سیرت النبی ،ذوالقرنین کا سوال

ذو القرنین نے کہا کہ جو شخص ظا لم ہے ہم اسے سزا دیں گے اور مر نے کے بعد اللہ بھی اسے سزا دیں گے البتہ مو من بندوں کو نیک صلہ ملے گا دوسری مہم میں وہ اس مقا م تک پہنچے جہا ں سے سو رج طلو ع ہو تا ہے وہا ں انہیں ایسے لو گ ملے جن کے مکا نا ت کی کو ئی چھت وغیرہ نہیں تھی

تیسری مہم میں وہ دو گھا ٹیو ں کے درمیا ن پہنچے یہا ں کے لو گ ان کی با ت نہیں سمجھتے تھے انہو ں نے اشاروں میں یا تر جما ن کے ذرئعے یا جوج ما جو ج کی تبا ہ کا ریو ں کا شکو ہ کرتے ہو ئے ان سے درخو است کی کہ وہ ان کے اور یا جو ج ما جو ج کے درمیا ن بند بنا دیں  ذوالقرنین نے لو ہے کی چا دریں منگو ائیں پھر ان سے ایک چا در بنا دی اس میں تا نبا پگھلا کر ڈالا گیا اس کا م کے ہو نے پر ذو القرنین نے کہا یہ اللہ پا ک کا فضل ہے کہ مجھ سے اتنا بڑا کا م ہو گیا

قیا مت کے دن یا جو ج ما جو ج اس دیو ار کو تو ڑنے میں کا میا ب ہو جائیں گے ذوالقرنین کے بارے میں مخلتف و ضا حتیں کتا بو ں میں ملتی ہیں قرنین کے معنی دو سمتو ں کے ہیں  ذو القرنین دنیا کے دو کنا رو ں تک پہنچے تھے اس لئے انہیں ذو القرنین کہا جا تا ہے

بعض نے قرن کے معنی سینگ کے لئے ہیں یعنی دو سینگو ں والے ان کا نا م سکندر تھا لیکن یہ یو نا ن کے سکندر نہیں تھے جیسے سکند ر اعظم کہا جا تا ہے تو یا نی سکندر کا فر تھا جب کہ یہ مسلم اور ولی اللہ تھے یہ سام بن نو ح کی اولا د تھے خضر ان کی فو ج کا جھنڈا اٹھا نے والے تھے

تیسرے سوال آپ ﷺ سے روح کے با رے میں پو چھتے ہیں آپ ﷺ فر ما دین کہ میری روح رب کے حکم سے قا ئم ہے یعنی رو ح کی حقیقت اس کے علم میں ہےاس کے سوا اس کے بارےمیں کو ئی نہیں جا نتا

رو ح کے با رے میں یہو دیو ں کی کتا ب میں بھی یہ ہی با ت درج تھی میری روح رب کے حکم سے قا ئم ہے یعنی رو ح کی حقیقت اس کے علم میں ہےاس کے سوا اس کے بارےمیں کو ئی نہیں جا نتا یہو دیو ں نے مشرکو ں سے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا اگر انہو ں نے روح کے متعلق کچھ بتا یا تو سمجھ لینا کہ وہ نبی نہیں ہیں اگر صرف یہ کہا کہ وہ رو ح اللہ کے حکم پر قائم ہے تو سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں آپ ﷺ نے بلکل یہ ہی جو اب ارشا د فر ما یا

لگے ہا تھو ں یہا ں ایک واقعہ یہ بھی سن لیں جب مسلما نو ں نے ہندوسا ن فتح کیا تو ہندو مذہب کا ایک عالم مسلما ن عالمو ں سے منا ظرہ کر نے آیا اس نے مطا لبہ کیا

میرے مقا بلے میں کسی عالم کو بھیجو اس پر لو گو ں نے اما م رکن الدین کی طر ف اشا رہ کیا

حق دلوا یا :

اب ہندوستا نی نے اس سے پو چھا کہ تم کس کی عبا دت کر تے ہو انہو ں نے کہا کہ ہم ایک اللہ کی عبا دت کر تے ہیں جو سامنے نہیں ہیں اس پر ہندو نے پو چھا تمھیں اس کی خبر کس نے دی انہو ں نے کہا محمد ﷺ نے اس پر اس ہندی نے کہا تمھا رے پیغمبر نے روح کے با رے میں کیا کہا اما م بو لے یہ رو ح میرے رب کے حکم سے قا ئم ہے اس پر ہندی عالم نے کہا تم سچ کہتے ہو اس کے بعد وہ مسلما ن ہو گیا

ایک رو ز نبی کر یم ﷺ چند صحابہ اکرام کے ساتھ مسجد الحرام میں جمع تھے ایسے میں قبیلہ زبید کا ایک شخص وہا ں آیا اس وقت قریب ہی قریش مکہ میں مجمع لگا ئے وہا ں بیٹھے تھے  قبیلہ زبید کا وہ شخص ان کے نز دیک گیا اور ارد گرد گھو منے لگا پھر اس نے کہا :

اے قریش کو ئی شخص کیسے تمھا رے علا قے میں داخل ہو سکتا ہے اور کو ئی تا جر کیسے تمھا ری سر زمین پر آسکتا ہے کہ تم ہر آنے والے پر ظلم کر تے ہو  یہ کہتے ہو جب وہ اس جگہ پہنچا جہا ں آپ ﷺ تشریف فر ما تھا تو آپ ﷺ نے اس سے فر ما یا تم پر کس نے ظلم کیا  اس نے بتا یا :

میں اپنے اونٹو ں میں سے تین بہتر ین اونٹ بیچنے آیا تھا مگر ابو جہل نے تینو ں اونٹوں کی اصل قیمت میں سے صرف ایک یہا ئی قمیت لگا ئی اور ایسا اس نے جا ن بو جھ کر کیا کیو ں کہ وہ جا نتا تھا کہ وہ اپنی قوم کا سردار ہے اس کی لگا ئی ہوئی قیمت سے زیا دہ رقم کو ئی نہیں لگا ئے گا مطلب یہ کہ اب وہ اونٹ اس قدر کم قمیت پر فر وخت کر نے پڑیں گے یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے میرا تجا رت کا یہ سفر بے کا ر ہو جا ئے گا نبی کر یم ﷺ نے اس کی پو ری بات سن کر فر ما یا : تمھا رے اونٹ کہا ں ہیں اس نے بتا یا یہیں خزورہ کے مقا م پر ہیں آپ ﷺ اس وقت اٹھے صحا بہ کو سا تھ لیا اونٹو ں کے پا س پہنچے آپ ﷺ نے دیکھا اونٹ واقعے بہت عمدہ تھے آپ ﷺ نے اس نے ان کا بھا و کیا اور آخر خو ش دلی سے سودہ طے ہو گیا آپ ﷺ نے وہ اونٹ اس سے خر ید لئے

Leave a Reply