محرم الحرام میں شادی کرنا کیسا ہے؟؟؟

شریعتِ اسلامی میں عشرہ محرم الحرام سمیت سال کے کسی بھی دن شادی کرنے کی ممانعت نہیں ہے، مگر بسا اوقات حالات و واقعات اور سماجی و معاشرتی عوامل شادیوں کی تقریبات میں مانع ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری مشرقی ثقافت میں عزیز و اقارب اور ہمسائیوں وغیرہ کی غمی و خوشی میں شمولیت کو سماجی قدر سمجھا جاتا ہے۔ اگر محلے میں کسی ہمسائے کے ہاں یا دوسرے شہر میں موجود کسی عزیز کے ہاں کوئی المناک حادثہ پیش آ جائے تو ہم اپنے گھر میں ہونے والی خوشی کی تقریب منسوخ کر دیتے ہیں یا نہایت سادگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔امت کی اکثریت نے حضرت حسین سلام اللہ و رضونہ علیہ اور آپ کے رفقاء کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ کے طور پر دیکھا اور یوم عاشورہ یعنی 10 محرم الحرام کو یوم الحزن کے طور پر یاد کیا۔ اس لیے امتِ مسلمہ کے ہاں عشرہ محرم الحرام میں شادیوں یا خوشیوں کی دیگر تقریبات کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ البتہ مجبوری کی صورت میں‌ سادگی کے ساتھ نکاح کرنے میں حرج نہیں۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر خانوادہ رسالت کے شہدائے پر ہونے والے مظالم پر خوشیاں مناتا ہے اور اسی لیے عشرہ محرم میں خوشیوں کی تقریبات کا انعقاد کرتا ہے تو وہ یقیناً روحِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دینے کا مرتکب ہے اور اسے بروزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں