نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد قران پاک کی آیت ملانے سے متعلق حکم

فرائض کی پہلی دو رکعات اور وتر، سنن و نوافل کی تمام رکعات میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی چھوٹی سورہ یا اس کے برابر بڑی آیت ملانا واجب ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ.
پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو۔
الْمُزَّمِّل، 73: 20
قرآن مجید سے صرف بآسانی قرأت کرنے کا حکم ملتا ہے جبکہ احادیثِ مبارکہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
أَمَرَنَا نَبِیُّنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَمَا تَیَسَّرَ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سورہ فاتحہ کے ساتھ جو قرآن کریم سے میسر آئے پڑھا کریں۔
o أحمد بن حنبل، المسند، 3: 45، رقم: 11433، مصر: مؤسسة قرطبة
o أبي داود، السنن، كتاب الصلاة، باب من ترك القراءة في صلاته بفاتحة الكتاب، 1: 216، رقم: 818، دار الفکر

سورۃ ملانے کا یہ حکم فرائض کی صرف پہلی دو رکعات کے لیے ہے جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن ابو قتادہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا:
کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَیْنِ الْأُولَیَیْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ یُطَوِّلُ فِي الْأُولَی وَیُقَصِّرُ فِي الثَّانِیَةِ وَیُسْمِعُ الْآیَةَ أَحْیَانًا وَکَانَ یَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ وَکَانَ یُطَوِّلُ فِي الْأُولَی وَکَانَ یُطَوِّلُ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَیُقَصِّرُ فِي الثَّانِیَةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد دو سورتیں پڑھتے۔ پہلی میں طویل قرأت کرتے اور دوسری میں مختصر رکھتے اور کسی آیت کو قصداً سنا بھی دیتے اور نماز عصر میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اور پہلی رکعت میں قرأت طویل فرماتے اور نماز فجر کی پہلی رکعت میں بھی قرأت فرماتے اور دوسری میں مختصر پڑھتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں