سیرت النبی،حجر اسود کون رکھے گا ؟

اس وقت اس شدید  جھگڑے کو ختم کر نے کے لئے اس نے ایک حل پیش کیا اس نے سب سے کہا : اے قریش کے لو گوں اپنا جھگڑ ا ختم کر نے کے لئے یو ں کر وکہ حرم کے صفا نا می دروازے سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو اس سے فیصلہ کر والو وہ تمھا رے درمیا ن جو فیصلہ کر ے سب اس کو ما ن لیں یہ تجو یز سب نے ما ن لی آج اس دروزے کو باب الاسلام  کہا جا تا ہے  یہ دروزہ رکن ایما نی اور رکن اسو د کے درمیانی حصے کے سامنے ہے اللہ کی قدرت کہ اس دروزے سے سب سے پہلے آپ ﷺ تشریف لا ئے قریش نے جیسے ہی آپ ﷺ کو دیکھا پکا ر اٹھے یہ تو امین ہیں یہ تو محمد ہیں ہم ان پر را ضی ہیں اور ان کے ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ قریش اپنے آپس کے جھگڑوں کے فیصلے آپ ﷺ سے ہی کروایا کر تے تھے آپ ﷺ کسی کی بے جا حما یت نہیں کر تے تھے نہ بلا وجہ کسی کی مخا لفت کر تے تھے پھر ان لو گو ں نے جھگڑے کی تفصیل آپ ﷺ کو سنا ئی سا ری تفصیل سن کر آپ ﷺ نے فر ما یا ایک چا در لے آؤ وہ لو گ چا در لے آئے آپ ﷺ نے چا در کو بچھایا حجر اسود کو اٹھا کر اپنے دست مبا رک حجر اسو د کو اٹھا کر اس چا در میں رکھ دیا اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا ہر قبیلے کے لو گ  اس چا در کا ایک ایک کنا رہ پکڑ لیں پھر سب مل کر اسے اٹھا ئیں ۔

انہو ں نے ایسا ہی کیا چا در کو اٹھا ئے ہو ئے وہ اس مقا م تک آگئے جہا ں حجر اسود کو رکھنا تھا اس کے بعد نبی کر یم ﷺ نے حجر اسود کو اٹھا کر اس جگہ پر رکھنا چا ہا لیکن عین اسی وقت ایک نجدی شخص آگے بڑا اور تیزی سے بو لا

بڑے تعجب کی با ت ہے کہ آپ لو گوں نے ایک کم عمر کو اپنا رہنما بنا لیا ہے اس شخص کی عزت افزائی میں لگ گئے ہو یا د رکھو یہ شخص سب کو گر وہو ں میں تقسیم کر دے گا تم لو گو ں کو پا رہ پا رہ کر دے گا

قریب تھا کہ لو گو ں میں پھر اس با ت پر جھگڑ اہو جا ئے لیکن پھر انہو ں نے خو د ہی محسو س کر لیا کہ رسول پا ک ﷺ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ لڑانے والا نہیں ہے لڑائی ختم کر نے والا ہے چنا نچہ حجراسود کو نبی کر یم ﷺ نے اپنے ہا تھو ں سے اس جگہ پر رکھ دیا ۔

مو رخو ں نے لکھا ہے کہ یہ نجدی شخص اصل میں ابلیس تھا جو اس مو قع میں انسا نی شکل میں آیا تھا جب کعبے کی تعمیر مکمل ہو گئی تو قریش نے اپنے بتو ں کو پھر دے اس میں سجا دیا کعبے کی یہ تعمیر جو قریش نے کی تھی وہ چوتھی تھی سب سے پہلے کعبے کو فرشتو ں نے بنا یا تھا بعض صحا بہ نے فر ما یا ہے کہ زمین اور آسما ن کو پیدا کر نے سے پہلے اللہ پا ک کا عرش پا نی کےاوپر تھا جب عر ش کو پا نی کر ہو نے کی وجہ سے حرکت ہو ئی تو اس پر پہلا کلمہ لکھا گیا

اللہ پا ک سے سوا کو ئی معبو د نہیں محمد اللہ کے رسول ہیں  اس کلمے کے لکھے جا نے کے بعد عر ش سا کن ہو گیا پھر جب اللہ پا ک نے آسما ن اور زمین کو پیدا کر نے کا ارادہ فر ما یا اس کے پا نی پر ہو ا کو بھیجا اس سے پا نی میں مو جیں اٹھنے لگی اور بخا رات اٹھنے لگے اللہ پا ک  نے ان بخا رات یعنی بھا پ سے آسما ن کو پیدا فر ما یا پھر اللہ پا ک نے کعبے کی جگہ سے پا نی کو ہٹا دیا  جگہ خشک ہو گئی چنا نچہ یہ ہی بیت اللہ سا ری زمین کی اصل ہے اور اس کا مر کز ہے یہ ہی خشکی بڑھتے بڑھتے 7 براعظم بن گئی جب زمین ظا ہر ہو گئی تو اس پر پہا ڑ قا ئم کئے گئے  زمین کا سب سے پہلا پہاڑ ابو قبیس ہے۔

پھر اللہ پا ک نے فر شتو ں کو حکم فر ما یا :زمیں پر میرے نا م کا ایک گھر بنا و تا کہ ادم کی اولا د اس گھر کے ذرئعے میری پنا ہ ما نگے انسان اس گھر کا طو اف کر یں جس طر ح تم نے میرے عرش کے گر دطو اف کیا ہے تا کہ میں ان سے را ضی ہو جا ؤں ۔ فر شتو ں نے حکم کی تعمیر کی پھر آدم نے خا نہ کعبہ کی تعمیر شروع کی ا س کے بعد حضرت ابراہیم نے خا نہ کعبہ کی تعمیر شروع کی اس طر ح قریش کے ہا تھوں یہ تعمیر چو تھی با ر ہو ئی تھی حضور اکرم ﷺ کی عمر مبا رک 40 سال کے قر یب ہو ئی تو وحی کے اثا ر شروع ہو گئے اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ ﷺ سچے خو اب دیکھا ئی دینے لگے آپ ﷺ جو خو اب دیکھتے وہ حقیقت بن کر سا منے آجا تا اللہ پا ک نے سچے خؤ ابوں کا سلسلہ اس لئے شروع کیا کہ اچا نک فرشتے کی آمد سے کہیں آپ ﷺ خؤ ف ذدہ نہ ہو جا ئیں ان دنو ں ایک بار آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ ؑ سے فر ما یا جب میں تنہا ئی میں جا کر بیٹھا کر تا ہو ں تو مجھے آواز سنا ئی دیتی ہے کو ئی کہتا ہے اے محمد اے محمد ایک با ر آپ ﷺ نے فر ما یا مجھے ایک نو ر نظر آتا ہے یہ نو ر جاگنے کی حا لت میں نظر آتا ہت مجھے ڈر ہے کہ اس کے نتیجے میں کو ئی بات نہ پیش آجا ئے ۔ایک با ر آپ ﷺ نے فر ما یا اللہ پا ک کی قسم مجھے جتنی نفرت ان بتو ں سے ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply