سیر ت النبی ﷺ حصہ28

خندق کی کہا نی :

غزوہ احد سے واپس جا تے وقت ابو سفیا ن کہہ کر گیا تھا کہ اگلے سا ل جنگ ہو گی اور نبی پا ک ﷺ نے اس کا چیلنج قبول کر لیا تھا چنا نچہ اگلے سال 4 ہجری شعبا ن کے مہینے میں آپ ﷺ نے پندرہ سو صحابہ کو ساتھ لیا اور بدر چلے گئے دوسری طرف ابو سفیا ن بھی 2000 بندوں کے ساتھ مکہ سے نکل آیا ابھی راستے میں ہی تھا کہ ہمت جو اب دے گئی کہنے لگا کھا نے کو کچھ نہیں ہے قحط سا لی پڑئی ہو ئی ہے جنگیں اس وقت اچھی لگتی ہیں جب پیٹ بھرے ہو ں بس یہ سننا تھا کہ سارے ہی ہنے لگے کہ چلو جی واپس چلتے ہیں لگتا ہے کہ وہ پہلے ہی انتظا ر میں تھے کہ جنگ سے بچنے کا کو ئی بہا نہ سا منے آجا ئے وہ سب وہا ں سے بھا گے تو مکہ پہنچ کر ہی دم لیا ادھر نبی پاک ﷺ پورا ہفتہ ان ڈرپوکو ں کا انتظا ر کر تے رہے جب وہ نہ آئے تو مدینہ واپس آگئے

بزدل ڈاکو ں کی کہا نی :

اس با ت کو ابھی چھے ما ہ گزرے ہی تھے کہ شام کے قریب ایک علا قے جس کا نا م دومتہ الجندل تھا وہا ں کے قبیلوں نے ڈاکے ڈالنا شروع کر دئیے آپ ﷺ ان کو پکڑنے کے لئے ادھر گئے مگر وہ ڈر کے ما رے بھا گ گئے

یہو دیو ں کی سا زشیں :

جب سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کو نکا لا تھا اس وقت سے مکہ میں کا فی امن اور سکو ن ہو گیا تھا یہو دی ہمیشہ ہی مسلما نو ں کے خلا ف سا زشیں کر تے ہیں لہذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں ٹک کر بیٹھ جا ئیں بنو نضیر کے سردار قریش والوں کے پا س گئے اور انہیں کہا کہ چلو سب مل کر مسلما نو ں پر حملہ کر تے ہیں وہ تیا ر ہو گئے اور مکہ کے ارد گرد کے قبیلو ں کو بھی تیا ر کر لیا اس طرح مکہ سے 4000 اور یہو دیو ں کے مختلف قبیلو ں کے 6 ہزار افراد نے مد ینہ پر حملہ کا فیصلہ کیا

انو کھی سکیم :

نبی پا ک ﷺ کو جب یہ با تیں پتہ چلی تو انہو ں نے صحا بہ اکرام سے مشورہ کیا ہر بند ہ اپنا اپنا مشورہ دے رہا تھا ایک بزرگ آدمی جس کا نا م سلیما ن فا رسی ہے انہو ں نے کہا کہ جہا ں سے کا فر حملہ کر سکتے ہیں وہاں خندق کھو د دیتے ہیں نبی پا ک کو یہ مشورہ بہت پسند آیا مد ینہ پا ک کے دو طر ف لا وے والی چٹانیں تھیں اور ایک طر ف یہو دی رہتے تھے جن کا نا م بنو قریظہ تھا ان لو گو ں سے تو معا ہدہ ہو اتھا کہ یہ لو گ جنگ میں مسلما نو  ں کا ساتھ دیں گےلہذا یہاں سے کو ئی بھی خطرہ نہ تھا اب ایک طر ف جو با قی رہ گئی تھی وہاں پر سب نے مل کر خندق کھو دنی شروع کی

دلچسپ واقعات :

جب خندق کھو دنی شروع کی تو لو غو ں سے ایک پتھر نہ ٹوٹ رہا تھا آپ ﷺ نے اسے خود تو ڑا اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی پا ک ﷺ خو د صحا بہ کے ساتھ مل کر سارے کا م کر تے تھے اللہ پا ک اہمیں بھی ایسا ہی بننے کی تو فیق عطا کر ئے آمین کھدائی کے درمیا ن ایک اور پتھر نہیں ٹوٹ رہا تھا تو آپ ﷺ نے تین ضربیں لگا ئی اور ساتھ ساتھ شام فارس اور یمن کی فتح کی خوشخبری بھی سنا ئی منا فقین ہنسے کہ کھا نے کو کچھ ہے نہیں اور خواب پو ری دنیا کے دیکھتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ نبی پا ک ساری باتیں اللہ پا ک کی مر ضی سے کہتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد اللہ پا ک نے سب کچھ فتح کروا بھی دیا اللہ پا ک ہمیں اپنے نبی ﷺ کی با تو  ں کو دل سے ما ننے کی تو فیق عطا کر ئے  

انسا ن نے جب کا فی عر صہ سے کچھ نہ کھایا ہو تو کھڑا ہو نا مشکل ہو تا ہے پہلے زما نے میں کھا نے کو کچھ نہیں ہو تا تھا تو پیٹ سے ایک پتھر با ند ھ لیتے تھے جس سے کھڑا ہو نا آسا ن ہو جا تا ہے ایک صحا بی نے نبی پا ک ﷺ کو اپنا پیٹ دیکھا یا جس پر پتھر بند ھا تھا آپ ﷺ نے اسے اپنا پیٹ دیکھا یا جس پر وہ پتھر بند ھے تھے یہ واقعہ اس با ت کو وواضح کر تا ہے کہ نبی پا ک ﷺ تما م صحا بہ اکرام کے ساتھ ہی کھا تے پیتے تھے دوسرے با دشاہو ں کی طرح کھا نااور رعایا کو بھو کا ما رنے کا کا م نہیں کر تے تھے اللہ پا ک ہما رے حکمرانوں کو بھی اپنی رعایا سے ایسے ہی محبت کی تو فیق عطا فر ما ئے

انہی دنوں میں بڑا ہی مز یدار واقعہ پیش آیا ایک بندے نے بکری ذبح کی اور آپ ﷺ کو دعوت پر بلایا جو خندق کھو درہا تھا آپﷺ نے سب کو دعو ت دی وہ بندہ بڑا پر یشان ہو ا جس نے دعوت دی تھی اس نے بیو ی کو جا کر یہ با ت بتا دی نیک بیوی نے کہا کہ پر یشا ن کیو ں ہو تے ہو نبی پا ک ﷺ نے خؤ د ہی سب کو دعوت دی ہے تو ہمیں پر یشا ن ہو نے کی ضرورت نہیں ہے جب نبی پا ک ﷺ آئے تو انہوں نے ہا نڈی سے سالن اور چھا بی سے رو ٹیا ں لینے کا حکم دیا ایک ہزار سے بھی زیا دہ بندوں نے رو ٹی کھا ئی اور پھر بھی بچ گئے اسے کہتے ہیں معجزہ ادھر خندق کھو دی ادُھر دس ہزار کا لشکر حملہ کر نے آگیا خندق کی وجہ سے اس جنگ کو غزوہ خندق کہتے ہیں اس مر تبہ مد ینہ پر ایک دو قبیلے نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ بہت سے قبیلو ں نے مل کر کیا تھا عربی میں بہت زیا دہ لشکروں کو احزاب کہتے ہیں اسی وجہ سے اسےغزوہ احزاب کہتے ہیں

کو فروں کی چا لبا زیا ں :

جب وہ مد ینہ پہنچے تو وہ خندق دیکھ کر پر یشا ن ہو گئے کہ یہ کیا چیز ہے شروع شروع میں انہو ں نے خندق پا س کر نے کی کو شش کی مگر نا کا م رہے  جو بندہ خندق پا س کر نے کی کو شش کر تا اسے ٹھکا نے لگا دیا جا تا آگر سے کا فر بھی تیر چلا تے اسی طر ح ایک لڑائی میں انصار کے قبیلے اوس کے سرداع سعد کو بھی شدید چو ٹ آئی جس کی وجہ سے ان کے جسم سے بڑی تیزی سے خو ن نکلنے لگا انہو ں نے دعا کی کہ اے اللہ مو ت سے پہلے ان کا فر وں کا انجا م اور رسوائی دیکھا دے اللہ پا ک نے ان کی دعا سن لی او ر ان کاخو ن رُک گیا

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )

Leave a Reply