موت ایک اَٹل حقیقت ہے!

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میںموت کو ”اَجَل‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، ”اَجَل‘‘ کے معنی ہیں: ”کسی چیز کا مقررہ وقت ، جو کسی قیمت پر نہ ٹلے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”جب تم کسی مقررہ مدتِ ادائیگی تک قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لو‘‘ (البقرہ:282) اسی طرح فرمایا: ”جب موسیٰ علیہ السلام نے (شعیب علیہ السلام کی خدمت کی طے شدہ مدت) پوری کر لی تو اپنی بیوی کو لے کر چلے‘‘ ،(القصص:29) ان آیاتِ مبارَکہ میں مقررہ مدت کے لیے ”اَجَل‘‘ کا کلمہ آیا ہے۔ جس طرح فرد کے لیے ایک وقت مقرر ہوتاہے، اسی طرح قوموںکے عروج وزوال کا وقت بھی مقرر ہے، فرمایا: ”ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے، جب مقررہ وقت آ جائے گا تو ایک ساعت کی تقدیم و تاخیر نہیں ہو پائے گی‘‘، (الاعراف:34(
اسی طرح فرد کی موت کا بھی ایک وقت مقرر ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”بے شک اللہ کی طرف سے جب (موت کا) مقررہ وقت آ جائے، تو وہ ٹلتا نہیں ہے‘‘ (نوح:04) سو ”موت کا منظر‘‘ اور ”مرنے کے بعد کیا ہو گا‘‘ نامی کتابیں کوئی لکھے یا نہ لکھے، موت نے آنا ہی آنا ہے۔ میں نے بھی یہ کتابیں نہیں پڑھیں، صرف ان کا نام سنا ہے، لیکن قرآن و حدیث میں موت اور مابعدالموت کے اَحوال، محشر اور میزانِ عدل کے قیام، جزا و سزا کا نفاذ، جنت و جہنم میں دخول اور جنت و جہنم کے اَحوال تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں۔ ان کا مذاق کے طور پر ذکر کرنا قرآن و حدیث میں بیان کردہ غیبی حقیقتوں کی اہانت کے مترادف ہے۔ آخرت کے تصور کو ”مُردہ فکر‘‘ سے تعبیر کرنے کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور دنیا کی یہ زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور بے شک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے‘‘ ، (العنکبوت:64) علامہ اقبال نے کہا ہے ؎
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دومِ زندگی
۔ جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو اُس کے اوّلین مخاطبین کا تصورِ حیات بھی یہی تھا، جسے قرآن نے اِن الفاظ میں بیان کیا: ”اور انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور (اے مخاطَب!)کاش تو وہ منظر دیکھتا کہ جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے، (تب) اللہ فرمائے گا: کیا یہ (حیات بعدالموت)حق نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے پروردگار! یہ یقینا حق ہے، اللہ فرمائے گا: چونکہ تم (اِس روزِ جزا کا) انکار کرتے تھے، سو (اُس کی پاداش میں ) اب عذاب چکھو‘‘ ، (الانعام:30) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”(وہ کہتے ہیں) بس جو کچھ بھی ہے یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم جیتے ہیں اور مرتے ہیں اور ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے‘‘، (المؤمنون:37)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”دنیا میں اس طرح رہو، جیسے تم ایک (راہ چلتے) مسافر ہو یا کسی منزل کے راہی‘‘ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہا کرتے تھے: ”جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت سمجھو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت سمجھو‘‘ (بخاری:6414) یعنی دنیا کی عیش وعشرت میں مست رہ کر آخرت کوبھول جاؤ گے، تو موت کے وقت پچھتاؤ گے کہ کاش! میں نے آخرت کے لیے کوئی زادِ راہ جمع کیا ہوتا اور بیماری کے عالم میں انسان انتہائی چاہت و خواہش کے باوجود بہت سے کام نہیں کر سکتا تو عالَم صحت میں جب تمہاری ساری جسمانی، روحانی، عقلی اور فکری توانائیاں عروج پر ہیں، وہ اعمالِ خیر کیوں بجا نہیں لاتے تاکہ بعد میں کفِ افسوس نہ ملنا پڑے، اسی لیے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے(یعنی دنیا میں ایمان وعمل کی جو فصل کاشت کروگے ، آخرت میں اسی کا پھل ملے گا)‘‘ (اِحیاء علوم الدین، جلد:4،ص:24،فیض القدیر، جلد:3، ص:392)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں