جانوروں کی زکوٰۃ

جانوروں کی تعریف
چوپائے/جانور
اونٹ،گائے، بیل اور بکریاں
جانوروں کی زكات کا حکم
جانوروں پہ زكات واجب ہے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں ” ہر وہ آدمی جو اونٹ، گائے اور بکریوں کے ریوڑ کا مالک ہو اور ان کی زكات ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ تمام جانور دنیا کے مقابلے میں بہت بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئینگے اور اسکو سینگوں کے ساتھ گھسیٹیں گے اور سر سے کھروں کے ساتھ اوندھنا شروع کریں گے یہاں تک ہ آخر تک پہنچ جائیں گے اور پھر واپس لوٹینگے اور یہ عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ انسانوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ “[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]
جانوروں کی زكات واجب ہونیکی شرائط
1۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ان پر مالک کی ملکیت میں ہوتے ہوئے سال گزر جائے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں ” مال میں اس وقت تک زكات واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر سال نہ گذر جائے۔ “[اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]
2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ جانور چرنے والے ہوں کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں کہ ” چرنے والے ہر 40 اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے “[ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]
والابل سائمۃ: ان اونٹوں کو کہتے ہیں کہ جن کی غذا زمین پر اگنے والی گھاس ہوتی ہے اور انکا گذارہ چرنے پر ہوتا ہے۔
والکلا المباح: اس گھاس کو کہتے ہیں جو انسان کے اگائے بغیر اللہ کے حکم سے اگ آتا ہے۔ اور وہ اونٹ جن کی غذا کھیتی ہو یعنی انسان کی بھیجی ہوئی گھاس ہو اسکو سائمہ نہیں کہتے اور نہ ہی ان پر زكات ہے۔
3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ان سے دودھ اور نسل کے اعتبار سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہو اور کام نہ لیا جاتا ہو۔ کام کرنے والے اونٹ یعنی وہ اونٹ جن کو کھیتی باڑی، زمین کو سیراب کرنے، سامان ایک جگہ سےدوسری جگہ منتقل کرنے اور بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو، ان پہ زكات نہیں ہے۔
کیونکہ یہ اونٹ کپڑوں کی طرح انسان کی ضروریات اصلیہ میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہ اونٹ جو کرایہ پر دیے جاتے ہوں ان پر بھی زكات نہیں ہے۔ البتہ ان سے حاصل ہونے والا کرایہ اگر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گذر جائے تو اس پرزكات ہے۔
4۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ جانور نصاب شرعی کو پہنچ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں