جہنم میں داخل ہونے والے پہلے تین طرح کے لوگ

ایک مرتبہ شفیا اصبحی مدینہ آئے، دیکھا کہ ایک شخص کے گرد بھیڑ لگی ہوئی ہے،پوچھا کون ہیں، لوگوں نے کہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، یہ سن کر شفیا اصبحی ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے حدیث بیان کررہے تھے،جب حدیث سنا چکے اور مجمع چھٹ گیا تو شفیا نے ان سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے جس کو آپ نے ان سے سنا ہو سمجھا ہو، جانا ہو،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایسی ہی حدیث سناؤں گا،یہ کہا اور چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے ،تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو کہا میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اوراس وقت میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی تیسرا شخص نہ تھا اتنا کہہ کر زور سے چلائے اورپھر بیہوش ہوگئے،
افاقہ ہوا تو منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا،میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اور وہاں میرے اورآپ کے سوا کوئی شخص نہ تھا یہ کہا اور پھر چیخ مار کر غش کھا کر منہ کے بل گرپڑے،
شفیا اصبحی نے تھام لیا اور دیر تک سنبھالے رہے، ہوش آیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن جب اللہ بندہ کے فیصلہ کے لئے اترے گا تو سب سے پہلے تین آدمی طلب کئے جائیں گے عالم قرآن ،راہ خدا میں شہید ہونے والا اور دولتمند ،
پھر اللہ عالم سے پوچھے گا کیا میں نے تجھ کو قرآن کی تعلیم نہیں دی،
وہ کہے گا ہاں، اللہ فرمائے گا تو نے اس پر عمل کیا ؟
وہ کہے گا میں رات دن اُ س کی تلاوت کرتا تھا ،
اللہ فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو اس لئے تلاوت کرتا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کا خطاب دیں؛چنانچہ خطاب دیاگیا،
پھردولت مند سےپوچھے گا ،کیا میں نے تجھ کو صاحب مقدرت کرکے لوگوں کی احتیاج سے بے نیاز نہیں کردیا! وہ کہے گا ہاں خدایا،فرمائے گا تونے کیا کیا،
وہ کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا،صدقہ دیتا تھا، خدافرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ؛بلکہ اس سے تیرا مقصد یہ تھا کہ تو فیاض اورسخی کہلائے اورکہلایا ،
پھر وہ جسے راہ خدا میں جان دینے کا دعویٰ تھا پیش ہوگا ،اس سے سوال ہوگا تو کیوں مار ڈالا گیا،وہ کہے گا تونے اپنی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا میں تیری راہ میں لڑ ااور مارا گیا،
خدا فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے تو چاہتا تھا کہ دنیا میں جری اوربہادر کہلائے تویہ کہا جاچکا ،
یہ حدیث بیان کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پہلے ان ہی تینوں سے جہنم کی آگ بھڑ کائی جائے گی،
جضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنی تو کہا جب ان لوگوں کے ساتھ ایسا کیا گیا تو اور لوگوں کا کیا حال ہوگا، یہ کہہ کر ایسا زار وقطار روئے کہ معلوم ہوتا تھا کر مرجائیں گے جب ذراسنبھلے تو منہ پر ہاتھ پھیرکر فرمایا خدا اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہےکہ۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں