ماہ ربیع الاول

اولیائے الہی نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت کو ماہ ربیع الاول کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیا
اسی مبارک واقعہ کی وجہ سے ہی اس مہینے کو بہار کا نام دیتے ہیں،بنی نوع انسان کو دین اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جتنی برکات اور مہربانیاں حاصل ہوئی ہیں،اس مہینے کی شراکت دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے
اور یہ مہینہ حقیت میں دیگر مہینوں کی بہار ہےربیع الاول کے مقدس مہینے میں حصول برکات کیلئے ، عبادات کی کثرت (نماز، روزہ اور صدقات و خیرات) کیجئے۔ گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام اس مہینے میں کرنا چاہیے، جھوٹ ، غیبت، چغلی، ایذا رسانی، الزام تراشی، غصہ و برہمی وغیرہ سے اپنی ذات کو آلودہ نہ کیجئے، عید میلاد النبی (ص) کے دن اپنے چہروں پر مسکراہٹ سجائے رکھیے، کسی سے بھی جھگڑا کرنے سے اجتناب کیجیے۔
ماہِ ربیع الاوّل کو ایسے منایا جائے کہ دیکھنے والا ہمارے وجود اور کردار میں خوشی محسوس کرے۔ لہٰذا ماہِ صفر میں ہی استقبال ربیع الاوّل کے پروگرام اس نہج پرترتیب دینا شروع کر دیں۔
1. عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے چند روز قبل اپنے گھر کی صفائی کریں اور گھر کو خوب سجائیں۔
2. گھروں میں چراغاں اور جھنڈیاں لگا کرخوشی کا اظہار کریں۔
3. جس رات ربیع الاوّل کا چاند نظر آئے اس رات خوشی منائیں۔ اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کو ماہِ ربیع الاوّل پر آمد پر مبارکباد دیں۔
4. یکم ربیع الاوّل سے ہی شکرانے کے نوافل کا اہتمام کریں۔
5. 12 ربیع الاوّل کیلئے خصوصی لباس بنوائیں جیسے آپ باقی دو عیدوں پر اس کا اہتمام کرتی ہیں۔
6. اپنے بچوں کو بھی ماہ میلاد سے قبل ہی اس ماہ کی اہمیت بتائیں اور انہیں بھی نئے کپڑے بنوا کر دیں۔
7. عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مہندی اور چوڑیوں کا اہتمام کریں۔
8. آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں بچوں میں شیرینی بانٹیں تاکہ شعوری طور پر بچوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کا احساس پیدا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں