قبروں سے متعلق احکامات

قبروں پر مجاور اور خادم بن کر بیٹھنا منکر اور بدعت ہے۔ یہ بتوں کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت اور یہودیانہ روش ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی اسی طرح کرتے تھے :
جیسا کہ : اللہ تعالیٰٰ کا فرمان عالی شان ہے :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ﴾ [26-الشعراء: 71، 70]
’’ جب (ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیاچیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہیں کے مجاور بنے رہتے ہیں۔ “
یز فرمایا :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ [21-الأنبياء:52]
’’ جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو ؟ “
ایک مقام پر یوں ارشاد باری تعالیٰٰ ہے :
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ [7-الأعراف:138]
’’ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے : اے موسیٰ ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دیں جیسے ان کے کچھ معبود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : یقینا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ “
نان بن ابی سنان دؤلی بیان کرتے ہیں :
أنه سمع أبا واقد الليثي، يقول وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما افتتح رسول الله مكة، خرج بنا معه قبل هوازن، حتى مررنا على سدرة الكفار، سدرة يعكفون حولها، ويدعونها ذات أنواط، قلنا : يا رسول الله، اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الله أكبر، إنها السنن، هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى : اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، قال إنكم قوم تجهلون ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنكم لتركبن سنن من قبلكم
’’ میں نے صحابی رسول سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ ہمیں اپنے ساتھ ہوازن قبیلے کی طرف لے گئے۔ ہم کفار کی ایک بیری کے پاس سے گزرے جس کے پاس وہ مجاور ی کرتے تھے اور اسے ذات انواط کا نام دیتے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جس طرح کفار کی ذات انواط ہے، اسی طرح ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر کر دیجیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! یہ گزشتہ امتوں کے طریقے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی کچھ معبود بنا دیں جیسے کفار کے معبود ہیں اور اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا : تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ضروربالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو گے۔ “ [صحيح ابن حبان: 6702، وسنده صحيح]
علامہ شاطبی (م : 790 ھ) اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
وصار حديث الفرق بهذا التفسير صادقا على أمثال البدع التي تقدمت لليهود والنصارى، وأن هذه الأمة تبتدع في دين الله مثل تلك البدع، وتزيد عليها بدعة لم تتقدمها واحدة من الطائفتين . . .
’’ اس تفسیر کے ساتھ (تہتر) فرقوں والی حدیث ان بدعتوں پر صادق آتی ہے جن کا ارتکاب یہود و نصاریٰ پہلے سے کرتے رہے ہیں، نیز معلوم ہوا کہ یہ امت بھی اللہ کے دین میں ایسی بدعتوں کا ارتکاب کرے گی بلکہ ایک زائد بدعت ایسی بھی کرے گی جس کا ارتکاب یہود و نصاریٰ نے نہیں کیا . . . [الاعتصام : 245/2] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخلت على عائشة فقلت : يا أمه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه رضي الله عنهما، فكشفت عن ثلاثة قبور، لا مشرفة ولا طئة مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء .
’’ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا : امی جان ! میرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کی قبریں کھولیں (یعنی اپناحجرہ کھولیں) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھولیں۔ نہ وہ اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین کے ساتھ برابر بچھی ہوئی تھیں۔ میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔ “ [سنن ابي داود : ح : 3220 وسنده صحيح]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں