دوران کعبے کے پا س ٹھہر گئے لو گ ان کے چا رو ں طر ف جمع ہو گئے اس وقت انہو ں نے لو گو ں سے کہا ؛بھلا بتاو تو تم میں سے کو ئی سفر میں جا نے کا ارادہ کر تا ہے تو کیا وہ سفر کا سا ما ن سا تھ نہیں لیتا ؟

لو گو ں نے کہا بے شک ساتھ لیتا ہے تب آپ ﷺ نے فر ما یا تو پھر یا د رکھو قیا مت کا سفر دنیا کے ہر سفر سے کہیں زیا دہ لمبا ہے اور جس کا تم یہا ں ارادہ کر تے ہو اس لئے اپنے ساتھ اس سفر کا سا ما ن لے لو جو تمھیں فا ئدہ پہنچا ئے لو گو ں نے پو چھا :ہمیں کیا چیز فا ئدہ پہنچا ئے گی حضرت ابو ذر غفا ری بو لے :

بلند مقصد کے لئے حج کرو قیا مت کے دن کا خیال کر کے ایسے دنو ں میں روزر رکھو جو سخت گر می کے دن ہو ں گے اور قبر کی وحشت اور اندھیرے کا خیا ل کر تے ہو ئے رات کی تا ریکی میں اٹھ کر نما ز پڑھو

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply