جنت اور جہنم كے مرتبے اور درجات

اول :
تعداد كےبارہ ميں گزارش ہے كہ جنت بھي ايك ہے اور جہنم بھي، ليكن ان دونوں كےمرتبے اور منزليں كئى ايك ہيں، اور سنت نبويہ ميں بعض اوقات انہيں جمع كےصيغہ سے ذكر كيا گيا ہے جس سے تعدد جنس مراد نہيں، بلكہ اس كي عظمت اور درجات اور انواع واقسام يا پھر اس ميں داخل ہونے والے كے اجروثواب كي عظمت كي طرف اشارہ ہے.
جيسا كہ انس بن مالك رضي اللہ تعالى كي حديث ميں ہےكہ ام الربيع بنت البراء جو ام حارثۃ بن سراقہ رضى اللہ تعالى عنہا ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں اور كہنےلگيں: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا آپ مجھے حارثہ كےبارہ ميں كچھ بتائيں گے اور وہ بدر كي لڑائي ميں ايك نامعلوم تير لگنے كي بنا پر شہيد ہوگئے تھے، اگر تو وہ جنت ميں ہيں تو صبر كرتى ہوں اور اگر اس كےعلاوہ كوئي معاملہ ہے تو ميں اس پر رونے كي كوشش كرتى ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اے ام حارثہ وہ جنتوں ميں سے ايك جنت كےاندر ہے.
اور ايك روايت ميں ہے كہ” بيشك جنتيں بہت ساري ہيں ، اور تيرا بيٹے كو فردوس اعلى ملي ہے” صحيح بخاري حديث نمبر ( 2809 ).
دوم:
دنيا ميں كفار كےكفر كےمختلف ہونے كےاعتبار سے جہنم كےدرجات اور طبقات بھي مختلف ہيں، اور منافقين جہنم كےسب سے نچلےطبقے ميں ہونگے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا ہے:
منافق تو يقينا آگ كے سب سےنچلے طبقہ ميں جائيں گے، اوريہ ناممكن ہے كہ تو ان كے لئے كوئي مددگار پائے النساء ( 145 ) .
اور آگ كا سب سےہلكا اور كم تر طبقہ – اللہ تعالى اس سے محفوظ ركھے – وہ ہے جس كي جانب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےمندرجہ ذيل حديث ميں كيا ہے.
نعمان بن بشير رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” عذاب كےاعتبار سے سب سے كم تراور ہلكا ترين عذاب يہ ہوگا كہ جس كےلئے آگ كےجوتےاور تسمے ہوں ”
اور ايك روايت ميں ہے كہ: اس كےپاؤں كي ايڑي ميں دو انگارے ركھے جائيں گے، جس سے اس كا دماغ اس طرح ابلے گا جس طرح ہنڈيا ابلتى ہے، اور وہ يہ سمجھےگا كہ اس سے زيادہ كسي كو عذاب نہيں ہورہا حالانكہ اسے تو سب سے ہلكا اور كم عذاب ديا جا رہا ہے” صحيح بخاري حديث نمبر ( 6562 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 212 ).
اور مسلم شريف كي ايك روايت ميں اس كي تعيين بھى آئي ہے كہ يہ شخص نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا چچا ابو طالب ہے جس پر اللہ تعالى نے عذاب كي تخفيف اس لئے كى كہ اس نے اسلام كےابتدائي دور ميں اسلام كي حمايت بہت كى .
سوم :
جنت كے درجات كي تحديد معلوم نہيں، يہ كہا جاتا ہے كہ قرآن كريم كي آيات كي تعداد جتنےجنت كےدرجات ہيں، اور يہ قول مندرجہ ذيل حديث سے اخذ كيا گيا ہے:
عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” صاحب قرآن ( حافظ ) كو كہا جائےگا كہ قرآن پڑھتےجاؤ اور چڑھتے جاؤ اور جس طرح تم دنيا ميں قرآن مجيد كي تلاوت كرتےتھے اس طرح ترتيل كےساتھ تلاوت كرو اور جہاں تم آخري آيت پڑھو گےوہي تماري منزل اور مقام ہوگا” سنن ابو داود حديث نمبر ( 1464 ) جامع الترمذى حديث نمبر ( 2914) اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں