سیرت النبی،مدینہ منورہ میں آمد

جن لو گو ں نے آپ ﷺ کو پہلے نہیں دیکھا تھا وہ خیا ل کر نے لگے یہ ابو بکر ہی رسول اللہ ﷺ ہیں اور وپ بہت گرم جو شی سےملنے لگےیہ با ت ابو بکرنے فو را محسو س کر لی اس وقت تک دھوپ بھی رسول اکرم ﷺ پر پڑنے لگی چنا نچہ ابو بکر نے اپنی چا در سے نبی کر یم ﷺ پر سا یہ کیا تب لو گو ں نے جا نا کہ یہ رسول اکر م ﷺ ہیں

پھر نبی کر یم ﷺ اس جگہ سے روانہ ہو ئے آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے ساتھ ساتھ بہت سے لو گ چل رہے تھے ان میں سے کچھ پید ل تھےاور کچھ سو ار تھے اس وقت مد ینہ منو رہ کے لو گو ں کی زبا ن پر یہ الفا ظ تھے

اللہ اکبر رسول اللہ ق تشریف لے آئے راستے میں آپ ﷺ کی خو شی میں حبشیو ں نے نیزہ با زی سے کر تب دیکھا ئے ایسے میں ایک شخص نے پو چھا اللہ کے رسول ﷺ آپ یہا ں سے آگے تشریف لے جا رہے ہیں کیا ہما رے گھروں سے اچھا کو ئی گھر چا ہتے ہیں

اس کے جو اب میں آپ ﷺ نے فر ما یا مجھے ایک ایسی بستی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیو ں کو کھا لے گی اس کا مطلب یہ تھا یہ دو سری بستیو ں کے لو گو ں پر اثر انداز ہو جا ئے گی یا ں دو سری بستیو ں پر فتح حا صل کر ے گی

یہ جو اب سن کر لو گو ں نے نبی کر یم ﷺ را ستہ چھو ڑ دیا اس کا جو اب بعد میں معلو م ہو ا وہ بستی مد ینہ منو رہ ہے مدینہ منو رہ کا پہلا نا م پثرب تھا پثرب ایک شخص کا نا م تھا جو حضرت نو ح کی اولا د میں سے تھا مد ینہ منو رہ میں نبی کریم ﷺ کی آمد جمعہ کے روز ہو ئی چنا نچہ اس روزپہلا جمعہ پڑھا گیا

مسجد نبو ی کی تعمیر :

جمعہ کی یہ پہلی نما ز مد ینہ منو رہ کے محلے بنی سا لم کی جس مسجد میں آپ نے جمعہ ادا کیا اب اس مسجد کو مسجد جمعہ کہا جا تا ہے یہ قبا کی طر ف جا نے والے راستے سے با ئیں طر ف ہے حضور اکرم ﷺ نے اس نما ز سے پہلے خطبہ دیا تھا جو خطبہ دیا تھا اس کا کچھ حصہ یہ تھا :

جو شخص اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا نا چا ہتا ہے تو بچا لے چا ہے وہ آدھے چھوارے کے برابر ہی کیو ں نہ ہو جسے کچھ بھی نہ آتا ہو وہ کلمہ طیبہ کو لا زم کر لے کیو نکہ نیکی کا ثواب دو گنا سے زیا دہ سا ت گنا ہ تک  ملتا ہے  اور سلا م ہو اللہ کے رسول پر اللہ کی رحمت اور بر کت ہو

نما زجمعہ جا نے کے بعد آپ ﷺ مد ینہ منو رہ کی طر ف روانہ ہو ئے او ر اپنی اونٹنی کی لگا م ڈھیلی چھو ڑ دی یعنی اسے اپنی مر ضی سے چلنے کی اجا زت دی اونٹنی نے پہلے دائیں با ئیں دیکھا جیسے چلنے سے پہلے اندازہ کر رہئ ہو کہ کس سمت جا نا ہے ایسے میں بنی سا لم کے لو گو ں ( یعنی جن کے محلے میں نما ز جمعہ اد کی گئی تھی )نے عر ض کیا :

اے اللہ کے رسول ﷺ ہما رے ہاں قیا م کر یں یہا ں لو گو ں کی تعداد زیا دہ ہے یہاں آپ ﷺ کی پو ری حفا ظت ہو گی یہا ں دو لت بھی ہے ہما رے پا س ہتھیا ر بھی ہےہیں اور با غا ت بھی ہیں یہا ں زندگی کی ضر ورت کی تما م چیز یں مو جود ہیں

آپ ﷺ ان کی با ت سن کر مسکر ائے ان کی با ت کا شکر یہ ادا کیا اور فر ما یا میری اونٹنی کا راستہ چھو ڑو اور یہ جہا ں جا نا چا ہے جا ئے کہو نکہ یہ ما مو ر ہے مطلب یہ کہ اللہ پا ک کے حکم سے یہ او نٹنی خو د چلے گی اور اسے اپنی منزل معلو م ہے آپ ﷺ نے ان حضرات کو دعا دی کہ اللہ پا ک تمھیں بر کت عطا فر ما ئے

اس کے بعد اونٹنی روانہ ہو ئی یہا ں تک کہ بنی بیا صہ کے محلے میں پہنچی یہا ں کے لو گو ں نے بھی فر یا د کی کہ اللہ کے نبی ﷺ ہما رے ہا ں ٹھہریں آپ ﷺ نے ان سے بھی یہ ہی کہا جو بنی سا لم سے کہا تھا اس طر ح بنی سا عدہ کے علا قے سے گزرے انہو ں نے بھی یہ ہی در خو است کی اور آپ ﷺ نے انہیں بھی یہ ہی جو اب دیا اونٹنی آگے بڑھی بنی عدی کے محلے میں داخل ہو ئی یہ آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کی ننھیا ل تھی ان لو گو ں نے عر ض کیا

ہم آپ ﷺ کے ننھیا ل والے ہیں اس لئے یہا ں قیا م فر ما ئیں یہا ں آپ ﷺ کی رشتے داری بھی ہے ہم تعداد میں بھی بہت ہیں آپ ﷺ کی ھفا ظت کر یں گے لہذا ہمیں چھو ڑ کر نہ جا ئیں

آپ ﷺنے انہیں بھی یہ ہی جو اب دیا کہ اونٹنی ما مو ر ہے اسے اپنی منزل معلو م ہے اونٹنی آگے بڑھی اور اس محلے کی ایک جگہ پر بیٹھ گئی یہ جگہ بن ما لک بن نجا ر کے محلے کے پا س تھی اور حضرت ابو ایو ب انصا ری کے روازے کے قر یب تھی

ابو ایوب کا نا م خا لد بن زید نجا ر ا نصا ری تھا یہ قبیلہ خزرج کے تھے بیعت عقبہ کے مو قعے پر مو جود تھے ہر مو قع پر رسول اکر م ﷺ کے ساتھ رہے حضرت علی کے دورہ خلا فت میں وہ حضرت علی کے بہت قر یبی معا ونین میں سے رہے ان کی وفا ت یزید کے دور میں قسطنطنیہ کے جہا د کے دو ران ہو ئی

کتا ب کے تا لیف عبداللہ فا رانی

Leave a Reply