سیرت النبی ،محمد بڑی شان والے

ان واقعات میں جو سب سے اہم واقعہ ہے وہ سینہ چاک کر نے والا ہے روایا ت سے یہ با ت معلو م ہو تی ہےکہ آپ ﷺ کے سینہ مبا رک پر سلا ئی کے نشا نا ت موجو د تھے جیسا کہ آج کل ڈاکٹر حضرات آپریشن کے بعد ٹا نکے لگا تے ہیں  ٹا نکے کھو ل دیئے جا نے کے با وجو د بھی سلا ئی کے نشا ن مو جو د رہتے ہیں اس واقعےکے بعد حلیمہ سعدیہ اور ان کے والد نے یہ فیصلہ کیا کہ اس

 کے بچے کو اب اپنے پا س نہیں رکھنا

جب حلیمہ سعدیہ نے آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے حوالے کیا تو اس کے کچھ دن بعد حضرت آمنہ انتقال کر گئیں والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا حضرت آمنہ کی وفات مکہ اور مدینہ کے درمیا ن ابوا ء کے مقا م پر ہو ئی آپ کو اسی مقا م پر دفن کیا گیا

ہو ا یہ کہ آپ ﷺ کی والدہ آپ ﷺ کو لے کر مدینہ اپنے میکے گئیں آپ ﷺ کے ساتھ ام ایمن بھی تھیں ام ایمن کہتی ہیں کہ ایک دن مدینہ کے دو یہو دی میرے پا س آئے اور بو لے ذرا محمد کو ہما رے سا منے لا ؤ ہم اسے دیکھنا چا ہتے ہیں وہ آپ ﷺ کو ان کے پا س لا ئیں انہو ں نے اچھی طر ح دیکھا پھر ایک نے اپنے ساتھ سے کہا

یہ اس امت کا نبی ہے اور یہ شہر ان کی ہجرت گا ہ ہے یہا ں زبر دست جنگ ہو گی قیدی پکڑے جا ئیں گے آپ ﷺ کی والدہ کو یہو دیو ں کی اس با ت کا پتہ چلا تو آپ ڈر گئیں اور آپﷺ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو ئیں مگر راستے میں ہی ابواء کے مقا م پر وفا ت پا گئیں حضرت آمنہ کی وفا ت کے چانچ دن بعد ام ایمن آپ ﷺ کو لے کر مکہ پہنچ گئیں آپ ﷺ کو عبد المطلب کے حوا لے کیا آپ کو محمد ﷺ کے یتیم ہو جا نے کا اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کہ وفا ت کا بھی اتنا صد مہ نہیں ہو ا تھا

عبد المطلب کے لئے کعبہ کے سائے میں ایک قالین بچایا جا تا تھا وہ اس پر بیٹھا کر تے تھے ان کا احترام اس قدر تھا کہ کو ئی اس قالین پر نہیں بیٹھا کر تا تھا چنا نچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار قالین کے چا روں طرف بیٹھا کر تے تھے لیکن رسول اکرم ﷺتشریف لا تے تو سیدھے اس قالین پر جا کر  بیٹھتے تھے اس وقت آپ ﷺ ایک تند رست لڑکے تھے آپ ﷺ کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی آپ ﷺ کے چچا عبدالمطلب  کے ادب کی وجہ سے آپ ﷺ کو اس قالین سے ہٹا نا چا ہتے تو عبد المطلب کہتے میرے بیٹے کو چھو ڑ دو اللہ کی قسم یہ بہت شا ن والا ہے

پھر وہ آپ ﷺ کو محبت سے اس فر ش پر بیٹھا تے آپ ﷺ کی کمر پر شفقت سے ہا تھ پھیر تے آپ ﷺ کی با تیں سن کر حد درجے خو ش ہو تے رہتے کبھی وہ دوسروں سے کہتے کہ میرے بیٹے کو یہا ں پر ہی بیٹھنے دو اسے خو د بھی احسا س ہے کہ یہ بڑی شا ن والا ہے اور میری آرزو ہے کہ یہ اتنا بلند مر تبہ پائے جو اس سے پہلے کسی عرب کو حا  صل نہ ہو ا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حا صل ہو سکے

ایک با ر انہو ں نے یہ الفا ظ کہے میرے بیٹے کو چھو ڑ دو اس کے مز اج میں طبعی طو ر پر بلندی ہے اس کی شان نرالی ہو گی عمر کے آخری حصے میں عبد المطلب کی آنکھیں جو اب دے گئیں تھیں آپ نا بینا ہو گئے تھے ایسی حا لت میں ایک روز آپ قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لے آئے اور سید ھا اس قا لین پر جا بیٹھےایک شخص نے آپ ﷺ کو قالین سے کھنچ لیا اس پر آپ ﷺ رونے لگے آپ ﷺ کے رونے کی آواز سن کر عبد المطلب بے چین ہو ئے اور پو چھنے لگے کہ میرا بیٹا کیو ں رو رہا ہے جواب دیا گیا آپ کے قالین پر بیٹھنا چا ہتا ہے ہم نے قالین سے اتا ر دیا ہے یہ سن کر عبد المطلب نے کہا :

میرے بیٹے کو قالین پر ہی بیٹھا دو یہ اپنا رتبہ پہنچتا ہے میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے پر پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو اور نہ بعد میں ملے اس کےبعد پھر کسی نےآپ ﷺ کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا

ایک روز بنو مدلج کے کچھ لو گ عبد المطلب سے ملنے آئے ان کے پا س اسوقت آپ ﷺ بھی تشریف فر ما تھے  بند مد لج کے لو گو ں نے آپ ﷺ کو دیکھا یہ لو گ قیا فہ شنا س تھے آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے با رے میں اندازے بیا ن کر تے تھے انہو ں نے عبد المطلب سے کہا  اس بچے کہ حفا ظت کر یں کہ مقا م ابرا ہیم پر جو حضرت ابراہیم کے قدم کا نشان ہے اس بچے کے پا وں کا نشان بلکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پا ؤں کے نشان میں نہیں دیکھی ہما را خیا ل ہے کہ یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہو گا اس لئے اس کی حفا ظت کر یں

مقا م ابراہیم خا نہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم خا نہ کعبہ کی تعمیر کے لئے کھڑے ہو ئے تھے معجزے کے طو ر پر اس پتھر پر ابر اہیم کے پیروں کے نشا ن پڑھ گئے  تھے لو گ اس پتھر کی زیا رت کر تے ہیں یہ ہی مقام ابراہیم ہے چو نکہ آپ ﷺ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے ہیں اس لئے ان کے پا ؤں کی مشا بہت آپ ﷺ میں ہو نا قدر تی با ت ہے

ایک روز عبد المطلب خا نہ کعبہ میں حجر اسود کے پا س بیٹھے تھے ایسے میں ان کے پا س نجران کے عیسا ئی آئے ان میں ایک پا دری بھی تھا اس پا دری نے عبد المطلب سے کہا : ہما ری کتا بو ں میں ایک ایسے نبی کی علا مات ہیں جو اسما عیل کی اولا دمیں ہو نا با قی ہیں یہ شہر اس کی جا ئے پید ائش ہو گا اس کی یہ یہ نشا نیا ں ہو ں گی ابھی یہ با ت ہو ہی رہی تھی کہ کو ئی شخص آپ ﷺ کو لے کر وہا ں پہنچ گیا پا دری کی نظر جیسے ہی آپ ﷺ پر پڑی وہ چو نک اٹھا آپ ﷺ کی آنکھو ں کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا وہ نبی یہ ہی ہے یہ تمھا رے کیا لگتے ہیں عبد المطلب بو لے یہ میرے بیٹے ہیں اس پر پا دری نے کہا اوہ یہ وہ نہیں اس لئے کہ ہما ری کتا بو ں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجا ئے گا یہ سن کر عبد المطلب بو لے در اصل یہ میرا پو تا ہے

Leave a Reply