سیرت النبی ،فجار کی جنگ

آپ ﷺ نے انکا ر فرما دیا ابو طا لب ہر سال آپ ﷺ کو شریک ہو نے کے لئے کہتے رہے لیکن آپﷺ ہر با ر انکا ر ہی کر تے رہے آخر ایک بار ابو طا لب کو آپ ﷺ پر غصہ آگیاآ پﷺ کی پھوپھیوں کو بھی آپ ﷺ پر بہت غصہ آیا وہ آپ ﷺ سے بو لیں تم ہما رے معبو دوں سے اس طر ح بچتے ہو اور پرہیز کر تے ہو کہ تمھیں ڈر ہے کہ وہ تمھیں کو ئی نقصا ن نہ پہنچا ئیں

انہو ں نے یہ بھی کہا محمد آخر تم عید میں کیو ں شریک نہیں ہو تے ؟ ان کی با تو ں سے تنگ آکر آپ ﷺ ان کے پا س سے اٹھ کر کہیں دور چلے گئے اس با رے میں آپ ﷺ فر ما تے ہیں میں جب بھی بوانہ یا کسی بت کے قریب ہو ا میرے سا منے ایک سفید رنگ کا ایک قد آور آدمی ظا ہر ہوا اس نے ہر با ر مجھ سے یہ ہی کہا کہ محمد پیچھے ہٹو اسے چھو نا نہیں

خا نہ کعبہ میں دو بت تھے ان کا ن ام اسا ف اور نا ئلہ تھے طو اف کر تے وقت مشرک بر کت کے لئے انہیں چھو ا کر تے تھے حضرت زید بن حا رثہ فر ما تے ہیں کہ ایک با ر آپ ﷺ بیت اللہ کا طو اف کر رہے تھے میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا جب میں طو اف کے درمیا ن ان بتو ں کے پا س سے گزرا تو میں نے انہیں چھوا نبی پا ک ﷺ نے فو را فر ما یا انہیں ہا تھ مت لگا و

اس کے بعد ہم طو اف کر تے رہے میں نے سو چا کہ ایک با ر پھر ان بتو ں کو چھو نے کی کوشش کروں تا کہ پتہ تو چلے انہیں چھو نے سے کیا ہو تا ہے اور آپ ﷺ نے مجھے کیو ں روکا ہے چنا نچہ میں نے پھر انہیں چھو لیا تب آپ ﷺ نے سخت لہجے میں فر ما یا کہ کیا میں نے تمھیں انہیں چھو نے سے منع نہیں کیا تھا اور میں قسم کھا کر کہتا ہو ں نبی پا ک ﷺ نے کبھی کسی بت کو نہیں چھو ا یہا ں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو نبو ت عطا فر ما دی اور آپ ﷺ پر وحی نا زل ہو گئی

اس طرح اللہ پا ک آپ ﷺ کی حرام چیزوں سے بھی حفا ظت فر ما تے تھے مشرک بتو ں کے نا م پر جا نو ر قر با ن کر تے تھے پھر یہ گو شت تقسیم کیا جا تا تھا یا پکا کر کھلا دیا جا تا تھا لیکن آپ ﷺ نے کبھی ایسا فو شت نہیں کھا یا تھاخو د آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ میں نے کبھی کو ئی ایسی چیز نہیں چکھی جو بتو ں کے نا م پر ذبح کی گئی ہو یہا ں تک کہ اللہ پا ک نے مجھے نبو ت عطا کر دی

اس طر ح آُ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ آپ ﷺ نے بچپن میں بت پر ستی کی  آپ ﷺ نے فر ما یا نہیں پھر آپ ﷺ سے پو چھا گیا کہ کیا آپ ﷺ نے شراب پی جو اب میں ارشاد فر ما یا نہیں حا لا نکہ اس وقت مجھے معلو م نہیں تھا کہ کتا ب اللہ کیا ہے اور ایما ن ی تفصیل کیا ہے آپ ﷺ کے زما نے میں بھی کچھ لو گ تھے جو جا نو روں کے نا م پر ذبح کیا گیا فو شت نہیں کھا تے تھے اور شر اب کو ہا تھ نہیں لگا تے تھے

بچپن میں بکریا ں بھی چرایں آپ ﷺ مکہ میں بکر یا ں چر ایا کر تے تھے معا وضے کے طو ر پر آپ ﷺ کو ایک سکہ دیا جا تا آپ ﷺ فر ما تے ہیں اللہ پا ک نے جتنے نبی بھیجے ان سب سے بکریا ں چرانے کا کا م کیامیں مکہ والوں کی بکر یا ں سکے کے بد لے چر اتا تھا مکہ والوں کی بکریوں کے ساتھ آپ ﷺ گھر والو ں اور رشتے دارو ں کی بکر یاں بھی چرا تے تھے

پیغمبر نے بکر یا ں کیو ں چر ائیں اس کی وضا حت یو ں بیا ن کی جا تی ہے اس کا م میں اللہ پا ک کی زبر دست حکمت ہے بکری جو کہ کمزور جا نو رہے لہذا جو شخص بکر یا ں چر اتا ہے اس میں قدرتی طور پر نر می محبت اور انکساری کا جذ بہ پیدا ہو جا تا ہے ہر کا م اور پیشے کی کچھ خصو صیا ت ہو تی ہیں ہر کا م اور پیشے کی کچھ خصو صیا ت ہو تی ہیں مثلا قصا ب کے دل میں سختی ہو تی ہے لو ہا ر جفا کش ہو تا ہے ما لی نا زک طبع ہو تا ہے اور اب جو شخص بکر یا ں چراتا ہے جب وہ مخلو ق کی اصلا ح کا کا م کر ے گا تو اس کی تر بیت میں سے گر می اور سختی نکل چکی ہو تی ہے مخلو ق کی تر بیت کے لئے وہ بہت نر م مزاج ہو جا تا ہے اور تبلیغ کے کا م میں نر م مز اجی کی بہت ضرورت ہو تی ہے

عربو ں میں ایک شخص بد بن معشر غفا ری تھا یہ عکا ظ کے میلے میں بیٹھا کر تا تھا لو گو ں کے سامنے اپنی بہا دری کے قصے سنا یا کر تا تھا اپنی بڑائیاں بیا ن کر تا تھا ایک دن اس نے پیر پھیلا کر اور گر دن اکڑا کر کہا

میں عر بو ں میں سب سے زیا دہ عزت دار ہو ں اگر کو ئی خیا ل کر تا ہے کہ وہ زیادہ عزت والا ہے تو تلو ار کے زور پر یہ با ت ثا بت کر کے دیکھا ئے اس کے بڑے بو ل سن کر ایک شخص کو غصہ آیا وہ اچا نک اس پر جھپٹا اور اس کے گھٹنے پر تلوار دے ما ری اس کا گھٹنا کٹ گیا یہ بھی کہا جا تا ہے کہ اس کا گھٹنا صرف زخمی ہو اتھا اس میں دنو ں کے قبیلے آپس میں لڑ پڑے ان میں جنگ شروع ہو گئی اس لڑائی کو فجا ر کی پہلی لڑائی کہا جا تا ہے اس وقت آپ ﷺ کی عمر 10 سال تھی

فجا ر کی ایک اور لڑائی بنو عا مر کی ایک عو رت کی وجہ سے ہو ئی اس میں بنو عامر بنو کنا نہ سے لڑے کیو نکہ کنا نہ کے قبیلے کی ایک عورت کو چھیڑا تھا

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply