سیرت النبی ،حقیقت روشن ہو گئی

اب اگر ہمت ہے تو جوا ب دے  ابو جہل ان کی منت کر تے ہو ئے بو لے وہ ہمیں بے عقل بتا تا ہے ہما رے معبو دوں کو برا بھلا کہتا ہے ہما رے با پ دادا کے راستے کے خلا ف چلتا ہے یہ سن کر حضرت حمزہ بو لے

اور خو د تم سے زیا دہ بے عقل اور بے خو ف کو ن ہو گا جو اللہ کو چھو ڑ کر پتھر کے ٹکڑوں کو پو جھتے ہو میں گواہی دیتا ہو ں کہ اللہ کے سوال کو ئی معبو د نہیں اور میں گو اہی دیتا ہو ں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں

ان کے یہ الفا ظ سن کے ابو جہل کے کچھ لو گ حضرت حمزہ کی طر ف بڑھے اور انہیں کہا اب تمھا رے با رے میں بھی ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ تم بھی بے دین ہو گئے ہو جو اب میں حضرت حمزہ نے کہا آو کو ن ہے مجھے اس سے روکنے والا مجھ پر حقیقت روشن ہو گئی ہے میں گواہی دیتا ہو ں کہ اللہ کے سوال کو ئی معبو د نہیں اور میں گو اہی دیتا ہو ں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ حق اور سچا ئی ہے اللہ کی قسم میں انہیں نہیں چھو ڑوں گا اگر تم سچے ہو تو مجھے رو ک کر دیکھا و

یہ سن کر ابو جہل نے اپنے لو گوں سے کہا ابو عما رہ کو چھو ڑ دو میں میں ا بھی واقعے ان کے بھتیجے کے ساتھ برا سلو ک کیا تھا وہ لو گ ہٹ گئے حضرت حمزہ گھر پہنچے گھر آکر انہوں نے الجھن محسوس کی کہ قریش کے سامنے کیا کہہ آیا ہو ں

لیکن پھر ان کا ضمیر انہیں ملا مت کر نے لگا آخر شدید الجھن کے عا لم میں انہوں نے دعا کی اے اللہ اگر یہ سچا راستہ ہے تو میرے دل میں یہ با ت ڈال دے اگر نہیں تو مجھے اس مشکل سےنکا ل دے جس میں گھر گیا ہو ں

وہ رات انہوں نےا سی الجھن میں گزاری آخر صبح ہو ئی تو حضور نبی کر  یم ﷺ کے پا س پہنچے آپ ﷺ سے عرض کیا بھتیجے میں ایسے معا ملے میں الجھ گیا ہو ں کہ مجھے اس سے نکلنے کا کو ئی را ستہ دیکھا ئی نہیں دیتا اور ایک صو رت حا ل میں رہنا جس کے بار ے میں میں نہیں جا نتا یہ سچا ئی ہے یا ں نہیں بہت سخت معا ملہ ہے

اس پر آپ ﷺ حضرت حمزہ کی طر ف متو جہ ہو ئے آپ ﷺ نے انہیں اللہ کے عذ اب سے ڈرایا ثو اب کی خو شخبر ی سنا ئی آپ ﷺ کے وعظ اور نصحیت کا یہ اثر ہو ا کہ اللہ نے انہیں ایما ن کا نو ر عطا کر دیا

اے بھتیجے میں گو اہی دیتا ہو ں کہ تم اللہ کے رسول ہو پس تم اپنے دین کو کھل کے پیش کرو حضرت ابن عبا س فر ما تے ہیں اسی واقعے پر قر آن کی ایک آیت نا زل ہو ئی تر جمہ : ایسا شخص جو کہ پہلے مر دہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اسے ایسا نو ر دیا جیسے لئے وہ چلتا پھر تا ہے ( سورہ الا انعا م )

حضرت حمزہ کے ایما ن لا نے پر حضو ر اکرم ﷺ بہت خو ش ہو ئے اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ حمزہ آپ ﷺ کے سگے چچا تھے دو سری وجہ یہ تھی کہ وہ قر یش میں سب سے زیا دہ معزز انسا ن تھے اس کے ساتھ وہ قریش کے سب سے زیا دہ بہا در طا قت ور اور خو ددار انسا ن تھے اور اسی بنیا د پر قریش نے دیکھا کہ اب رسول اللہ ﷺ کو مز ید قو ت حا صل ہو گئی ہے تو انہو ں نے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچا نے کا سلسلہ بند کر دیا لیکن اب وہ کمزور مسلما نو ں پر ظلم و ستم ڈھا نے لگے کسی قبیلے کا کو ئی بھی شخص مسلما ن ہو جا تا تو اس کے پیچھے ہا تھ دھو کر پڑ جا تے ایسے لو گو ں کو قید کر دیتے بھو کا پیا سا رکھتے پتتی ریت پر لٹا تے یہا ں تک کہ اس کا حا ل یہ ہو جا تا کہ سیدھے بیٹھنے کے بھی قا بل نہ رہتا اس ظلم اور زیا دتی پر سب سے زیا دہ ابو جہل لو گو ں کو اکسا تا تھا

ایسے ہی لو گو ں میں ایک حضرت بلا ل حبشی بھی تھے آپ کا پو را نا م بلا ل بن ربا ح تھا یہ امیہ بن خلف کے غلا م تھے حضرت بلا ل مکہ میں پیدا ہو ئے تھے پہلے عبد اللہ بن جد عا ن کے غلا م تھے عبد اللہ بن جد عا ن کے سو غلا م تھے اس نے 99 غلا مو ں کو مکہ سے اس لئے بھیجوا دیا کہ کہیں وہ مسلما ن نہ ہو جا ئیں بس اس نے حضرت بلا ل بن ربا ح کو اپنے پا س رکھ لیا وہ ان کی بکر یا ں چر ایا کر تے تھے اسلا م کی روشنی حضرت بلا ل تک بھی پہنچی یہ ایما ن لے آئے مگر انہو ں نے اپنے اسلا م کو چھپا ئے رکھا ایک روز انہو ں نے کعبے کے چا رو ں طر ف رکھے بتو ں پر گند گی ڈال دی سا تھ ہی ان پر تھو کتے جا تے اور کہتے جا تے کہ جس نے تمھا ری عبا دت کی وہ تبا ہ ہو گیا

یہ با ت قر یش کو معلو م ہو گئی فو را عبد اللہ بن جد عا ن کے پا س آئے اور اسے کہا کہ تم بے دین ہو گئے ہو اس نے حیران ہو کر کہا کہ کیا میرے با رے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے ؟ اس پر وہ بو لے تمھا رے غلا م بلا ل نے آج ایسا کیا ہے وہ حیرت کے ساتھ بو لے کیا

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply