ماہ صفر کے بارے میں پائے جانے والے غلط عقائد

عرب والے دور جہالیت میں صفرکے مہینے کو منحوس سمجھتے تھے ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ ختم ہوتا اور صفر کے مہینے کا آغاز ہوتا تو عرب والے لڑائی بھڑائی کے لیے پھر گھروں سے روانہ ہوجاتے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے۔اس مناسبت سے بھی اس ماہ کو صفر کہا جانے لگا ۔جیسا کہ عرب والے کہتے ہیں صفرالمکان (مکان خالی ہو گیا )گویا ماہ صفر کے آغاز پر ہی لڑائیوں کی ابتدا ہوجاتی ، گھر خالی رہ جاتے اس لیے عرب والے ظہوراسلام سے قبل صفر کے مہینے کومنحوس منحوس سمجھتے تھے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بعض مسلمان بھائی صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہوئے شادی بیاہ کرتے ہوئے شادی بیاہ نہیں کرتے ۔لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے ۔سفر کرنا نامبارک سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اس من گھڑت نحوست کو دور کرنے کے لیے چنوں کو ابال کر گھنگیاں تقسیم کرت اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس سے نحوست اور بے برکتی دور ہو جاتی ہے ۔ یہ سب باتیں خوس ساختہ توہمات کا نتیجہ ہیں ۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا
“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرض کا متعدی ہونا نہیں (یعنی اللہ کے حکم کے بغیرکوئی مرض کسی دوسرے کو نہیں لگتا )اور نہ بدفالی ہے نہ ہامہ ہے اور نہ صفر ”
صحیح بخاری ، کتاب طب باب:415

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں