ماں کی عظمت

.. اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
اسی طرح سورہ بنی اسرائیل کی آیت 24 اور 25 میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’تیرے رب نے اس بات کا تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور نیز یہ کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کسی ایک پر یا ان دونوں پر تیری زندگی میں بڑھاپا آ جائے تو انہیں ان کی کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اُف تک نہ کہہ اور نہ انہیں جھڑک اور ان سے ہمیشہ نرمی سے بات کر‘‘۔
اوروالدین کیلئے یہ دعا سکھائی کہ ’’اور رحم کے جذبہ کے ماتحت ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کرو اور ان کیلئے دعا کرتے وقت کہا کہ اے میرے رب! ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی‘‘۔
ایک اور جگہ سورۃ النساء آیت37 میں فرمایا: ’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ بہت احسان کرو‘‘۔
پھرسورۃ احقاف آیت 16 میں فرمایا: ’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے احسان کی تعلیم دی تھی کیونکہ اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں اٹھایا تھا اور پھر تکلیف کے ساتھ اس کو جنا تھا اور اس کے اٹھانے اور اس کے دودھ چھڑانے پر تیس مہینے لگے تھے‘‘۔
قرآن کریم کی ان جملہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ غیر معمولی حُسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ایسی تاکید فرمائی ہے کہ کسی بھی لمحے والدین کی خدمت اور ان کی تعظیم سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔
والدین کی غیر معمولی خدمت اور ان کی عزت و تکریم کرنے کی وجہ یہ فرمائی ہے کہ ہمارے والدین نے ہماری پیدائش اور پرورش میں بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کیا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ یہ حق رکھتے ہیں اور اولاد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے اور ان کی غیر معمولی خدمت کی جائے۔
ضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے! آپ نے فرمایا: تیری ماں۔ پھر اس نے پوچھا۔ پھر کون! آپ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پھر پوچھا پھر کون ! آپ نے فرمایا : ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مٹی میں ملے اس کی ناک مٹی میں ملے اس کی ناک (یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے) یعنی ایسا شخص قابل ندامت اور بدقسمت ہے۔ لوگوں نے عرض کیا۔ حضور! کونسا شخص؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوسکا۔
حضرت ابوعبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی بہترین نیکی یہ ہے کہ والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے جب کہ اس کا والد فوت ہو چکا ہو یا کسی اور جگہ چلا گیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں