سیرت النبی،ہجرت کا آغاز

اس کے بعد حضور اکر م ﷺ نے انہیں ہجرت کر نے کی اجا زت دے دی اس ہجرت کے بعد صحا بہ اکرام ایک ایک دو دو ہر کے چھپ چھپا کر جا نے لگے مد ینہ کی طر ف روانہ ہو نے سے پہلے صحا بہ کےدر میا ن بھابئی چا رہ فر ما یا انہیں ایک دوسرے کا بھا ئی بنا یا مثلا حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے درمیا ن بھا ئی چا رہ فرما یا اسی طر ح حضرت حمزہ کو حضرت زید بن حا رثہ کا بھا ئی بنا یا حضرت عثما ن کو حضرت عبد الرحمن بن عو ف کا بھا ئی بنا یا حضر ت عبا دہ بن صا مت اور حضرت بلا ل کے درمیا ن حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت سعد بن ابی وقا ص کے درمیا ن حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے درمیا ن اور حضرت ابو حذ یفہ کے غلا م حضرت سالم کے درمیا ن حضرت سعید بن زید اور حضرت طلحہ بن عبد اللہ کے درمیا ن اور حضرت علی کو خو د اپنا بھا ئی بنا یا

مسلما نو ں میں سے جب صحا  بہ نے سب سے پہلے مد ینہ کی طر   ف ہجر ت فر ما ئی وہ رسول اللہ کے پھپھو زاد بھا ئی حضرت سلمہ عبداللہ بن عبد اللہ مخرومی ہیں انہو ں نے سب سے پہلے تنہا جا نے کا ارادہ فر ما یا جب یہ حبشہ سے مکہ واپس آئے تو ناہیں سخت مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑا آخر انہو ں نے واپس حبشہ جا نے کا ارادہ کر لیا تھا مگرپھر انہیں مد ینہ کے مسلما ن ہو نے کا پتہ چلا تو یہ رک گئے اور ہجرت کی اجا زت ملنے پر مد ینہ روانہ ہو گئے مکہ سے روانہ ہو تے وقت یہ اپنے اونٹ پر سو ار ہو ئے اور اپنی بیو ی ام سلمہ اور اپنے دو دھ پیتے بچے کو بھی اپنے ساتھ سوار کر لیا جب ان کے سسرال والو ں کو پتہ چلا تو وہ انہیں رو کنے کے لئے دو ڑے ور راستے میں جا پکڑا ان کا راستہ رو ک کر کھڑے ہو گئے

قتل کی سا زش:

انہو ں نے ان کے اونٹ کی مہا  ر پکڑی اور بو لے اے ابو سلمہ تم اپنے با رے میں اپنی مر ضی کے مختا ر ہو مگر ام سلمہ ہما ری بیٹی ہے ہم یہ گوا رہ نہیں کر سکتے کہ تم اسے ساتھ لے جا ویہ کہہ کر انہوں نے ام سلمہ کے اونٹ کی لگا م کھنچ لی اس وقت ابو سلمہ کے خا ند ان کے لو گ وہا ں پہنچ گئے اور بو لے

ابو سلمہ کا بیٹا ہما رے خا ند ان کا بچہ ہے اگر تم نے اپنی بیٹی کو اس کے قبضے سے چھڑا لیا ہے تو ہم بھی اپنے بچے کو اس کے ساتھ نہیں جانے دیں گے

یہ کہہ کر انہوں نے بچے کو چھین لیا اس طر ح ظا لمو ں نے ابو سلمہ کو ان کی بیو ی اور بچو ں دنو ں سے جدا کر دیا اور وہ اکیلے مد ینہ پہنچے

ام سلمہ شو ہر اور بچے کی جدائی کے غم میں روزانہ صبح سویرے مکہ سے با ہر مد ینہ منو رہ کی طر ف جا نے والے راستے میں جا کر بیٹھ جا تیں اور روتی رہتیں ایک دن ان کا رشتے دار ادھر سے گزرا اس نے انہیں روتے دیکھا تو ترس آگیا وہ اپنی قوم کے لو گو ں میں گیا اور ان سے بو لا تمھیں اس غریب پر رحم نہیں آتا اسے اس کے شوہر اور بچے سے جدا کر دیا ہے کچھ تو خیا ل کرو آخر ان کے دل پسج گئے انہو ں نے ام سلمہ کو جا نے کی اجا زت دے دی یہ خبر سن کر ابو سلمہ کے رشتے داروں نے بچہ ام سلمہ کو دے دیا اور انہیں اجا زت دے دی کہ بچے کو لے کر مد ینہ چلی جائیں اس طر ح انہو ں نے مد ینہ کی طر ف تنہا سفر کیا راستے میں حضرت عثما ن بن طلحہ ملے یہ اس وقت تک مسلما ن نہیں ہو ئے تھے کعبے پر چا بی بر ادر تھے یہ صلح حد بیہ کے مو قع پر مسلما ن ہو ئے یہ ان کی حفا ظت کی غر ض سے ان کے اونٹ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے یہا ں تک کہ انہیں قبا میں پہنچاد یا پھر حضرت عثما ن بن طلحہ یہ کہتے ہو ئے رخصت ہو گئے کہ تمھارے شو ہر یہا ں مو جو دہیں

اس طر ح ام سلمہ مد ینہ پہنچی آپ پہلی مہا جر خا تو ن تھیں جو شو ہر کے بغیر مدینہ پہنچی حضرت عثما ن نے انہیں مد ینہ پہنچا کر جو عظیم کا م کیا اس کی بنیا د پر کہاکر تی تھیں میں نے عثما ن بن طلحہ سے زیا دہ نیک اور شریف کسی کو نہیں پا یا

اس کے بعد مکہ سے مسلما نو ں کی آمد شروع ہو ئی صحا بہ اکرام ایک کے بعد ایک آتے رہے انصا ری مسلما ن انہیں اپنے گھروں میں ٹھہراتے ان کی ضروریا ت کا خیا ل رکھتے حضرت عمر اور عیا ش بن ابو ربیعہ 20 آدمیو ں کے قا فلے کے ساتھ مد ینہ پہنچے حضر ت عمر کی ہجر ت کہ خاص با ت یہ ہے مکہ سے چھپ کر نہیں نکلے با قاعدہ اعلا ن کر کے نکلے انہو ں نے خا نہ کعبہ کا طو اف کیا مقا م ابراہیم پر دو نفل نما ز ادا کی اور اس کے بعد مشرکین سے بو لے

جو شخص اپنے بچو ں کو یتیم کر نا چا ہتا ہے اپنی بیو ی کو بیو ہ کر نا چا ہتا ہے اور اپنی ما ں کی گود ویران کرنا چا ہتا ہے وہ مجھے جا نے سے رو ک کر دیکھا ئے ان کا علا ن سن کر سا رے قریشیوں کا سا نچ سو نگ گیا کسی نے ان کا پیچھا کر نے کی جر ات نہ کی   وہ بڑے وقار سے ان سب کے سا منے سےروانہ ہو ئے ابو بکر صدیق بھی ہجرت کی تیا ری کر رہے تھے ہجرت سے پہلے وہ آرزو کیا کر تے تھے کہ نبی کر یم ﷺ کے ساتھ ہجرت کریں وہ روا نگی کی تیا ری کر چکے تھے  ایک دن حضور اکر م ﷺ نے ان سے فر ما یا ابو بکر جلدی نہ کر و ممکن ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجا زت مل جا ئے جس وجہ سے ابو بکر روک گئے

Leave a Reply