شان اولیاء کرام

اللہ رب العزت نے انسان کواشرف المخلوقات بنایاہے انسان کوطرح طرح کی نعمتیں عطاکی ہیں جن کاانسان شماربھی نہیں کرسکتاانسانوں اورجنوں کومحض اللہ پاک کی عبادت کے لئے پیداکیاگیاہے تاریخ اسلام پراگرنگاہ دوڑائی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام کومبعوث فرمایاان انبیاء کرام نے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی انجام دیتے رہے، حضرت محمدمصطفیﷺخاتم النبین ہیں آپﷺکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاﷺکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث نمبر: 6021 روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو شخص میرے کسی ولی (بندہ مقرب) سے عداوت رکھے تو میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں ، اور میرا بندہ کسی اور میری پسندیدہ چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جتنا کہ فرائض کے ذریعے (میرا قرب پاتا ہے) اور میرا بندہ نفل (زائد) عبادات کے ذریعے ہمیشہ میرا قرب پاتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت فرماتا ہوں جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگروہ مجھ سے مانگے تو اسے ضرور عطاء کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو اسے ضرور پناہ عطاء فرماتا ہوں ۔
اسی طرح قران پاک میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں