سیرت النبی ﷺ حصہ13

کفا ر نے آپ ﷺ کو پکڑ نے کے لیے سب کو لا لچ دیا کہ جو شخص پکڑ کر لا ئے گا اسے 100 اونٹ دیئے جا ئیں گے ۔

نبی کر یم ﷺ  جا رہے تھے ایک آدمی کو اندا زہ ہو کہ شا ید آپ ﷺ ہی ہیں ۔

اس نے اپنے دوستو ں کو یہ با ت  بتا ئی تو ان میں سے ایک آدمی جس کا نا م سراوہ تھا اس نے سب کے سا منے با ت کو غلط ظا ہر کیا لیکن بعد میں وہ اس خیلا سے اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر ان کی تلا ش میں چل نکلا کہ وہ آدمی واقعہ حضر ت محمد ﷺ ہی ہو ں ۔

جب قر یب پہنچا تو گھو ڑا پھسلا اور نیچے گر گیا ۔

ان لو گو ں کی عا دت تھے کہ فا ل نکا لتے تھے ۔ فا ل نکا لنے کا ظر یقہ یہ ہو تا کہ اپنے تیر وں میں سے تیر نکا لتے ، اگر پسند کا نکل آتا تو سمجھتے کہ کا م کر نا چا ہیئے اور اگر پسند کا نہ نکلتا تو سمجھتے کہ کا م نہیں کر نا چا ہیے ۔

اسلا م نے اسے حرام قراردیا ہے اور کا م کر نے سے پہلے دو با تو ں کا حکم دیا ہے ۔

مشورہ :

کسی کا م میں پر یشا نی ہو یا کو ئی کام شروع کرنا ہو تو کسی اچھے مخلص آدمی سے ضرور مشورہ کر نا چا ہیے ۔نبی پا ک ﷺ نے اپنے صحا بہ ؑ سے مختلف کو مو ں میں مشورہ کیا کر تے تھے اسی طرح صحا بہ اکر م ؑ بھی آپ ﷺ سے مشو رہ کیا کر تے تھے ۔

استخا رہ :

استخا رہ کا مطلب ہے کہ خیر کا مطلب کر نا ۔

جب بھی کسی کا م کے کر نے یا نہ کر نے کے حو لے سے مترددہو ں تو مسنو ں طر یقہ پر استخا رہ کیا جا سکتا ہے ۔

جا بر ؑ نے بیا ن کیا کہ رسول ﷺ ہمیں تما م معاملا ت  میں استخا رہ کی ایسے تعلیم دیتے جیسے قرآن کو سو رت کی تعلیم دیتے ۔

اس کا طر یقہ یہ ہے کہ ممنو ع اوقات یعنی طلو ع ، زوال اور غر وب کے علا وہ دو رکعت نفل پڑ ھیں ۔ پھر یہ دعا ما نگیں ۔

” اے اللہ ! میں بھلا ئی منگتا ہو ں تیری بھلا ئی سے تو علم والا ہے  ، مجھے علم نہیں اور تو نما م پو شیداہ با تو ں کو جا ننے والا ہے ، اے اللہ ! تو جا نتا ہے کہ یہ کا م    میرے لیے بہتر ہے ، میر ے دین کے اعتبا ر سے ، میر ی معا ش اور میرے انجا م کا ر کے کا ر اعتبا ر سے تو اسے میر ے لیے مقدر کر دے اور اسے میر ے لئے آسان کر دے اور اس میں میر ے لئے بر کت ڈا ل دے ۔

اے اللہ اگر تو جا نتا ہے کہ یہ کا م میرے لیے برا ہے میر ے دین کے لئے میر ی معا ش   کے لئے اور میرے انجا م کا م کے لیے  تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میر ے لیے بھلا ئی مقدر کر دے جہا ں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے ۔

یہ دعا ء  استخا رہ ہے   ۔ اس کے تر جمہ پر غو ر کر تے ہوئے اخلا ص سے پڑ ھیں نتیجہ اللہ پر چھو ڑ دیں ۔

یقین رکھیں کہ اگر وہ کا م اپکے لیے بہتر ہو تو ہو جا ئے گا ورنا اللہ پا ک بہتر اور مفید کی طرف راہ آسا ن کر دے گا ۔

 تر جمہ پر غو ر کر یں تو اندا زہ ہو جا ئے گا کہ استخا رہ کی دعا متکم یعنی دعا کر نے والے الفا ظ یہ ہیں خیر لی میر ے لئے بہتر ہے تو میرے مقدر میں کر دے ۔

غو ر کر یں جو لو گ دوسروں سے رشتہ کر نے کا استخا رہ کر واتے ہیں تو با با جی استخا رے والے اپنے  لئے دعا کر رہے ہیں اللہ اگر یہ رشتہ میرے لیے بہتر ہے تو میرے مقدر میں کر دے ۔ یہ درست نہیں ۔

رات سو نے سے پہلے استخا رہ کر نا لا زم نہیں اور پھر یہ سمجھنا کہ استخا رہ کر کے سو ئیں گے تو خو اب آئے گا جس میں آشا رہ ہو گا کہ یہ کا م کر نا چا ہیے یا نہیں یہ بھی درست نہیں ۔

بہر حا ل سراقہ نے فا ل نکا لا ا پسند تیر نکل آیا مگر انسا نی فطر ت ہے کہ جو کا م سر پر سوار ہو جو ئے اسے کر کے ہیں ہٹتا ہے ۔ سو اونٹ کے لا لچ میں پھر گھو ڑ ے پر سوار ہو گیا ۔ قر یب پہنچے تو نبی پا ک ﷺ تلا وت کر رہے تھے ۔

آپ ﷺ سفر میں نفل بھی پڑ ھا کر تے تھے اور تلا وت بھی کیا کر تے تھے آج  ہم میں سے اکثر لو گ یہ  دو نو ں کا م ہی نہیں کر تے ۔ ہمیں بھی قرآن پا ک کی تلا وت کر نی چا ہیے ۔جو سو رتیں آتی ہیں کم از کم انہیں ہی زبا نی پڑھا کر یں ۔ صر ف 3 مر تبہ سورت اخلا ص  یعنی قل ہو اللہ احد ہی پڑ ھ لیں تو ایک قرآن کے برا بر ہیں آیت الکر سی پڑ ھنے سے ایک فر شتہ حفا ظت کے لئے مقرر ہو جا تا ہے ۔ سورت الفا تحہ پڑھنے سے شفا ملتی ہے ۔

تلا وت کے بڑ ے فوائد ہیں ۔ ان میں سے ایک بہت ہی بڑا فا ئدہ یہ ہے کہ سفر آسانی سے گزر جا تا ہے اور ٹا ئم گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا ۔ ٹر یفیک بلا ک ہو جا ئے تو لو گ ایک دوسرے پر بر سنا شروع ہو جا تے ہیں  کہ میری جگہ پر تم کیو ں آرہے ہو ۔ اگر ہم تلا وت کر  نے کی عادت بنا لیں تو ایسی لڑائیو ں سے بچ سکتے ہیں

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )

Leave a Reply