میسیج کے ذریعے طلاق دینا

واٹس ایپ پر میسج اور وائس میسج کرنے سے شرعاً طلاق ہو جاتی ہے؟ کیونکہ قانون کی نظر میں طلاق نامہ پر یا پھر گواہوں کی موجودگی میں طلاق ہوتی ہے. اور میسج وغیرہ کو قانون نہیں مانتا.
دوسرا اگر شوہر اور بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہوں پر پچھلے 5 سال سے ایک دوسرے کے قریب تک نہ آئے ہوں. صرف بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کے لئے ہو بیوی. تو کیا ایسی صورت میں بھی طلاق کے بعد عدت ہوگی؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کا ایک مسلمان کا پتہ ہونا انتہائی ضروری ہے
ان کے جوابات کچھ اس طرح ہیں،
جب لڑکی کو اس کے شوہر نے واقعۃً میسج اور وائس میسج پر طلاق دے دی اور یہ تصدیق ہوگئی کہ میسج شوہر نے ہی بھیجا ہے تو اس صورت میں زوجین کے درمیان عقدِ نکاح ختم ہو گیا
وں کہ عدت طلاق کے بعد فوراً شروع ہوجاتی ہے خواہ معلوم ہو یا نہ ہو، مذکورہ صورت میں بھی جب 5 سال قبل شوہر نے طلاق دی تھی تو وقت طلاق سے عدت شروع ہوگئی تھی جوکہ 3 حیض اگر حاملہ نہ ہو اور اگر حاملہ ہو تو ولادت تک تھی، چاہے طلاق کے بعد بھی دونوں ایک ہی گھر میں رہے ہوں اور آپس میں کوئی تعلق بھی نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں