سیر ت النبی ﷺ حصہ 10

معرا ج کے واقعہ سے بہت بڑ ا سبق :

حر م سے بیت المقدس تک کے سفر کو اسراء اور بیت المقدس سے آسما ن وں کی سیر کو معراج کہتے ہیں ۔

اللہ پا ک  فر ما تی ہیں یہ کا م ایک ہی رات کے کچھ حصہ میں ہو گیا ۔

اس میں حیرا نی کی با ت بھی کو ئی نہیں ۔ کیو نکہ معراج کر وانے والی ذات اللہ پا ک کی تھی ۔ اور وہ اللہ     سبب کا م کر سکتا ہے ۔بلکہ صر ف اتنا کہ دے کہ ہو جا تو وہ اسی وقت ہو جا تا ہے ۔

لیکن کگا ر مکہ کو یہ با ت سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی ۔ انہیں جب بتا یا گیا کہ اس طرح محمد ﷺ کو ایک رات کے بھی حصہ میں معرا ج کر وائی گئی تو وہ مزا ق اڑانے لگے ۔ابو بکر ؑ سے کہنے لگے آپ کے دوست عجیب عجیب با تیں کر نے لگ گئے ہیں تو حضر ت ابو بکر فر ما نے لگے ۔ اس میں عجیب کیا ہے جب ہم نے یہ ما ن لیا کہ ایک  پلک جھپکنے سے پہلے جبر ئیل علیہ اسلا م آپ کے پا س آ جا تے ہیں تو پھر اس با ت کو ما ننے میں کیا عا ر ہے ۔

اللہ پا ک ہمیں بھی ان تما م با تو ں پر اسی طرح ایما ن لا نے کی تو فیق عطا فر ما ئے  جس طرح ابو بکر ؑ نے بل دلیل ما ن لیا  ۔ آمین

مگر کا فر و ں کو یہ با ت ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔ آخر کا ر انہو ں نے کہا کہ اگر آپ ﷺ ایک رات میں بیت المقد س گئے تھے تو اس کے با رے میں بتا ئیں کہ بیت المقدس کیسا ہے ؟ یعنی ابھی دودھ کا دودھ اور پا نی کا پا نی ہو جا ئے ۔ اپنی طرف سے انہو ں نے نبی کر یم ﷺ کو پھسا نے کی قو شش کی ، کیو نکہ سب کو علم تھا کہ آپ ﷺ اس سے کبھی بھی بیت المقدس نہیں گئے تھے ۔

یہ با ت تھی تو عجیب ہی کہ انسا ن جو جبھی بیت المقدس نہ گیا ہو اور جب اسے چند لمحا ت کے لئے جا یا جا ئے تو اس سے پو چھو کے وہا ں پر کیا کیا دیکھا ؟ بھلا یہ کو ئی عقل کی با ت ہے کہ چند لمحے کسی جگہ کو دیکھنے والے سے اس با رے میں سوال جوا ب کئے جا ئیں ۔ لیکن اگر یہ عقل کفا ر میں ہو تی تو چا ہیے کیا تھا ؟

اللہ پاک تو پھر اللہ ہی ہیں نا ۔ جب ان میں سے ان لو گو ں نے سو ال کیا جو  پہلے بیت المقد س جا چکے تھے کہ دیکھیں تو صحیح آپ ﷺ وہا ں کی با تیں صحیح بتا تے بھی ہیں کہ نہیں ؟تو رب کر یم نے آ پ ﷺ کے سا منے بیت المقد س کر دیا اور آپ ﷺ اسے دیکھ دیکھ کر اس کی بنا وٹ کے با رے میں بتا تے جا تے ۔

کفا ر تھے کہ حیرا ن اور پر یشا ن ہی رہ گئے ۔

لیکن نہ ما ننا تو ان کی صفت تھی ۔ یہ سب دیکھ کر بھی نہ ما نے ۔

اللہ پا ک ہمیں انکا ر کر نے والو ں کی طرح نہ بنا ئے اور ہمیں اپنی با ت  ما ننے والا بنا ئے ۔ آمین

اسبا ب ہجر تسے سفر ہجرت کے آگا ز تک

جیسا کہ یہ با ت پہلے گز ر چکی ہے کہ حج پر آنے والے افرا د  سے عمو ما آپ ﷺ منیٰ میں جمرہ عقبہ کی طرف جو ایک گھا ٹی تھی ، وہا ں ملا قات کر تے اور جو افراد مسلما ن ہو جا تے ان سے تو حید و نیک اعمال پر دوام و بد اعما ل سے اجتنا ب پر بیعت یعنی وعدہ لیتے ۔

اس سلسلہ کی با قا عدہ ابتدا ء  نبو ت کے گیا رہو یں سا ل ہو ئی ۔  یہ وہ سال تھا جس کے ما ہ شوا ل میں آپ ﷺ کی شا دی عا یشہ ؑ سے ہو ئی تھی ۔

اس سال زوالحجہ کے مہینے میں جب مکہ سے قر یب سا ڑ ھے چا ر سو کلو میٹر دور ، کھجو رو ں کی بستی ، یثر ب سے کچھ لو گ حج کر نے آئے ہو ئے تھے ۔ آپ ﷺ نے انہیں اسلا م کی دعوت دی اور چھ افر اد نے اسے قبو ل کر لیا ۔

ان نیک سیر ت افر اد نے اپنے علا قے میں جا کر نبی کر یم ﷺکی با تیں بتا ئیں تو کئی لو گ مسلما ن ہو گئے ۔

اس کے بعد واقعہ معراج پیش آیا جس کی تفصیلا ت بیا ن کی جا چکی ہیں ۔

بیعت عقبہ اولیٰ :

ان لو گو ں کی تبلیغ کا اثر یہ ہو ا کہ اگلے سا ل یعنی نبو ت کے با رہو یں سال ذوالحجہ میں حج کے موقعہ پر آپ ﷺکے پا س مز ید لو گو ں نے ا کر بیعت کی ۔ اس با ر ان کی تعداد با رہ تھی ۔ پا نچ پرانے والے اور سا ت نئے ۔

چو نکہ یہ بیعت جسے وعدہ بھی کہا جا ستا ہے وہ منی میں  جمر ہ عوبہ ، جسے حج کے دنو ں میں کنکر یا ں ما ری جا تی ہیں ، کے قر یب ایک گھا ٹی میں لی گئی تھی ، اس لئے اسے بیعت عقبہ اولی کہا جا تا ہے ۔

بیعت عقبہ ثا نیہ :

ان لو گو ں نے بھی واپس جا کر خو ب محنت سے اسلا م کی تبلیغ کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے سال یعنی نبو ت کے تیر ہو یں سال وہا ں سے 75 افرا د جن میں 72 مرد اور 3 عورتیں شا مل تھیں ،  نے آ کر اسی جگہ پر ذوالحجہ    میں بیعت کی ۔ اسی وجہ سے اسے بیعت عقبہ ثا نیہ کہا جا تا ہے ۔

        ان لو گو ں کو آپ ﷺ کی با تیں اتنی اچھی لگیں کہ انہو ں نے آپ ﷺ کو مستقل طو ر پر اپنے ولا قے میں آنے کی دعوت دے دی ۔

یہ بہت ہی اہم اور احسا س با ت تھی ۔  کیو نکہ جس علا قے میں آپ ﷺ کی پیدا ئش ہو ئی ، جہا ں جوا ن ہو ئے ، شا دیا ں ہو ئیں ، اولا د یں ہو ئیں ، رشتہ داریا ں تھیں ، اس علا قے کو آپ ﷺ نے اتنی تکلیفیں سہنے کے با وجو د نہیں چھو ڑا ۔ اب چند افراد کے بلا نے پر ہمیششہ کے لئے کیسے چھو ڑ دیتے ؟

جب انہو ں نے اس با ت کا وعدہ کیا کہ :

پر حا ل میں وہ با ت سنیں گے ۔

تنگی اور خو شحا لی میں ما ل خر چ کر یں گے ۔

نیکی کا حکم دیں گے اور برا ئی سے روکیں گے ۔

اللہ کے راستے میں کسی ملا مت کی پر واہ نہ کر یں گے ۔

اور جب آپ ﷺ ان کے پا س آ جا ئیں گے تو ان کی مدد کر یں ے اور ایسے حفا ظت کر یں گے جیسے کہ اپنی اور اپنے بچو ں کی کر تے ہیں ۔

تو آپ ﷺ نے انہیں جنت کی خو شخبر ی سنا ئی ۔ یہی اس بیعت کی یونی وعدے کی شفیں تھیں ۔

محمد صا رم (مسلم ریسرچ سنٹر سے اقتبا س )

Leave a Reply